شکیب جلالی اور اردو ادب کے وہ شاعر، جنھوں نے موت کے دامن میں پناہ لینے کو ترجیح دی

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ثروت حسین کا ایک شعر یاد آرہا ہے:

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں

عالمی ادب کے منظرنامے پر ایسے ادیبوں اور شاعروں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جنھوں نے زندگی کی الجھنوں سے گھبرا کر خودکشی کے دامن میں پناہ لی۔

ان ادیبوں اور شاعروں میں سیفو، ارنسٹ ہیمنگوے، سلویاپلاتھ، این سیکسٹن،ورجینیا وولف، ایڈگر ایلن پو، مایا کوسکی، یوکیومشیما، رضا کمال شہزاد، صادق ہدایت اور فرخی یزدی کے نام سرفہرست ہیں۔

اردو ادب کے منظرنامے پر بھی ایسے کئی شاعروں اور ادیبوں کے نام نظر آتے ہیں جنھوں نے زندگی کے بکھیڑے سے موت کے دامن میں پناہ لینے کو ترجیح دی۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام ادیب اور شاعر اس وقت اپنی شہرت کے عروج پر تھے اور ان سب کی عمر 25 سے 50 سال کے درمیان تھی۔

ان میں دو ایک ایسے ادیب بھی ہیں جن کی خودکشی کے بارے میں تو کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا مگر وہ خودکشی کا رجحان رکھتے تھے اور ایک دن ایسے غائب ہوئے کہ پھر ان کا کچھ اتا پتا نہ ملا۔ ان میں شمس آغا اور شبیر شاہد کے نام سرفہرست ہیں۔

اردو ادب میں اس موضوع پر ڈاکٹر صفیہ عباد نے پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھا جو بعدازاں ’راگ رت، خواہش مرگ اور تنہا پھول‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔

اردو ادب میں جس شاعر کی خودکشی کے واقعے نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ شکیب جلالی تھے۔

شکیب جلالی کا اصل نام سید حسن رضوی تھا۔ وہ یکم اکتوبر 1934 کو علی گڑھ کے قریب ایک قصبے جلالی میں پیدا ہوئے تھے۔

ڈاکٹر صفیہ عباد نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں لکھا ہے کہ ’جب شکیب کی عمر تقریباً نو، دس برس تھی تو ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد سید صغیر حسین نے ان کی والدہ کو ٹرین کے سامنے دھکا دے دیا، اس حادثے میں شکیب کی والدہ کی موت واقع ہو گئی۔ یہ حادثہ بریلی ریلوے سٹیشن پر پیش آیا۔

’شکیب کے والد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ محکمہ پولیس میں ملازم تھے، وہاں سے کسی معاملے میں معطل ہوئے تو انھوں نے وظائف شروع کر دیے اور چلے کاٹے جس سے ان کا دماغی توازن بگڑنے لگا۔ وہ کچھ عرصہ پاگل خانے میں بھی داخل رہے لیکن صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہ آئی۔

’وہ کچھ روحانی تجربے کرتے تھے اور پیری مریدی کے قائل تھے۔ کچھ لوگ انھیں پاگل یا دیوانہ کہتے تھے اور کچھ انھیں پہنچا ہوا بزرگ گردانتے تھے۔ ان کی ذہنی حالت کو کچھ بھی کہا جائے یہ بات طے ہے کہ وہ ایک نارمل انسان نہیں تھے اور ان کی اسی کیفیت نے ایک روز ان کی بیوی کی جان لے لی۔‘

زیبا نورین نے اپنی کتاب ’جسم و جاں سے آگے‘ میں لکھا ہے کہ ’شکیب کی والدہ نے لب مرگ سسکتے ہوئے پولیس کو بیان لکھوایا کہ یہ حادثہ ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے پیش آیا ہے نیز یہ کہ ان کے شوہر کا ذہنی توازن بھی درست نہیں، بے پناہ عبادت و ریاضت سے وہ آپے میں نہیں رہتے لیکن ان کا بیان بھی صغیر حسین صاحب کو گرفتاری سے نہ بچا سکا کیوںکہ واقعے کے عینی شاہدین موجود تھے اور انھوں نے موصوف کو بیوی کو دھکا دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ 1944 کا واقعہ ہے۔‘

