79851 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا حساب کون لے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ نے آج اے پی سی سانحہ کیس کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کو فوری طور سے طلب کیا اور دہشت گردی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے بارے میں استفسار کیا۔ آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملہ میں 132 طالب علموں سمیت 149 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس سنگین سانحہ پر تشویش کا اظہار کرنے والی عدالتی سماعت میں البتہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ گزشتہ بیس برس کے دوران دہشت گرد کارروائیوں میں جان گنوانے والے باقی ماندہ 79851 افراد کی ہلاکت کا حساب کون لے گا؟

سپریم کورٹ نے آرمی پبلک اسکول سانحہ کے معاملہ میں اٹارنی جنرل کے نامکمل اور غیر اطمینان بخش جواب کے بعد وزیر اعظم کو طلب کیا تھااور ان سے دریافت کیا کہ دسمبر 2014 میں اے پی سی حملہ کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔ عمران خان نے عدالت میں سیاسی تقریر سے کام چلانے کی کوشش کی لیکن عدالت کا اصرار تھا کہ اس حملہ میں کوتاہی کے مرتکب تمام لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس پر وزیر اعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت حکم دے ، حکومت اس پر عمل کرے گی۔ ان کی نظر میں کوئی ’مقدس گائے‘ نہیں ہے۔ عدالتی سماعت کے دوران کوئی واضح بات سامنے نہیں آئی ، جس کے بعد عدالت عظمی کے سہ رکنی بنچ نے حکومت کو 4 ہفتے میں اس معاملہ میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ حیرت ہے کہ دعویٰ تو کیا جاتا ہے کہ کوئی قانون سے بالا نہیں ہے لیکن وزیر اعظم سپریم کورٹ میں بھی کسی بے نام ’مقدس گائے ‘ کا حوالہ دینا نہیں بھولتے۔

سات سال پرانے دہشت گردی کے ایک واقعہ پر سپریم کورٹ کی مستعدی اگرچہ قابل تعریف ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات حیرت و پریشانی کا موجب ہونی چاہئے کہ ایک سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کی دل جوئی کے لئے تو سپریم کورٹ کے جج اتنے بے چین ہیں کہ وزیر اعظم کو طلب کرکے ان سے سخت سوال کئے گئے اور انہیں آئین کی کتاب دکھاتے ہوئے باور کروایا گیا کہ ملک کا دستور ہر شہری کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے اور حکومت پر اس سلسلہ میں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تاہم سخت سوالات اور وزیر اعظم کے افغانستان کے حالات، پرائی جنگ میں شرکت کی غلط پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کے بارے میں تفصیلی سیاسی تقریر کے باوجود یہ بات وہیں رکی ہوئی ہے کہ حکومت رپورٹ پیش کرے۔ سپریم کورٹ کے تازہ حکم میں کہا گیا ہے کہ چار ہفتوں میں اے پی سی معاملہ میں پیش کی جانے والی رپورٹ پر وزیر اعظم کے دستخط ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کا یہ حکم اپنی اتھارٹی کے غیر ضروری اظہار کے سوا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ نہ ہی اٹارنی جنرل کی ایک کوتاہی پر وزیر اعظم کو اچانک عدالت میں طلب کرنے سے ملکی حالات میں کوئی تبدیلی واقعہ ہوگی۔ آج دن کے دوران سپریم کورٹ میں رونما ہونے والا واقعہ اور کی گئی گفتگو سے البتہ یہ بات ضرور واضح ہؤا ہے کہ خود پسندی اور اپنی بات پر اصرار کا جو رویہ معاشرے میں عام طور سے راسخ کرگیا ہے ، عدالت عظمی بھی اس سے پوری طرح محفوظ نہیں ہے۔ اگرچہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کو ایک مجرمانہ فعل پر ذمہ دار قرار دینا بے حد اہم ہے لیکن کیا اس ذمہ داری کا تعین وزیر اعظم کو طلب کرکے اور ان سے سخت سوال کرنے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے؟ اور کیا کوئی سرکاری رپورٹ وزیر اعظم کے دستخط کے بغیر بے وزن اور نامکمل رہے گی؟

عدالت عظمی کے ججوں کی طرف سے ایسے اشاریے ملکی نظام میں اداروں کے درمیان کمزور تعلق کی علامت ہیں۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سمیت کوئی بھی ادارہ نہ تو حالات و واقعات کی ذمہ داری قبول کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی  اپنے بعض خام اقدامات کے منفی اثرات کا جائزہ لینا ضروری سمجھتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے آج ملک کے منتخب وزیر اعظم کے ساتھ جو سلوک روا رکھنا ضروری خیال کیا، اس سے ملک میں جمہوری نظام کی بے بسی کے بارے میں نئے شبہات پیدا ہوں گے۔ اس وقت ملک میں رونما ہونے والے واقعات اور عمران خان حکومت پر چہار طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی صورت میں عدالتوں کی طرف سے وزیر اعظم کو زچ کرنے کی بجائے ، یہ واضح کرنا اہم ہوتا کہ ملکی عدالتیں کسی بھی صورت میں ملک کے آئینی جمہوری نظام کے خلاف کوئی اقدام قبول نہیں کریں گی۔ سپریم کورٹ کے جج اگرچہ وقتاً فوقتاً یہ یقین دہانی کرواتے رہے ہیں لیکن ماضی میں فوجی آمریت کو جواز فراہم کرنے کے لئے عدالت عظمی کے فیصلے جمہوریت کو کمزور کرنے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ اس لئے ایک ایسے وقت میں جب آثار یہ بتاتے ہیں کہ ملکی عسکری اسٹبلشمنٹ ایک بار پھر منتخب حکومت سے ناراض ہے، سپریم کورٹ کی طرف سے بھی منتخب وزیر اعظم ہی کو کٹہرے میں کھڑے کرنے کے فیصلے سے کوئی خوشگوار امید پیدا نہیں ہوگی۔

