پولیس کا رویہ۔ جزیرہ۔ فری لانسنگ
کچھ دنوں سے میرے سامنے خبریں گزر رہی ہیں کہ ہیلپ لائن 15 پہ ہیلپ کے لیے فیک فون کال کرنے والوں کے خلاف پولیس ایف آئی آرز درج کر کے انھیں گرفتار کرتی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے تین نتائج نکلیں گے۔ ایک تو یہ کہ لوگ اپنے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے خوف سے پولیس ہیلپ لائن پہ کال کر کے پولیس سے ہیلپ مانگنا ہی چھوڑ دیں گے۔ دوسرا یہ کہ عدالتوں پہ مقدمات کی سماعت کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ تیسرا یہ کہ پولیس کا مثبت امیج ڈویلپ کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچے گا۔
اب پولیس کا بھی موقف ہو گا کہ لوگ 15 پہ جھوٹی کال کر کے ہمیں ناحق تکلیف میں ڈالتے یا پولیس کا ٹائم اور انرجی ضائع کراتے ہیں تو کیوں نہ ایسے لوگوں کو سزا دی جائے۔ اکبر شیخ اکبر کا حکومت اور پولیس کے اعلٰی حکام کو مشورہ ہے کہ فیک فون کال پہ آپ ایف آئی آر کی بجائے جرمانہ کی سزا رکھیں جو پولیس موقع پہ ہی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے وصول کر لے۔ ساتھ ساتھ ایک پہلو یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ بعض اوقات جس ”فیک کال“ کے نام پہ کال کرنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے وہ فون کال فیک نہیں ہوتی، سچائی پہ مبنی ہوتی ہے۔
مثلاً میرے ذاتی نوٹس میں بہاول پور کا ہی ایک معاملہ آیا۔ دو نوجوان بھائی ایک کریانہ سٹور چلاتے ہیں۔ پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا۔ دوسری پارٹی آئی اور ان دونوں بھائیوں کو تھپڑ اور مکے مارے اور دکان میں توڑ پھوڑ کی۔ ایک بھائی نے ہیلپ لائن 15 پہ پولیس کو ہیلپ کے لیے فون کیا اور جذبات میں یہ کہنے کی بجائے کہ لڑائی ہو گئی ہے، یہ کہہ بیٹھا کہ ہماری دکان پہ ڈکیتی ہو گئی ہے۔ پولیس آئی تو معاملہ کھلا کہ دوسری پارٹی کے ساتھ پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا جس پہ لڑائی ہوئی تھی، دکان میں شیشے کے ریک بھی ٹوٹے پڑے تھے، ہمسائے دکانداروں نے بھی گواہی دی لیکن ایک پولیس والا اڑ گیا کہ تم نے فون کال میں لڑائی کی بجائے ڈکیتی کا لفظ کیوں بولا اور اس دکاندار لڑکے کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس کا موقف بھی ٹھیک ہے کہ ڈکیتی کا لفظ نہیں بولنا چاہیے تھا لیکن بہتر تھا ایف آئی آر کی بجائے جرمانہ کیا جاتا اور لڑائی کے معاملے میں بھی تفتیش کی جاتی۔
اصل میں ہماری عوام کی میڈیا ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے کوئی تربیت ہی نہیں کی گئی ہے کہ آپ نے کس طرح کے کاموں کے لیے 15 پہ کال کر کے پولیس کی ہیلپ لینی ہے؟ اب اگر واش روم کی ٹوٹی خراب ہو گئی ہے تو آپ اس کے لیے تو ہیلپ لائن 15 پہ کال نہیں کریں گے۔ دوسرا ہماری پولیس کی بھی ہیلپ لائن رسپانس دینے کے حوالے سے اس طرح سے پروفیشنل تربیت ابھی تک نہیں کی گئی جیسی یورپ کی پولیس کی ہوتی ہے۔
کہتے ہیں صدیوں پہلے بحرالکاہل میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہوتا تھا۔ وہاں کے مشیر عجیب تھے۔ ایک طرف وہ چاہتے تھے کہ عوام میں جزیرے کی پولیس کے خلاف پائی جانے والی نفرت کم ہو اور معاشرے میں پولیس کی مثبت امیج بلڈنگ ہو۔ دوسری طرف وہ پولیس کے جونئیر افسران اور اہلکاروں کے اندر ایسے رویے اپنے احکامات سے پیدا کر دیتے یا ان سے ایسے کام لیتے کہ مثبت کوششوں کے بھی منفی نتائج برآمد ہونا شروع ہو جاتے۔ ایک مشیر مشورہ دیتا کہ پولیس والے بوڑھے لوگوں کو سڑکیں پار کروائیں تاکہ عوام کا دل جیت سکیں۔
اس سے عوام میں پولیس کے لیے تھوڑا بہت نرم گوشہ پیدا ہوجاتا تو دوسرا مشیر بڑے اور ترقی یافتہ جزیروں کے اداروں سے پروفیشنل تربیت حاصل کر نے کے باوجود ذہنی طور پہ اپنے جزیرے میں واقع اپنے گاؤں اور اپنی برادری والے مخصوص مائنڈ سیٹ میں کھڑا ہوتا اور ہر مسئلے کا حل ڈنڈے کے استعمال میں دیکھتا۔ وہ پولیس اور جزیرے کے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جونئیر افسران کے لیے حکم جاری کروا دیتا کہ عوام کو گھوڑا گاڑیوں سے اتار کر مرغا بناؤ اور دکانوں میں گھس کر ڈنڈے مارو تاکہ قانون نافذ کرنے والوں کا رعب و دہشت قائم ہو۔ رعب و دہشت تو قائم ہو جاتا لیکن پیپلز فرینڈلی پولیس امیج بلڈنگ کے لیے کی جانے والی گزشتہ تمام کوششوں پہ پانی پھر جاتا۔ خیر۔
انٹرنیٹ پہ بطور فری لانسر کام کرنے والے دوستوں کے لیے مشورہ ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ فیور، اپ ورک او ر گرو ڈاٹ کام پہ جو کلائنٹ آپ سے کام لے رہا ہے وہ مستقل طور پہ آپ کا کلائنٹ بن جائے یہاں تک کہ فیور، اپ ورک اور گرو ڈاٹ کام سے ہٹ کے براہ راست آپ سے رابطہ کرے تو پھر انگریزی زبان کلائنٹ کے لہجے میں ہی بولنے کی پریکٹس کریں، اس کے لیے یو ٹیوب پہ ویڈیوز دیکھیں۔ بہت سارے تجربہ کار فری لانسرز کا یہ کہنا ہے کہ جب آپ پاکستانی اور ایشین لہجے میں انگریزی بول رہے ہوتے ہیں تو گوروں کو بعض اوقات آپ کی بات سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہوتی ہے، نتیجہ یہ کہ وہ آپ کو پراجیکٹ دینے کی بجائے آپ سے رابطہ ختم کر دیتے ہیں۔
دوسرا اپنی کمپیوٹر سکلز میں بھی بہتری لائیں۔ اگر کلائنٹس کو آپ کا ڈیل کرنے کا اور پراجیکٹ بنانے کا انداز اچھا لگا تو پھر آپ کو فیور، اپ ورک اور گرو ڈاٹ کام کی ضرورت نہیں رہے گی، آپ براہ راست اپنی ڈیجیٹل سروسز سے پیسے کما رہے ہوں گے یہاں تک جس سروس کے آپ کو فیور یا اپ ورک پہ پانچ دس ڈالر ملے، براہ راست تعلقات بننے سے آپ اسی سروس کے بیس تیس ڈالر یا اس سے بھی زیادہ لے سکیں گے۔ کامیاب فری لانسرز دو سے چار لاکھ روپے ماہانہ بھی کما لیتے ہیں۔ گوگل میں جلدی رینک ہونے کا راز اپنی پروپوزل، آفر، بلاگ، کانٹینٹ، ٹائٹل، ڈسکرپشن، ٹیگز وغیرہ میں مخصوص کی ورڈز استعمال کرنا ہے۔
آپ گوگل ٹرینڈز پہ وزٹ کرتے رہا کریں اور دیکھیں کون سے ٹاپکس زیادہ سرچ ہو رہے ہیں۔ سرچ انجن میں سوال کی صورت میں جو الفاظ زیادہ استعمال ہو رہے ہوں وہ کی ورڈز ہیں۔ مزید بھی اس پہ بات کروں گا۔ یو ٹیوب پراڈکٹس بے روزگاروں کو اتنے پیسے دے رہی ہیں کہ لوگ گھر بیٹھے اپنے کچن کے اخراجات چلا رہے ہیں۔ یو ٹیوب پراڈکٹس میں وہ ویڈیوز جلدی گوگل میں رینک ہو جاتی ہیں جو ان ٹاپکس پہ بنائی جاتی ہیں جو سب سے زیادہ سرچ کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ آئی ٹی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، آن لائن پیسے کمانے کے طریقوں، ایجوکیشن، سپورٹس اور کرنٹ افئیرز کے ٹاپکس پہ سرچ کر رہے ہوتے ہیں۔