والدہ کی اندوہناک وفات کے وقت شکیب جائے حادثہ پر موجود تھے۔ یہ واقعہ ان کے ذہن سے کبھی محو نہ ہوا اور ایک کبھی نہ ختم ہونے والی نفسیاتی بیماری اور ذہنی عدم توازن کی صورت میں زندگی بھر شکیب کے ساتھ رہا۔ شکیب کی شاعری میں جگہ جگہ اس کیفیت کا عکس نظر آتا ہے۔

ان کا ایک مشہور شعر ہے:

فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

سنہ 1950 میں شکیب جلالی اپنی چار بہنوں کے ساتھ پاکستان آ گئے جہاں ملازمتوں کے سلسلے میں وہ مختلف شہروں میں مقیم رہے۔

ادھر شکیب کے والد اگلے پندرہ برس تک ایک پاگل خانے میں زیر علاج رہے۔ وہ 1965 میں شفایاب ہوئے، شکیب کو ان کی رہائی کی اطلاع ملی تو انھوں نے ان سے ملنے کے لیے انڈیا جانا چاہا مگر جنگ کا زمانہ تھا، شکیب انڈیا نہ جا سکے اور فروری 1966 میں ان کے والد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

شکیب پر ان کی وفات کا گہرا اور شدید ردعمل ہوا اور موت کی کشش انھیں اپنی طرف کھینچنے لگی اور یہ کشش ان کے اشعار میں بھی نظر آنے لگی۔

جب کبھی موت کا خیال آیا

زیست میں کوئی دل کشی نہ رہی

یہ 12 نومبر 1966 کا دن تھا، شام ساڑھے تین بجے وہ گھر سے نکل گئے، ساڑھے پانچ بجے اطلاع گئی کہ انھوں نے خود کو ٹرین کے آگے گرا کر خودکشی کر لی ہے۔ وہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے جہاں ان کی وفات ہو گئی۔

شکیب جلالی ایک منفرد اسلوب کے شاعر تھے۔ انھوں نے بلاشبہ غزل کو ایک نیا لہجہ دیا۔ ان کا شعری کا مجموعہ ’روشنی اے روشنی‘ ان کے ناگہانی وفات کے چھ برس بعد 1972 میں لاہور سے شائع ہوا۔

اس مجموعہ کلام کا شمار اردو کے چند اہم ترین شعری مجموعوں میں ہوتا ہے۔ سنہ 2004 میں لاہور ہی سے ان کے کلام کے کلیات بھی شائع ہوئی۔

شکیب جلالی نے صرف 32 برس کی عمر پائی مگر انھوں نے اتنی کم مہلت میں جو شاعری کی وہ انھیں اردو غزل میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔

مصطفیٰ زیدی کا قتل نہیں ’خودکشی‘

شکیب جلالی کے بعد خودکشی کے تعلق سے مشہور ہونے والے دوسرے شاعر مصطفی زیدی تھے۔ کچھ لوگ اسے قتل کا واقعہ گردانتے ہیں لیکن جب یہ مقدمہ عدالت میں چلا تو عدالت نے اسے خودکشی قرار دیا۔

مصطفیٰ زیدی 12 اکتوبر 1930 کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا۔ وہ نہایت کم عمری سے شاعری کرنے لگے تھے۔

1947 میں صرف 17 برس کی عمر میں ان کا پہلا مجموعہ ’زنجیریں‘ شائع ہوا جس کا دیباچہ فراق گورکھ پوری نے تحریر کیا۔

قیام پاکستان کے بعد مصطفی زیدی پاکستان آ گئے جہاں انھوں نے تدریس کے شعبے سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، پھر انھوں نے سول سروس کا امتحان پاس کیا اور متعدد انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔

دسمبر 1970 میں حکومت نے جن 303 سرکاری افسران کو بدعنوانی کے الزام میں ملازمت سے معطل کیا ان میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی شامل تھا۔

بعد میں معلوم ہونے والی تفصیلات کے مطابق مرحوم نے معطلی سے کچھ دن قبل اپنے محکمے کے ایک بااثر افسر کا تبادلہ روکنے اور اسے رکوانے کے لیے رشوت قبول کرنے سے نہ صرف انکار کر دیا تھا بلکہ اس افسر کے خلاف رشوت پیش کرنے کے الزام میں صوبے کے چیف سیکرٹری کو تحریری شکایت بھی پیش کی تھی مگر وہ افسر اتنا بااثر تھا کہ اس کا تو کچھ نہیں بگڑا البتہ مصطفی زیدی کو پہلے معطلی اور پھر ملازمت سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑا۔

مصطفیٰ زیدی کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا، وہ اردو کے ایک اہم شاعر تھے اور ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوچکے تھے۔ ان کی شاعری پسند کرنے والوں میں جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری اور فیض احمد فیض جیسے نامور شاعر شامل تھے۔

مصطفیٰ زیدی کی وفات کا دکھ، ادبی حلقوں ہی میں نہیں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں محسوس کیا گیا۔ ان کی جرمن نژاد اہلیہ ویرا اور بچے ان دنوں جرمنی میں مقیم تھے لیکن مصطفیٰ زیدی ملک چھوڑنے پر پابندی عائد ہونے کے باعث ان کے پاس بھی نہیں جاسکتے تھے۔

وہ ایک حسن پرست شخص تھے۔ شہناز گل سے، جو خود بھی شادی شدہ خاتون تھی، ان کے تعلقات بہت پرانے تھے مگر مرحوم کی ملازمت سے برطرفی کے بعد شہناز گل بھی ان سے کھنچی کھنچی رہنے لگی تھیں۔

مصطفی زیدی پر ملازمت سے برطرفی، بیوی بچوں سے دوری اور شہناز گل کی ’بے وفائی‘ سبھی کا بڑا گہرا اثر تھا۔

12 اکتوبر 1970 کو مرحوم نے شہناز گل کو اپنے فلیٹ پر بلایا اور پھر اگلے روز معلوم ہوا کہ وہ زہریلی کافی پینے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

فلیٹ کے ایک اور کمرے میں شہناز گل بے ہوش پڑی ہوئی تھیں۔ مرحوم کے اعزا کے مطابق مبینہ طور پر یہ زہریلی کافی انھیں شہناز گل نے پلائی تھی جبکہ شہناز گل کا دعویٰ تھا کہ یہ کافی خود مرحوم نے تیار کی تھی۔

شہناز گل پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کنور ادریس احمد کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

ایک طویل کارروائی کے بعد 26 مئی 1972 کو عدالت نے شہناز گل کو قتل کے الزام سے بری کردیا۔ بعد میں ایک اپیل پر مقدمے کی تحقیق دوبارہ بھی ہوئی مگر دوسری مرتبہ بھی شہناز گل کو بری قرار دے دیا گیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مصطفیٰ زیدی نے خودکشی کی تھی۔

سارا شگفتہ

خودکشی کے ذریعے موت کو گلے لگانے والی شخصیات میں سارا شگفتہ کا نام بھی بہت اہم ہے۔

سارہ شگفتہ 31 اکتوبر 1954 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق کسی علمی اور ادبی گھرانے سے نہیں تھا۔

یہ چھ بہنوں، چار بھائیوں اور ماں باپ پر مشتمل ایک غریب خاندان تھا۔ معاشی تنگ دستی کے باوجود جیسے تیسے گزارا ہو رہا تھا مگر جب ان کے والد نے دوسری شادی کرلی تو سارا اور ان کے بہن بھائی نہ صرف اپنی والدہ سمیت دو وقت کی روٹی کے محتاج ہو گئے بلکہ باپ کی عدم سرپرستی نے گھر کی مجموعی فضا کو منتشر کر کے رکھ دیا۔

انتہائی کم عمری میں سارا کی شادی ہو گئی مگر آٹھ، نو برس جاری رہنے اور کئی بچوں کے باوجود یہ شادی ناکام رہی۔ سارا نے معروف شاعر احمد جاوید سے دوسری شادی کر لی جو ان کے ساتھ بہبود آبادی کے دفتر میں ملازم تھے مگر یہ شادی بھی ناکام رہی البتہ اس شادی نے ان پر شاعری کے دروازے کھول دیے۔

احمد جاوید کے بعد ایک اور شاعر افضال احمد سید ان کے تیسرے شوہر بنے مگر یہ شادی بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ پھر وہ ایک جاگیردار کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں مگر صرف چند ماہ بعد یہ شادی بھی ختم ہوگئی۔ اس شادی کے بعد ان کا ایک جذبہ تعلق سعید احمد نامی ایک کاروباری شخص سے ہوا۔

صفیہ عباد نے لکھا ہے کہ ’یہ سارا کی زندگی کی آخری پناہ گاہ تھی جو سارا کی حیرتوں سے وحشتوں میں شریک ہوئی‘۔

سارا نے سعید احمد سے شادی نہیں کی کیوںکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھے اور سارا اپنے گھر کی تاریخ نہیں دہرانا چاہتی تھیں۔ اس جذباتی کشمکش میں 4 جون 1984 کو سارا شگفتہ نے کراچی میں ریل کے نیچے آ کر خودکشی کر لی۔

سارا شگفتہ پنجابی اور اردو دونوں میں شاعری کرتی تھیں، ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔ ان کی شاعری پسند کرنے والوں میں مبارک احمد، قمر جمیل ،کشور ناہید اور امرتا پریتم جیسے لوگ شامل تھے۔

سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے ’بلدے اکھر‘، ’میں ننگی چنگی‘ اور ’لکن میٹی‘ اور اردو شاعری کے مجموعے ’آنکھیں اور نیند کا رنگ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔

ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے ’ایک تھی سارا‘، انور سن رائے نے ’ذلتوں کے اسیر‘ اور عذرا عباس نے ’درد کا محل وقوع‘ کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی وژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کیا جس کا نام ’آسمان تک دیوار‘ تھا۔ کچھ عرصے قبل لاہور سے ان کی کلیات بھی شائع ہو چکی ہے۔

سید آنس معین

خودکشی کرنے والے اردو کے سب سے کم عمر شاعر سید آنس معین تھے۔ وہ 29 نومبر 1960 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد سید فخر الدین بلے اردو اور پنجابی کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ سید آنس معین نے ایک علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور نہایت کم عمری سے شعر کہنا شروع کیے۔

انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بینکنگ کے شعبے سے کیا مگر ابھی ان کی عمر فقط 25 برس تھی کہ 5 فروری 1986 کو انھوں نے ملتان میں خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

ڈاکٹر صفیہ عباد کے مطابق اس خودکشی کا ایک سبب شاید یہ تھا کہ وہ جس خاتون سے شادی کرنا چاہتے تھے اس میں انھیں ناکامی ہورہی تھی جبکہ بعض لوگوں کے مطابق دفتر میں ایک مبینہ سازش کے تحت انھیں بینک میں خردبرد کے ایک معاملے میں ملوث کر کے بے عزت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔

سید آنس معین کو بہاولپور میں قبرستان نور شاہ بخاری میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کا مجموعہ کلام ابھی تک شائع نہیں ہو سکا۔

ثروت حسین نے دو بار خودکشی کی کوشش کی

خودکشی کے ذریعے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے ایک اور اہم شاعر ثروت حسین تھے۔