آج کی عدالتی کارروائی میں وزیر اعظم عمران خان نے اس سرکاری مؤقف کو دہرایا کہ دہشت گرد گروہوں کے حملوں میں 80 ہزار پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے ہیں ۔ وہ اس کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کو قرار دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ انہیں ہلاکتوں میں سے ایک ایسے معاملہ کی سماعت کررہی ہے جس میں 149 بچے اور بڑے شہید کئے گئے تھے۔ آرمی پبلک اسکول پر حملہ اور اس میں ہونے والی خوں ریزی پاکستانی تاریخ کا سیاہ باب ہے اور ضرور ملک کے ہر ادارے کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ایسا کوئی واقعہ پھر سے رونما نہ ہو۔ البتہ دہشت گردی کا یہ واقعہ ملک کے مختلف حصوں میں بم دھماکوں یا خود کش حملوں میں سے ایک تھا جس میں دہشت گردوں نے معصوم اور بے گناہ انسانوں کو بے دریغ قتل کیا۔ اگر پاکستان کا آئین ہر پاکستانی شہری کی جان کا ضامن ہے تو ایک واقعہ میں کوتاہی پر غور کرتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ باقی ماندہ سانحات میں 79851 افراد نے جان سے ہاتھ دھوئے تھے۔ وہ بھی کسی کا جگر گوشہ اور کسی گھر کا چراغ تھے۔ کوئی عدالت یا حکومت انسان کشی کے ایک واقعہ پر غور کرتے ہوئے بڑی تصویر سے صرف نظر نہیں کرسکتی۔ آج عدالت میں ججوں کی آبزرویشنز اور وزیر اعظم کے جوابات اس احساس ذمہ داری کا پرتو نہیں تھے۔

سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ میں شامل چیف جسٹس گلزار احمد سمیت باقی ججوں نے ضرور ملک میں قتل و غارت گری میں ملوث گروہوں کے بارے میں حکومتی رویہ پر سوالات اٹھائے لیکن یہ بھی اسی تصویر کا افسوسناک پہلو ہے کہ ان سوالات کے بعد تحریک لبیک پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کے مصالحانہ رویہ کا نوٹس لینے، اس صورت حال کو عدالتی حکم کا حصہ بنانے یا حکومت سے یہ باقاعدہ استفسار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ ملک میں ہزاروں افراد کے قاتلوں کو کس قانون و آئین کے تحت عام معافی دینے کا ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے؟ جسٹس قاضی امین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ آپ کی حکومت نے معاہدہ کیا ہے جبکہ احتجاج کے دوران 9 پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا تو کیا ان کی جانیں ہماری جانوں سے کم قیمتی تھیں؟ ‘ وزیر اعظم نے دیگر سوالوں کی طرح اس سوال کا بھی کوئی براہ راست جواب نہیں دیا لیکن یہ بات بھی نوٹ ہونی چاہئے کہ فاضل ججوں نے بھی اس پہلو کو عدالتی کارروائی کا باقاعدہ حصہ بنانے یا ازخود نوٹس کے تحت شہید پولیس افسروں کو انصاف دلانے کے کسی عزم کا اظہار نہیں کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی کارروائی کے کے علاوہ آج روزنامہ ڈان نے ایک رپورٹ میں ان واقعات کی تفصیلات بھی بتائی ہیں جن کی وجہ سے ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرنے کے بعد اسے واپس لے لیا گیا اور اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے چند ہزار مظاہرین کو طاقت سے روکنے کی بجائے مفتی منیب الرحمان کی ثالثی میں ان سے معاہدہ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کارروائی کا حکم دے چکے تھے لیکن فوجی قیادت ایسی کسی خوں ریزی کے خلاف تھی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم کو مطلع کیا تھا کہ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے لال مسجد اور ماڈل ٹاؤن سانحات کے اثرات پر غور کرلیا جائے۔ اس کے باوجود اگر سیاسی فیصلہ ساز یہ بھاری قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں تو فوج کارروائی کرے گی۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی والا معاملہ ہوگیا۔

ایک ممتاز انگریزی روزنامہ میں ’باخبر ذرائع‘ کے حوالے سے اس خبر کی اشاعت کی کوئی وجہ تسمیہ تو ہوگی؟ ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدہ کے بعد حکومت کی اتھارٹی اور ریاستی رٹ کا پول کھلا ہے اور عام لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ زور ذبردستی پر اترنے والا کوئی بھی گروہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتا ہے کیوں کہ ریاست کے دیگر ادارے حکومت کا حکم ماننے کی بجائے اسے خوف دلا کر معاملہ حل کروا نے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جب وزیر اعظم سے ٹی ایل پی اور ٹی ٹی پی کے بارے میں ذو معنی سوال کررہے تھے تو انہیں بھی اس صورت حال کے بارے میں آگاہ ہونا چاہئے تھا۔ یا عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کو ریاضی کا فارمولا اور اتھارٹی کے اظہار کا طریقہ بنا لینا ہی کافی سمجھا جارہا ہے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2034 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments