بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عمرانی ٹوٹکے


حالیہ دنوں میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل کر گلیوں اور سڑکوں پر آ گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غریبوں کی ٹوٹتی ہوئی کمر میں زور و شور سے اضافہ ہو رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی میں جب عمرانی ٹوٹکے جو معاشیات کے لیے ہیں وہ عوام کے لیے پتہ نہیں کیا ثابت ہوں گے ۔ جہاں غریب کا چولہا دو وقت بھی نہیں جلتا وہاں پر ایک حضرت فرماتے ہیں کہ ملک کے لیے اتنی قربانی نہیں دے سکتے کہ روٹی کم کھا لیں اور چینی کے چند دانے کم استعمال کریں۔ صبر اور ملک کی محبت میں قربانی کی تلقین کا فرمان جاری ہوا تو غریب پریشان! کیوں کہ اس نے سوشل میڈیا پر زبیدہ آپا کے ٹوٹکے بھی نہیں سنے تھے۔ تو یہ معاشیاتی ٹوٹکے کہاں سے سمجھ میں آتے۔

ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کو تو غریب نہیں جانتا مگر ادھر ایک بڑے ادارے کا سربراہ معاشیاتی ٹوٹکے میں کہتا ہے ڈالر کی قدر میں اضافہ بیرونی ملک بسنے والے پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ ہائے غریب کی قسمت! بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو وہاں شاد و آباد رکھے۔ غریب کو تو نہیں معلوم مگر آپ تو بخوبی واقف ہیں کہ ملک ترسیلات زر (remittance) سے نہیں چلتے۔ وہاں ایک موصوف مزاحیہ ٹوٹکا سنا کر کہتا ہے کہ پاکستان سستا ترین ملک ہے۔ غریب پریشان کہ دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں۔ صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دوسری ضروریات تو نام میں ہی سنتے ہیں۔

غضب تو تب ہوا جب ایک وفاقی وزیر کہتا ہے کہ ”مہنگائی کی شرح بڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی قوت خرید بھی بڑھی ہے“ یعنی لوگ زیادہ خریداری کر رہیں ہیں۔ اب غریب کو معاشیات کا علم تو نہیں مگر اتنا معلوم ہے کہ آمدنی بڑھنے سے قوت خرید بڑھے گی۔ موصوف آگے جا کر کہتے ہیں کہ جی ڈی پی بڑھنے کی وجہ سے قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک تو یہ اعداد شمار جو آپ کے بیان کردہ ہیں جس میں جی ڈی پی بڑھی ہے۔ مگر ہائے علم معاشیات!

کارل مارکس، ایڈم سمتھ، ڈیوڈ ریکارڈو، الفرڈ مارشل سمیت سارے ماہرین معاشیات حیران و پریشان کہ جی ڈی پی بڑھنے سے قوت خرید بڑھتی ہے۔ ہاں بڑے سرمایہ داروں اور مالکان کو جلد فائدہ ہو سکتا ہے مگر ملازمین و مزدوروں پر کچھ برس بعد اطلاق ہوتا ہے ویسے ایسی معاشیات کہاں پڑھائی جاتی ہے یہ تو جناب خود بتائیں گے۔

ان عمرانی ٹوٹکوں میں غریب پریشان و حیران کہ یا الٰہی! ملک کے لیے قربانی دے کر روٹی کم کھاؤں جو ویسے ہی اس ملک عزیز میں میسر نہیں یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے دعا گو بنو تاکہ ڈالر کی قدر اور بڑھے۔ قوت خرید تو بس میں نہیں، معاشیات کا علم مجھے نہیں۔ سستے ملک کا پتہ مجھے نہیں معلوم ہاں بس اتنا معلوم ہے کہ پچھلے کئی دنوں سے بھوک کے عالم میں ہوں، روٹی کے بجائے صبر و شکر کا نام دے کر بچوں کو سلاتا ہوں

Facebook Comments HS