وہ نو نومبر 1949 میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ ثروت حسین ایک خوش گو شاعر تھے اور اپنا ایک جداگانہ اسلوب رکھتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ ’آدھے سیارے پر‘ 1989 میں شائع ہوا تھا جس کی ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی تھی۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’خاک دان‘ ان کی وفات کے بعد سنہ 1998 میں اشاعت پذیر ہوا جبکہ ان کی کلیات چند برس پیشتر شائع ہوئی ہیں۔

ثروت حسین تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے تاہم ان کی ملازمت کا بیشتر حصہ اندرون سندھ بسر ہوا جہاں وہ تنہائی کے شکار ہوئے۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر وہ کسی بڑے شہر میں مقیم ہوتے تو ان کی شاعری کی پذیرائی کسی اور طرح ہوتی۔ اس تنہائی اور ناقدری نے انھیں اندر سے توڑ دیا اور ان کی شاعری میں خودکشی کے گہرے رجحانات ملنے لگے۔

سنہ 1993 میں انھوں نے حیدرآباد میں خودکشی کرنے کی کوشش کی اور ایک ٹرین کے نیچے اپنی ٹانگیں دے دیں۔

انھیں بچا لیا گیا مگر وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ اس معذوری کے بعد محکمہ تعلیم نے ان کا تبادلہ کراچی کر دیا مگر ثروت حسین نے اس تبادلے کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔

نو ستمبر 1996 کو انھوں نے ایک مرتبہ پھر ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کرنے کی کوشش کی، اس مرتبہ ان کی یہ کوشش کامیاب رہی۔

تنہائی اور ناقدری نے اردو کے ایک اور بڑے شاعر کو ہم سے چھین لیا۔

’گمشدہ‘ شاعر

اردو ادب کی تاریخ میں ایسے ادیب بھی ہیں جن کی خودکشی کے بارے میں تو کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا مگر وہ خودکشی کا رجحان رکھتے تھے اور ایک دن ایسے غائب ہوئے کہ پھر ان کا کچھ اتا پتا نہ ملا۔ ان میں شمس آغا اور شبیر شاہد کے نام سرفہرست ہیں۔

شمس آغا نامور نقاد ڈاکٹر وزیر آغا کے بھانجے تھے، وہ 10 جنوری 1922 کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا رویہ ترقی پسندانہ تھا۔ ان کے والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی جس کے اثرات شمس آغا کی زندگی پر مرتب ہوئے۔

اپریل 1944 میں ان کے ادبی سفر کا آغاز ہوا اور ان کے افسانے صلاح الدین احمد کے ادبی جریدے ’ادبی دنیا‘ میں شائع ہونے لگے۔

یہ افسانے ادبی دنیا میں بہت پسند کیے گئے۔ رفتہ رفتہ شمس آغا روحانی تجربات پر مائل ہونے لگے۔ انھی روحانی تجربات کے زیر اثر انھوں نے ایک مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش کی مگر انھیں بچا لیا گیا۔

مگر شاید شمس آغا دنیا کا خیال ترک کر چکے تھے اور فیصلہ کر چکے تھے کہ اب انھیں دنیا سے رخصت ہو جانا ہے۔

دسمبر 1945 کے اوائل میں وہ لاہور سے دلی کے لیے روانہ ہوئے، تین دسمبر کو انھوں نے اپنی بہن کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے دلی کی گہما گہمی کا ذکر کیا مگر اس خط کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان کے گھر والوں نے انھیں ہر جگہ تلاش کیا مگر ناکام رہے۔

ناصر بشیر نے اپنی کتاب ’گمشدہ افسانہ نگار، شمس آغا کی کہانی‘ میں لکھا ہے کہ ’اب تک شمس کے متعلق جتنے بھی نقادوں نے لکھا ہے سبھی نے اس کی گمشدگی کا ذکر کیا یقینی طور پر یہ کسی نے نہیں کہا کہ انھوں نے خودکشی کر لی مگر اس سے پہلے شمس کیوںکہ خودکشی کی کوشش کر چکے تھے تو اس لیے یہ امکان ہے کہ انھوں نے خود کشی کر لی۔‘

آگے چل کر ناصر بشیر لکھتے ہیں کہ ’شمس آغا نے اپنے خط میں گھر والوں کا یہ تاثر دیا کہ وہ نوکری کی تلاش میں دلی گئے ہیں اور وہاں سے کلکتہ جائیں گے لیکن وہاں جا کر انھوں نے اپنے آپ کو ختم کر لیا۔‘

شمس آغا کے افسانوں کا ایک مجموعہ سنہ 1957 میں ’اندھیرے کے جگنو‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔

اردو کے ایک اور گمشدہ شاعر شبیر شاہد ہیں۔ وہ سنہ 1949 میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج جوہرآباد اور اورینٹل کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔

زمانہ طالب علمی میں انھوں نے ہرمن ہیسے کی کتاب ’سدھارتھ‘ کا مطالعہ کیا جس نے حیات اور موت کے بارے ان کے انداز فکر کو تبدیل کر دیا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد انھیں جلد ہی سرکاری ملازمت مل گئی۔ وہ ادبی اور علمی حلقوں میں بھی آنے جانے لگے۔ ان کی شاعری مقبولیت حاصل کرنے لگی مگر وہ سدھارتھ کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے۔ ان کی شاعری میں بھی اس ناول کے اثرات نمایاں ہونے لگے۔

اورینٹل کالج کے زمانہ طالب علمی میں انھیں اپنے سے جونیئر کلاس کی ایک لڑکی سے عشق ہوا مگر وہ لڑکی کسی اور کی محبت میں گرفتار تھی۔

شبیر شاہد ایک ذہین اور حساس انسان تھا۔ محبت کی ناکامی نے انھیں زندگی کی رنگینیوں سے دور کر دیا۔ وہ اپنے دوستوں سے اکثر کہا کرتے تھے کہ زندگی بے معنی شے ہے ’میں نو دس سال کے لیے کہیں غائب ہو جاؤں گا‘ اور پھر سنہ 1974 میں ایک دن وہ اچانک لاپتہ ہو گئے۔

ڈاکٹر ضیا الحسن نے اپنی کتاب ’گمشدہ ستارہ‘ میں لکھا ہے کہ ’لاپتہ ہونے سے پہلے انھوں نے کئی راتیں راوی کنارے دریا سے باتیں کرتے گزاریں۔ جانے سے پہلے وہ تمام دوستوں سے ملے اور اپنی دانستہ اور نادانستہ غلطیوں کی معذرت کی۔ اپنی تمام شاعری نذرآتش کی اور چلے گئے۔ کافی عرصے تک ان کی تلاش کی جاتی رہی لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔‘

’بعد میں بھی سالہا سال تک کئی لوگ مختلف شہروں اور ملکوں میں ان کو دیکھنے کا دعویٰ کرتے رہے لیکن پھر ان کا کوئی پتا نہیں ملا۔ ان سے تعلق رکھنے والے آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں، ان کی شاعری کا ذکر کرتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو شبیر شاہد زندگی کے منظرنامے سے باہر نکل گئے۔ ان کا انتظار کسی کو نہیں۔‘

شبیر شاہد لاپتہ ہونے سے پہلے اپنی تمام شاعری نذر آتش کر گئے تھے مگر پھر ان کے دوستوں اور چاہنے والوں کی مدد سے ڈاکٹر ضیا الحسن نے ان کی شاعری اور نثر کا ایک مختصر سا مجموعہ ’گمشدہ ستارہ‘ کے عنوان سے مرتب کیا اور اب صرف یہی مجموعہ شبیر شاہد کی پہچان ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21764 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments