سی آر شمسی کی زندگی اور جدوجہد کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”پڑھ”، اردو کا ایک اخبار سی آر شمسی کی ماں نے اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، جب شمسی کی عمر کوئی پانچ چھ برس ہو گی۔ یہ چھوٹا سا واقعہ جس نے اس کی آئندہ زندگی کی تشکیل کی، 1963 یا 1964 میں پیش آیا۔ اس کی فیملی گجرات سے مری اور وہاں سے راولپنڈی ہجرت کر کے اصغر مال روڈ پر کوٹھی ہری سنگھ میں عارضی طور پر مقیم تھی۔ ماں نے اخبار سے اس کی ملاقات کیوں کروائی، وہ اخبار کون سا تھا اور کہاں سے آیا تھا، میں نے شمسی سے کبھی یہ سوال نہیں کیا، کئی برس پہلے جب اس نے مجھے یہ واقعہ سنایا، شاید اس لیے کہ وہ کوئی سا بھی اخبار تھا، وہ اس کی زندگی کا حصہ بن گیا تھا، اوریہ نام بدل بدل کر اس کی زندگی میں آتا رہا اور جاتا رہا۔ اٹھارہ انیس برس کی عمر میں شمسی نے صحافت کو گلے لگا لیا تھا اور اخبار نویس بن گیا تھا۔
”کیا غربت سے بڑی وبا بھی کوئی ہو سکتی ہے!”، شمسی نے دکھ اور مایوسی کے ملے جلے لہجے میں کہا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، وہ بولا، ”سسک، سسک کر مرو، لمحہ لمحہ مرو، یہ کوئی زندگی ہے، چھڈو مرزا صاب، تسی غربت ویکھی نئیں”، وہ تڑپ اٹھا تھا، جب میں نے فون پر اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کوویڈ۔19 کی ہلاکت انگیزی کا تذکرہ کیا تھا۔ یہ جون2021 میں غالبا وبا کی تیسری لہر کی ابتداء کا کوئی دن تھا۔ اس کا چکوال سے فون آیا تھا، حسب معمول نصف شب کا وقت ہوگا۔ مجھے معلوم تھا، غربت اس کی زندگی کی پہلی تلخ حقیقت تھی، جس نے اسے ہمیشہ کے لیے مضطرب کر دیا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اور اس کی فیملی غربت سے تو نکل آئے تھے، لیکن، محرومی کے اس ذائقے نے اس کی زندگی، اس کی روح، اس کی طبعیت اور اس کی گفتگو میں ایسا درد بھر دیا تھا، جو عام طور پر بھی، اور بالخصوص بے روزگار صحافیوں، مزدوروں، کارکنوں کی ہڑتالوں اورجلسے جلوسوں میں ایک طوفان کی طرح امڈ آتا تھا۔ وہ مالکوں، سرمایہ داروں اور حکومتوں پر گرجتا، برستا، انہیں نیست و نابود کر دیتا تھا۔ یہ درد سی آر شمسی کی شخصیت کا بنیادی خاصہ تھا۔ یہی درد اس کے ٹریڈ یونینسٹ بننے کا سب سے بڑا محرک بنا ، اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
صحافت کی آزادی اورغربت سے نجات کے ساتھ ساتھ سی آر شمسی نے جس تیسرے پڑاو پر قدم رکھا، وہاں سے اس کا آمریت کے خلاف مزاحمت کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہوا۔ اپنی باقی زندگی وہ اسی ‘دشت سوس ‘میں کبھی ایک آمر اور کبھی دوسرے سے ٹکراتا رہا۔ شمسی کا بچپن ایوبی آمریت میں گذرا۔ وہ چارہ ماہ کاتھا، جب ملک میں خود ساختہ ‘سیاسی عدم استحکام’کو بہانہ بنا کر پہلا مارشل لاء لگایا گیا۔ وہ دس گیارہ برس کا تھا کہ جنرل یحیی خان نے اقتدار سنبھالا؛ وہ تیرہ برس کا تھا جب ملک ٹوٹ گیا۔ بچپن ہو یا لڑکپن، جوانی یا پیرانہ سالی، اردگرد کی فضا ذات کی تشکیل کرتی ہے۔ جمہوریت، خوشخالی اور سماجی انصاف کی مہک سے معاشرے کھل اٹھتے ہیں، اور آمریت کی باس سے مرجھا جاتے ہیں۔شمسی کا بچپن اور لڑکپن آمریت کے انہی منحوس سایوں تلے سانس لیتے گذرا۔ 1972 کے بعد پانچ چھ برس کا عرصہ اس نے ذوالفقار علی بھٹو کے سحر میں گذارا اور آنکھوں میں نجانے کتنے خوشنما خواب بھر لیے۔ 1977 میں جب وہ اپنے صحافتی کیرئیر کی ابتداء کر رہا تھا، ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔۔۔اپنی باقی ساری زندگی وہ آمریت اور آمریت کے غلاف میں لپٹی نام نہاد جمہوریت کے خلاف لڑتا رہا۔
 وقت کے اسی دوراہے پر اس کی زندگی میں چند طلسماتی الفاظ داخل ہوئے۔۔۔”اظہار رائے کی آزادی”۔۔۔اور ”مزدورکا روزگار کا حق”۔ درد کو اظہار کی شریانوں میں بہہ کر اصولوں میں ڈھلنے کی راہ مل گئی تھی۔ آزادی صحافت ، غربت سے نجات اور آمریت کے خاتمے کی اس نظریاتی تکون سے جس حساس، ایماندار، بہادر، باہمت اور بااصول سی آر شمی نے جنم لیا تھا، اس نے اپنی زندگی کے سینتالیس پیشہ وارانہ برسوں میں اس تکون کے ہر سرے کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ وہ راولپنڈی -اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس(RIUJ) کاصدر ،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کا سینئر نائب صدر اورسیکریڑی جنرل اور پاکستان سے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس  (IFJ) کا مندوب منتحب ہوا۔ اس کی ایک کال پر صحافی اور اخباری کارکن ہڑتال پر چلے جاتے اور پریس گیلری خالی ہو جاتی۔ اس نے جڑواں شہروں میں مزدور تحریک سے رابطے قائم کیے، ان میں شامل ہوا اور ان کی لڑائیاں لڑیں۔ وہ ملک کی جمہوری تحریک کا اہم رہنما، اور سینتالیس برس کی مزاحمتی تحریک کا چشم دید گواہ ہی نہیں، اس کاایک فعال اور پرجوش کارکن بھی تھا۔
  
17 ستمبر 2021 کی ابتدائے شب سی آر شمسی چپکے سے کسی نئی راہ پر نکل گیا ، اس کے خوابوں کی کئی منزلیں تھیں۔۔۔نجانے وہ کس منزل کی طرف نکل گیا۔ وہ چکوال بھی نہیں گیا، جہاں وہ کئی برسوں سے زمین کی مقدمہ بازی میں الجھا ہوا تھا، اور جہاں اس نے بڑے چاو سے گھر بنایا تھا، وہ مری بھی نہیں گیا، جہاں اس کے والد کی قبر تھی، اور نہ ہی وہ گجرات گیا، جس کے ایک مہاجر کیمپ میں وہ پیدا ہوا تھا، اور نہ ہی وہ نیشنل پریس کلب گیا، جس کی اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بنیاد رکھی تھی۔ نہ اس کواپنی اہلیہ رضیہ شمسی اور بیٹے سعد کو خدا حافظ کہنے کی مہلت ملی، نہ اس نے ثمن اور عدنان کو مری بھیج کر ان کی واپسی کا انتظار کیا، البتہ اس نے عدنان اور سعد سے یہ ضرور کہا کہ اس کے ویزوں کا بندوبست کیا جائے وہ جلداپنے بیٹوں، فرانس میں سلطان اور امریکہ میں ذیشان کو، ملنے جانا چاہتا ہے۔ وہ کہیں بھی نہ جا سکا۔ اس نے چاند کی چاندنی پھیلنے کا انتظار بھی نہ کیا اور چپکے سے جاکر اپنی ماں کے پہلو میں سو گیا، وہ ماں جس نے اس کے ہاتھ میں اخبار تھمایا تھا، وہ اخبار جس کی حرمت کو اس نے کبھی اپنے ہاتھوں سے گرنے نہیں دیاتھا۔
18 اکتوبر 2021 کو جب اس کو لحد میں اتارا جا رہا تھا تو اسے الوداع کہنے کے لیے راولپنڈی کے شہباز شریف پارک میں سیکڑوں محنت کش، صحافی، اخباری کارکن، جمہوریت پسند کارکن اور رہنما، اس کے گھر والے، رشتہ دار، دوست، اور چکوال اور گجرات سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجودتھی۔ وہ گھنٹوں سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ شمسی اکثر لیٹ آتا ہے، لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ وہ جانے میں اتنی جلدی کرے گا۔ ان کی آنکھیں نم تھیں، چہروں پر اداسی تھی۔ ان میں ناصر زیدی، ناصر ملک،طارق عثمانی، حفیظ الدین احمد، فریدہ حفیظ، فوزیہ شاہد، طاہر راٹھور، پرویز شوکت، افضل بٹ، شکیل انجم، حامد میر ،انور رضا، عالیہ مرزا، سلطان شمسی، عدنان شمسی، سعد شمسی، فاروق اقدس، فرحت اللہ بابر، زمرد حسین، شاہد عثمانی اور شمسی کے بے شمار دوست، ساتھی اور مداح شامل تھے۔فرانس سے سلطان تو پہنچ گیا تھا، لیکن ذیشان کا  امریکہ سے پہنچنا مشکل تھا، اس کا وہاںرو رو کر برا حال تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد شمسی کو اس کی ماں کے پہلو میں لحد میں اتار دیا گیا اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی چادر اس کی قبر پر بچھا دی گئی۔ پھولوں کی اس چادر سے اٹھنے والی مہک سے ‘جدوجہد تیز ہو’ کا پیغام فضا میں بکھر گیا تھا، اور دور کہیں چاندنی نے اپنی بانہیں پھیلاکر شمسی کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔
سی آر شمسی 2 جون 1958 کو گجرات کے ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہوا تھا، جہاں اس کا خاندان 1947 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تحصیل و ضلع ریاسی سے ہجرت کر کے آیا تھا۔ وہ نو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس کے والد کا نام چوہدری سائیں محمدتھا۔ شمسی کا نام چوہدری رحمت اللہ رکھا گیا۔ شمسی کی فیملی نے 1956 میں مری کی جانب ہجرت کی، جہاں اس کے والد اور بڑے بھائی مری کے خان بہادر سید غیاث الدین کی جاگیر میں ملازم ہو گئے۔ شمسی کے والد مری میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔ شمسی کی فیملی ایک دو برس بعد راولپنڈی منتقل ہو گئی اور اصغر مال روڈ پر انہیں کوٹھی ہری سنگھ میں سر چھپانے کو جگہ مل گئی۔ شمسی کی والدہ اور اس کے بڑے بھائی بہنوں کے لیے یہ کڑی آزمایش کا زمانہ تھا۔ اس کے دو بڑے بھائی بھی مری میں فوت ہو گئے تھے۔ شمسی ابھی چھوٹا تھا اور اس نے پیٹ بھرنے اور اس کے لیے ہاتھ پاوں مارنے کی کڑی محنت کے اس عمل کو اپنی متحیر آنکھوں سے دیکھا، اس نے استحصالیوں کو مزدوروں کے منہ سے نوالہ چھینتے ہوئے دیکھا۔ محنت کے استحصال کا یہ تجربہ ساری زندگی اس کا تعاقب کرتا رہا۔
سی آر شمسی بچپن میں خاموش طبیعت کا مالک تھا، حساس اور کم گو تھا۔ باتیں تو اس نے صحافی بن کر بھی کم ہی کیں۔ جو کچھ اس نے کہنا چاہا، پریس کانفرنس میں ڈکٹیٹروں اور سیاستدانوں سے سخت، تیکھے اور ٹیڑ ھے سوالات پوچھتے ہوئے کہا یا اپنے کالموں میں کہا، مثلا اس نے 1988 میں جب غلام اسحق خان چولستان کے آسمان پر آموں کے کیس پھٹنے کے بعد صدر بنے تو ان کی پہلی پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا کہ ”نئے انتخابات کب منعقد ہوں گے”، اور جب ایک بار سپریم کورٹ نے ایک نامناسب فیصلہ دیا تو اس نے اپنے کالم میں لکھا کہ ”انصاف سپریم کورٹ کے سنگ مرمر کے چکنے فرش پر پھسل گیا”۔ وہ تقریروں میں باتیں کرتا تھا اور مخالفوں پر بجلی کی طرح گرتے ہوئے انہیں بھسم کردیتا تھا، اس کے منہ سے الفاظ انگاروں کی طرح نکلتے تھے۔ یہی انگارے یونین کے اجلاسوں میں شعلہ و شبنم میں بدل جاتے تھے۔ گذشتہ کچھ برسوں سے، جب سے ‘الیکٹرانک راج’ شروع ہوا تو جہاں کہیں اسے موقع ملتا، ٹاک شوز میں بولتے ہوئے وہ ٹھنڈے مزاج کا تجزیہ نگار بن جاتا۔ چونکہ اپنے صحافیانہ کیرئر اور ٹریڈ یونینزم کے ابتدائی دور میں اس کی مڈھ بھیڑ پاکستان کے نامور صحافیوں اور ٹریڈ یونینسٹ رہنماوں سے ہو گئی تھی، اور مقاصد کی منزل پر پہنچنے کا راستہ اس نے چن لیا تھا، اس لیے مذاکرات، گفتگو اور تقریریں اس کی زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔ دانشوروں کی طرح باتیں بگھارنے کی بجائے اسے ایکشن پر یقین تھا۔ بنیادی طور پر وہ ایک باعمل انسان تھا۔
شمسی نے اپنے صحافیانہ کیرئیر کا آغاز 1977 میں راولپنڈی کے  ہفت روزہ ‘مستقبل’ سے کیا ، جس کے ایڈیٹر معروف صحافی فاروق اقدس تھے، جوآج کل روزنامہ جنگ سے منسلک ہیں یہاں سی آر شمسی کو ‘دل دل پاکستان’ والے نثار ناسک اور الیاس چوہدری جیسے نامورشاعر اور صحافیوں کی رفاقت ملی۔کچھ عرصہ شمسی نے ہفت روزہ ‘افرادی قوت’ میں بھی کام کیا۔ 1977 میں پاکستانی صحافت کے ایک اہم ستون بشیر الاسلام عثمانی نے روزنامہ ‘تعمیر’ کا ڈیکلریشن لے کر اس کا احیاء کیا: تعمیر اردوصحافت کے ابتدائی اخبارات میں سے تھا، جس کا آغاز 1940میں ہو اتھا۔ ہمارے ایک معروف ترقی پسند صحافی اور دانشور اور پنجابی ادیب اور قوم پرست شفقت تنویر مرزا نے 1949میں تعمیرسے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ شمسی نے تعمیرمیں 1978میںشمولیت اختیار کی اور چند برس اس میں کام کیا۔ یہاں سے شمسی نذیر ناجی کے روزنامہ ‘حیات’ اور پھرروزنامہ ‘حیدر ‘ میں آگئے، جہاں سے ان کی مشہور صحافی خواجہ شریف سے دوستی کا آغاز ہو۱۔ شمسی چکوال سے نامہ نگاری بھی کرتا رہا۔ وہ چکوال پریس کلب کے بانیوں میں سے بھی تھا۔
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ شمسی کے پہلے اور آخری سیاسی رومان پر پہلا جان لیوا حملہ بھی 1977اسی زمانے میں ہوا، جیسا کہ اوپر ذکر گیا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں تیسری بار مارشل لاء لگایا گیا۔ ضیاء الحق کے اس گیارہ سالہ مارشل لاء نے اس دور میں بدی کے وہ بیج بوئے، جو بعد میں انتشار، تشدد، نفرت اور فرقہ واریت کے اتنے تنو مند درخت بن گئے، اور معاشرے میں ان کی جڑیں اتنی پھیل گئیں کہ آج تیس برس بعد بھی بہتری کی ‘کوئی امید بر نہیں آتی’۔ سیاست، معاشرت اور صحافت کے لیے یہ بڑا کڑا وقت تھا۔ پاکستان کے ایک نامور اوربہادر صحافی احفاظ رحمن نے اس دور میں صحافت پر ہونے والے حملوں، روزنامہ مساوات کی بندش اورگرفتاریوں اور صحافیوں کی تاریخی مزاحمت کی کہانی اپنی معرکتہ الاآراء کتابـ ”سب سے بڑی جنگ” میں تفصیل سے رقم کی ہے۔ اس وقت منہاج برنا PFUJ  کے صدر تھے۔
سی آر شمسی نے 5 جولائی 1977 سے لے کر جب بھٹو صاحب کو اقتدار سے ہٹایا گیا، 4 اپریل 1979 تک جب انہیں سولی پر چڑھایا گیا، تقریباً دو برس بڑی اذیت میں گذارے، لیکن، انہی دو برسوں میں وہ مڈل کلاسی تشویش، خوف اور وسوسوں کی ساری سرحدوں کو پھلانگتے ہوئے ایک بے خوف، دلیر اور بہادر صحافی بنا۔ بھٹو صاحب اڈیالہ جیل میں تھے اور بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو وقفے وقفے سے سہالہ ریسٹ ہاوس میں نظر بند کیا جاتا تھا۔ شمسی نے مجھے اور عالیہ کو کئی بار وہ باتیںاور یادیں سنائیںکہ کس طرح وہ آدھی رات کو تن تنہا سہالہ ریسٹ ہاوس کے ارد گرد پہنچ جاتا۔ وہاں سخت سیکورٹی کی وجہ سے چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔ لیکن، شمسی بتاتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سہالہ ریسٹ ہاوس کی عمارت کے پاس پہنچ جاتا اور اسے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سسکیوں کی آواز سنائی دیتی۔۔۔”کیسے”، میری سائنس پوچھتی۔۔۔”میں دیواروں کے بیچ سے گزرتااوردروازوں کے بیچ سے گذرتا ہوا بی بی کے پاس پہنچ جاتا”، شمسی کی روحانیت جواب دیتی۔ ”بی بی مجھے عوام کے نام پیغام دیتی”، وہ کہتا، ”میں یہ پیغام مختلف ذرائع ابلاغ کو پہنچا دیتا، اور یہ ساری دنیا میں پھیل جاتا۔یہ پیغام پابلو نرودا کے اس پیغام جیسا ہی ہو گا جو اس نے جیل سے لاطینی امریکہ کے ڈکٹیٹروں کو دیا تھا کہ ”تم چمن کے سارے پھول نوچ سکتے ہو،لیکن بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے”۔ لاطینی امریکہ کے ڈکٹیٹر ہمارے ڈکٹیٹروں جیسے ہی تھے۔
ایسے ہی ایک ڈکٹیٹر نے 4 اپریل 1979 کو شمسی اور اس ملک کے مفلسوں، ناداروں، محنت کشوں اور بے کسوں کے خوابوں کے پیالے میں زہر گھول دیا ۔ بھٹو صاحب کی پھانسی، جب شمسی کی عمر اکیس برس تھی، اس کی زندگی کا سب سے بہت بڑا سانحہ تھا۔ اس قتل نے اس کی شخصیت میں ظالم حکمرانوں کے خلاف ایک’ایسا غصہ’ بھر دیا تھا، جو جلسے جلوسوں میں کسی آتش فشاں کی طرح پھٹتا تو تھا، لیکن پھر اس کے سینے میںدہکنا شروع ہو جاتا تھا۔
ہم جس دور کی بات کررہے ہیں، اس میں ناصر زیدی، ناصر ملک اور پرویز شوکت جیسے سچے، ایماندار اور تجربہ کار صحافی اور ٹریڈ یونینیسٹ رہنما بھی میدان صحافت میں سرگرم تھے، جو سی آر شمسی کے گہرے دوست بنے۔ بعد میں اس فہرست میں فوزیہ شاہدبھی شامل ہوئی؛ اور پھر شمسی کے ہونہارشاگرد طارق عثمانی اور کئی دوست اس قافلے میں آن ملے۔ شمسی اور ناصر ملک کی بڑی گاڑھی اور ذاتی دوستی تھی۔ شمسی اور پرویز کی دوستی بھی مثالی تھی اور دونوں نے اکٹھے آر۔آئی۔یو۔جے اور پی۔ایف۔یو۔جے کی تنظیم اور تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دونوں راولپنڈی۔اسلام آباد میں برنا گروپ کے نوجوان رہنما تھے۔ آصف شبیر اور چوہدری الیاس بھی ان دنوں متحرک تھے۔ ان کے سینئر احمد حسن علوی،ظفر عالم سرور، محمد الیاس، ہمایوں فر، کنور اقبال اور فریدہ حفیظ تھے، جبکہ، پی۔ایف۔یو۔جے کے مرکزی رہنماوں میں منہاج برنا، نثار عثمانی، آئی اے رحمن ، آئی ایچ راشد، حسین نقی ، احمد حسن علوی اور احفاظ رحمن شامل تھے۔ ان سب کا میلان بائیں بازو کی طرف تھا، اور انہوں نے ہر دور میں آزادی صحافت اور جمہوری آزادیوں کے لیے لڑائی لڑی۔
 یہ ضیاء الحق کے خلاف مزاحمت کا دور تھا۔ ایم۔آر۔ڈی جمہوریت کی بحالی کی تحریک شروع کر چکی تھی۔ لوگ سولیاں چڑھ رہے تھے، کوڑے کھا رہے تھے، گرفتاریاں دے رہے تھے، مظاہرے کر رہے تھے۔ ناصر زیدی، مسعود اللہ خان ، اقبال جعفری اورخاور نعیم ہاشمی کو آزادی صحافت کے ‘جرم’ کی پاداش میں کوڑے مارے گئے۔ اس دوران شمسی سوشلسٹ نظریات کی طرف مائل ہو چکا تھا اور یکم مئی کے جلوسوں میں شکاگو کے شہیدوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کا جلال دیکھنے والا ہوتا تھا ۔ ادھرمظاہرین کے’ ‘شکاگو کے شہیدوں کو سرخ سلام” اور”سامراج مردہ باد” کے نعروں سے زمین دہل جاتی تھی۔ شمسی نے آمرانہ دور کا یہ زمانہ حیدر اور تعمیر میں سنسر شپ کے عذاب بھگتے ہوئے اور آمریت سے لڑتے ہوئے گذارا۔
اپنے انتقال سے محض تیرہ دن قبل 4 ستمبر 2021 کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں نثار عثمانی کی برسی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آر شمسی نے اس دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ”ضیاء الحق کا جو مارشل لاء تھا، وہ بہت بدترین تھا۔ اس کے بعد جو حکومتیں آئیں، انہوں نے بھی اپنے رنگ دکھائے، لیکن (ضیاء دور میں) سب کچھ سامنے تھا۔ وہ دشمن ہمارے سامنے تھے۔ وہ پریس ایڈوایس رات کو آتی تھی، وہ تحریری طور پر سامنے آتی تھی، کہ یہ اتاردو، یہ لگادو۔ ہم جو اخبار تیار کرتے تھے، تعمیر اخبار، ہم جب لے کر جاتے تھے، پرل کانٹینینٹل ہوٹل کے سامنے جو اطلاعات کا شعبہ تھا، تو وہ اخبار ہم ایک فوجی کے سامنے، میجر کے سامنے ڈال دیتے تھے، اور وہ کپڑے والی قینچی سے، چند لمحوں میں، اس اخبار کا’ریپ’کر دیتا تھا، اور وہ اخبار برہنہ چھپتا تھا”۔
سی آر شمسی نے اسی تقریر میںکہا: ”پی۔ایف۔یو۔جے کوئی پاکٹ یونین نہیں ہے، یہ حکمرانوں کی جیب میں پڑی کوئی گھڑی نہیں ہے۔ یہ وہ تنظیم ہے جس نے عملا جدوجہد کی ہے۔ ابھی میں نے عبدالحمید چھاپرا صاحب کا ذکر کیا۔ انہوں نے پاکستان کی تیرہ جیلوں میں سزا کاٹی۔۔لیکن سرنڈر نہیں کیا۔ آج وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس تاریخ کو، اس تنظیم کو، جو فلسفہ تھا، اس کو دہرائیں۔ دوستو، نثار عثمانی صاحب کو یاد کرنے کا یہی مقصد ہے۔ یہ جنگ وہی ہے۔ فریڈم آف پریس کا حق کسی وردی والے نے، کسی شیروانی والے نے ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا۔ یہ ہم نے چھینا ہے۔ اس کی حفاظت ہم نے کرنی ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہم جانتے ہیںـ”۔
شمسی کے ساتھ میری رفاقت کوئی تیس برسوں پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا، جب میں اور عالیہ مرزا اور ہمارا دو سالہ بڑا بیٹا 1990 میں لاہور سے ملازمت کے سلسلے میںاسلام آباد وارد ہوئے۔ مجھے چند دن پہلے لاہور میں ایک دن صحافت میں اپنے پیر و مرشد اے۔بی۔ایس جعفری کا کراچی سے فون آیا کہ ”فورا اسلام آباد پہنچو، ہم نیا اخبار شروع کر رہے ہیں”۔ جعفری صاحب کو ‘ناں’ کہنے کی آپشن میری زندگی میں تھی نہیں، لہذا، بوریا بستر لپیٹا، جس میں بوری یعنی صرف دو اٹیچی کیس تھے، بستر کوئی نہ تھا، اور اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ انگریزی روزنامہ’ڈیمو کریٹ’ تھا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ایک ٹاپ کے آدمی اس کو فنانس کر رہے تھے۔اے۔بی۔یس اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ یہاں چوہدری اسحق بھی آگئے، اصحاب نقوی بھی شام کو آجاتے تھے۔ تھوڑی دیر بعد اے۔بی۔ایس اور اصحاب نقوی پی۔پی۔آئی (PPI) میں ابصار رضوی کے پاس چلے جاتے، تب آزاد صحافت کے ایک پرانے زمانے کا یہ صحافتی ‘ٹرپل اے بر یگیڈ’ اکٹھا ہوتا۔۔یہ تینوں دوست زندگی میں تجدید وفاکا ایک باربھر موقع ملنے پر بے حد خوش تھے۔ روزنامہ ڈیموکریٹک6 اگست 1990کوپیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ لیکن، اسی دوران عملے کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے بحران میں سی آر شمسی سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔ پھر یہ تعلق ختم نہ ہوا۔ شمسی اس وقت تک راولپنڈی ۔اسلام آباد میں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کی نمائندہ آواز اور رہنما ، اور اخباری مالکان کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا تھا۔ اس نے ہماری تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے لڑائی لڑی اور اے۔بی۔یس جعفری صاحب کا دل جیت لیا، جو خود بھی ایک زمانے میں ٹریڈیونینسٹ رہ چکے تھے۔
شہید بے نظیر بھٹو کا پہلا دور حکومت سی آر شمسی کی امیدوں کا ایک بار پھر محور بنا۔ بی بی کو سہالہ ریسٹ ہاوس والا شمسی یاد تھا۔ بی بی کو اپنے سارے غمگسار یاد تھے۔ لیکن یہ PPP کااٹھارہ ماہ کا مختصر دور اقتدار تھا۔جلد ہی یہ نئی لڑائیاں لڑنے کا وقت آگیا تھا ۔صحافیوں اوراخباری صنعت کے کارکنوں کے دو بڑے محاذ تھے :صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کی لڑائی کے لیے PFUJ اوراجرتوں اور دیگر سہولیات کے لیے آل پاکستان نیوزپیپرایمپلائز کنفیڈریشن (APNEC)۔ ویج ایوراڈ کی لڑائی تقریبا ہر وقت جاری رہتی اوریہ بڑی کٹھن جدوجہد تھی۔ویج ایوارڈ پر عملدرآمد ایک علیحدہ جنگ ہوتی تھی۔’ٹھیکیدار مالکان’  اور دوسرے مالکان بھی کارکنوں کو تنخواہیں نہیں دیتے تھے۔ ان مقدمات پر عملدراآمد کے فیصلہ کے لیے الگ ہائی ٹریبونل (Implementation Tribunal for Newspaper Emloyees)ہوتا تھا اور ابھی بھی ہے ۔ہم نے اس میں نثار عثمانی، آئی ۔ایچ ۔راشد،شفیع الدین اشرف، پرویز شوکت اور سی آر شمسی کوبے لوث طریقے سے لڑتے دیکھا۔بائیں بازوکے مشہور رہنمااور معروف وکیل عابد حسن منٹو نے ہمیشہ اس لڑائی میں صحافیوںکو بلامعاوضہ قانونی معاونت فراہم کی۔
ہم 1990 کی بات کر رہے تھے ۔ انہی دنوں شمسی کی والدہ کا انتقال ہوا۔ اس سانحے نے شمسی سے اس کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا چھین لیا تھا۔ اس وقت شمسی کی عمر بتیس برس تھی، اور وہ اپنے اردگرد کو نہ صرف پہچان چکا تھااوراس کو بدلنے کی آرزو اس کے سینے میں ٹھاٹیں مارہی تھی، بلکہ وہ اس کے لیے عملا جدوجہد کر رہاتھا۔ میں ڈیموکریٹک کی مرگ ناگہانی کے بعد پاکستان ٹائمز آچکا تھا۔ اب شمسی سے دوستی گاڑھی ہوتی جا رہی تھی۔ آدھی رات کو وہ مجھے لے کر پنڈی صادق آباد کے قبرستان آ جاتا، اور ہم گھنٹوں اس کی ماں کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر سگریٹ پیتے، جس کے دھوئیں کی خوشبو سے سارا قبرستان مہک اٹھتا۔
سارا دن تیز چائے کے نجانے کتنے کپ اور سگریٹ پہ سگریٹ پینا سی آر شمسی کا معمول بن چکا تھا۔ وہ سارا دن، یا رات دن میں جتنا بھی وقت اس کے حصے میں آتا، اپنے ساتھیوں کی شکائتیں سنتا، اخبارات کے مالکوں سے لڑتا جھگڑتا، بیورکریسی کی بے حسی پر سر پٹختا، ہر طرح کے لوگوں سے، جن میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگ، نام نہاد دانشور اور عوامی نمائیندے شامل تھے، ہر طرح کا جھوٹ سنتا۔ ہر طرح کی منافقت  کو سہتا، اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری تھا۔ منافقت کی مٹی سے بنے اس شہر میں بار بار جھوٹ کا سامنا، حکمرانوں کی بدبودار ڈھٹائی، اشرافیہ کا کروفراور ان کے ہاتھوں لوگوں کی تذلیل وہ تب سے دیکھ رہا تھا، جب ضیاء الحق نے1977 میں عوامی رائے کو روندتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔
تب سے،جوں جوں رات ڈھلتی سی آر شمسی کے سینے کی جلن بڑھنا شروع ہو جاتی، لیکن اس کے مزاج کی کڑواہٹ کم ہونا شروع ہو جاتی۔ وہ رات کا مسافر تھا اور چاند کے ساتھ ساتھ چلتا تھا، اور یہ احساس کہ کم از کم چاندنی تو دروغ گوئی نہیں کرے گی، اس کے لیے اطمینان بخش ہوتا۔ اور یہ احساس بھی کہ سارا دن منافقت کا سودا بیچنے والے لمبی تان کر سو رہے ہیں، کوئی جھوٹ اس کا راستہ نہیں کاٹے گا، اس کے چہرے پر موجود تناو کو کم کر دیتا۔ اور یہ کہ اب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ہے، جن کے ساتھ وہ پرانی یادیں اور نئی باتیں شئیر کرے گا، سگریٹ پیئے گا، اس کے دھوئیں میں کھل کر سانس لے گا، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی، اسے معلوم تھا کہ اس کے سینے کی جلن  عارضی ہے، ختم ہو جائے گی، دوستوں کی صحبت دائمی ہے، ہمیشہ رہے گی۔
سی آر شمسی کے ساتھ ایسی صحبت مجھے برسوں میسر رہی۔ یہ زماں و مکاں سے ماورا جیسی کیفیت سے ملتی جلتی نشست ہوتی۔ اس دوران ہم بادلوں پر تیرتے، دانشوریت کا کچومر نکالتے، وقت کو منجمد کرتے اور خاموشی کی زبان میں بات کرتے۔ وہ آتے ہی، جب دن والے شمسی کی فرسٹریشن عروج پر ہوتی تھی، کہتا ”ایہہ کی اے، مرزا صاب!”(یہ کیا ہے!)۔ یہ وہ روزانہ کہتا تھا۔ ”کیامیں پتھر ہوں، کیا میرے سینے میں دل نہیں”، وہ کہتا، اور کہتا ”بڑی منافقت ہے، مرزا صاب”آہستہ آہستہ اس کے سینے کی جلن ختم ہو جاتی، وہ پرسکون ہو جاتا۔ وہ پرانی باتیں یاد کرتا، اپنے تازہ لکھے ہوئے کالم کا ذکر کرتا۔شمسی اس کا تخلص تھا، جو خود اس نے باضابطہ شاعر نہ ہونے کے باوجود اپنے لیے چنا تھا۔ طبعیت اگرچہ اس کی شاعرانہ تھی، لہذاگفتگو کے اس موقع پر س کے اندرکاشاعر برآمد ہوتا، وہ پھولوں، پتیوں، خوشبووں اور رنگوں کی باتیں کرتا۔ بحث کے اس مرحلے پر عالیہ مرزا شامل گفتگو ہو جاتی اور بات سیاست اور حالات حاضرہ سے نکل کر شعر وادب کی طرف چلی جاتی۔
 اے۔بی۔ایس جعفری ڈیموکریٹک خاتمے کے ایک دو برس بعد غالبا 1992-1993 میں روزنامہ ‘دی مسلم’کے ایڈیٹر بن کر آئے تو مجھے بھی وہیں بلا لیا۔ یہاں اس وقت اسلام آباد میں انگریزی صحافت کے سب گوہر نایاب جمع تھے۔ فرہاد زیدی مینیجنگ ایڈیٹرتھے۔ ایرک سپرین ، خالد اختر، احمدخالد، احمد حسن، محمد یسین، عروسہ عالم، خان نثار خان، قمر عباس، تراب نقوی ،حسن رابع، شکیل شیخ، ابصار عالم، چوہدری اسحق، حیدر رضوی، ثمینہ نذیر،نبیلہ اسلم ،سعدباجوہ،مبارک ورک، طاہر دھنسا اور فخر عباس جیسے ستارے جگ مگ کررہے۔فہد حسین نئے نئے آئے تھے۔ مشاہد حسین سید اور ملیحہ لودھی اس سے قبل اس اخبار کی اعلی اور آزادانہ صحافت کو سیراب کر کے جا چکے تھے۔ اخبار کے مالک اور پبلشر آغا مرتضی پویا تھے، لیکن، جس دور کی ہم بات کر رہے ہیں، اس وقت اخبار کا انتظام ان کے بیٹے نے سنبھال رکھا تھا، سنبھالنا کیا، تباہ کر رکھا تھا۔ایک موقع پرجب تنخواہوں کے حالات زیادہ کشیدہ ہو گئے، توجعفری صاحب ایک روز شام کو گھر جانے سے پہلے نیوز ڈیسک پر آئے اور میرے کان میں کہا ــ”شمسی کو فون کرو”۔ جس ٹریڈیونینسٹ کا مداح اے ۔بی۔ایس ہو ، اس کا کیا مقام ہو گا!
انہی دنوں آر۔آئی۔یو جے (برنا گروپ) کااحیاء ہو۔ اس سے پہلے اس کے انتخابات اندرون خانہ قسم کی کاروائی ہوتے تھے۔ انہی دنوں کے متعلق، مجھے شمسی اور پرویز نے کئی بار بتایا کہ انہوں نے اپنے بڑوں کو متعدد بارکہا کہ وہ ‘شیشے کے گھر’ سے باہر نکلیں اور تنظیم کو جمہوری بنائیں، لیکن انہیںشنوائی نہ ہوئی۔ اس دوران ایک انقلابی واقعہ پیش آیا۔ دی مسلم کے تین چار نوجوان صحافیوں، حیدر رضوی، مرتضی ، ثمینہ نذیر، نبیلہ اسلم اور چوہدری اسحق نے پہل قدمی کرتے ہوئے آر۔آئی۔یو۔جے کی جنرل باڈی کا اجلاس اسلام آباد کے روز اینڈ جیسمین گارڈن میں طلب کر لیا، اور دی مسلم میں اس کی پریس ریلیز چھپ گئی۔ مقررہ دن روز اینڈ جیسمین میں کوئی دو تین سو صحافیوں کا ہنگامہ برپا تھا۔ سینئر قیادت بھی موجود تھی، شمسی صاحب فائلوں کا ایک جتھاہاتھوں میں سنبھالے موجود تھے، پرویز شوکت،احمد خالد، فوزیہ شاہد اور بے شمار ساتھی آئے۔ نئی رکن سازی، رکنیت کی فہرست، نئے انتخابات اور شیڈول۔جیسے اہم امور بحث و مباحثے کے بعد اتفاق رائے سے طے پا گئے۔
چنانچہ، 1992 میں آر۔آئی۔یو۔جے کے جو انتخابات ہوئے، اس میں سی آر شمسی صدر اور پرویز شوکت جنرل سیکریڑی منتحب ہوئے۔ یہ صحیح معنوں میں الیکشن تھے، ایسے الیکشن نہ یونین میں پہلے ہوئے تھے نہ بعد میں ہوئے۔ چار پینل پورے جوش و خروش سے اس میں حصہ لے رہے تھے: سی آر شمسی ، احمد خالد ، راو خالد اور قاضی فیصل کے الگ الگ پینل تھے ۔ شمسی کے پینل نے انتخابات بھاری اکثریت سے جیت لیے، ماسوائے ایک نشست کے، جس پراحمد خالد کے پینل سے فوزیہ شوکت نے سینئر نائب صدر کی نشست حاصل کی۔ آئندہ برس، 1993 میں شمسی اورپرویز دونوں پھر ان عہدوں پر منتحب ہوئے۔اس سے اگلے برس 1994 میں فوزیہ شاہد صدریونین کی صدر منتخب ہوئیں، لیکن ، شمسی اور پرویز کے پینل سے۔ آئندہ دو برسوں ، 1995 اور 1996میں پرویز شوکت صدر بنے اور شمسی صاحب گورننگ باڈی میں آگئے۔ ناصر زیدی اورمجھے ، ایک دو اور ساتھیوں کے ہمراہ اکثر ان انتخابات میں الیکشن کمیٹی کے چئیرمین اور ارکان کے فرائض انجام دینے پڑتے تھے۔
یہ پرنٹ جرنلزم کے عروج کا زمانہ تھا۔صحافتی ٹریڈیونین ازم بھی منظم اورمتحرک تھی۔جمہوریت، جیسی تیسی، لوٹ آئی تھی، اگرچہ اس کے سر پر 2B 58 کی تلوار لٹک رہی تھی۔ یہ دو حکومتوں کی گردن کاٹ چکی تھی۔ پریس ایڈوئس بھی نکلتی تھی، لیکن معاشرہ گیارہ سالہ آمریت کے فالج زدہ اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سی آر شمسی نے ستمبر 1992 میں روزنامہ خبریں جوائن کیا، جب اس کا اسلام آباد سے اجراء ہوا۔ پھر وہ روزنامہ اوصاف میں آگیا۔ خوشنود علی خان اور حامد میر، ان اخبارات کے ایڈیڑ تھے،اوراس کے دوست بھی تھے۔ اوصاف کے دنوں میں شمسی کی حوصلہ افزائی پر عالیہ مرزا نے اپنا صحافتی کیرئیر شروع کیا اور ادبی صفحہ کے لیے کشور ناہید کا طویل انٹرویو کیا، پھر وہاں کالم نگاری شروع کی۔میں اس وقت APP میں فیچر رائٹر کی حیثیت سے کا م کر رہا تھا۔ جب وہاں اظہر سہیل نے پوری یونین کو برطرف کردیا تو اس کے خلاف مظاہرے اور ہڑتال شروع ہو گئی۔ شمسی کے منع کرنے کے باوجود میری اس میں شمولیت کے باعث اظہر سہیل نے مجھے وہاں سے نکال دیا، اور جیسا کہ شمسی اکثر کہا کرتا تھا کہ ”ہم پھر سڑک پر آگئے”۔ میرا تقریبا پورا صحافتی کیرئیر اے۔بی۔ایس جعفری کے سایے تلے پروان چڑھا۔ جب وہ ایڈیٹر ہو کرروزنامہ ”پاکستان آبزرور” آئے تو ہم بھی نیوزایڈیٹربن کر وہاں پہنچ گئے۔ یہاں بھی انگریزی صحافت کے نادر ہیرے تراشے گئے؛ عدنان رحمت، ہارون رشید، کامران رحمت، آصف شبیر (یہ پرانے ہیرے ہیں)اور منیر احمد،جو آج کل بھی صحافت کے افق پر جگمگا رہے ہیں۔APP  اور پاکستان آبزرور کے تنخواہوں کے بحرانوں میں شمسی اوراس کے ساتھیوں نے کارکنوں کی حمائت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
اسی دوران شہید بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور اقتدار شروع ہوا، جو قدرے مستحکم تھا۔ شمسی بی بی کے ہر بیرونی دورے میں صحافیوں کے وفد میں شامل ہوتا تھا، اور کوئی بیرونی دورہ ہوتا، یا کوئی غیرملکی وفد پاکستان کا دورہ کر رہا ہوتا، ظہرانے یا عشائیے کی تقریب میں بی بی اپنی آمد اور ادھر ادھر دیکھنے کے بعد یہ ضرور پوچھتیں، ”شمسی کہاں ہیں”؟۔ تب ان کی گول میز پر اضافی کرسی لگائی جاتی یا کسی وزیر، مشیر یا سیکریٹری کو کرسی خالی کرنا پڑتی۔ بی بی شہید اپنے کارکنوں، جیالوں اورہمدردوں کو جانتی اور پہچانتی تھیں، اور ان کی قدر کرتی تھیں۔ وہ زندہ ہوتیں تو شمسی کے انتقال پر تعزیت کے لیے خود اس کے گھر تشریف لے جاتیں؛  دکھ ، سکھ ایک ہی جذبے کی دو شکلیں ہیں؛ ایک کی قیمت پر دوسرے کو حاصل یا قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اس عرصہ میں سی آر شمسی نے پاکستان، انتخاب، کاوش اوراذکار میں کام کیا اور اپنا  ہفت روزہ ‘پاکستانی’ بھی نکالا۔
راولپنڈی پریس کلب کے کنٹرول کے لیے برنا اور دستور گروپوں کے انتخابی معرکے ملک کے عام انتخابات سے کم اہم نہ ہوتے تھے۔  دستور گروپ کے نواز رضا انتخابی سیاست کے ماہر تھے، اور انہوں نے کئی برسوں تک پریس کلب پر اپنا اقتدار برقرار رکھا ،اگرچہ ہر سال برنا گروپ کوئی ایک آدھ مرکزی عہدہ اور گورننگ باڈی کی چند نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوجاتا۔اس کا سہرا مشتاق منہاس اور بعد ازاں افضل بٹ کو جاتا ہے کہ انہوں نے طاقت کا توازن برنا گروپ کے حق میں بدلنے میں کلیدی کردار کیا، دیگر ساتھیوں کی جدوجہد اور قربانیاں اپنی جگہ۔
1999 میں سی آر شمسی PFUJ  کے سینئر نائب صدر اور آئی ۔ایچ۔راشد صدر منتخب ہوئے۔ 2002  میںاحفاظ رحمن PFUJ  کے صدر اور سی آر شمسی اس کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ شمسی کو اب ایک چوتھے مارشل لاء کے عذاب کا سامنا تھا۔ یہ اس کے لیے شدید اضطراب کا دور تھا، جس کا سلسلہ صرف اس وقت ٹوٹا، جب ملک میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک شروع ہوئی۔
آر۔آئی۔یو۔جے اور پی۔ایف۔یو جے کی قیادت میں ناصر زیدی،سی آر شمسی، پرویز شوکت، بلال تھہیم، فوزیہ شاہد، ناصر چشتی ، شہر یار نے اپنے ساتھیوں سمیت راولپنڈی۔اسلام آباد میں ان برسوں میںبہت سی لڑائیوں کے علاوہ اخباری کارکنوں کی جو بڑی لڑائیاں لڑیں، ان میں اے۔پی۔پی (APP) کی یونین کی برطرفی کے خلاف جدوجہد کے دوران قومی اسمبلی کی پریس گیلری کا تاریخ میںانیس روزہ طویل ترین بائیکاٹ شامل تھا۔ اس کے علاوہ دی مسلم کے صحافیوں اور اخباری کارکنوں کے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف کئی ماہ پر مشتمل جدوجہد تھی۔ آنے والے برسوں میں RIUJ، PFUJ اور نیشنل پریس کلب نے ملک کے باقی پریس کلبوں اور یونینوں کے ساتھ مل کر آزادی صحافت پر ہونے والے ہر حملے کی بھرپور مزاحمت کی اور آزادی اظہار رائے کا پرچم بلند رکھا، جس کوآج کل شہزادہ ذوالفقار، ناصر زیدی، افضل بٹ، مظہر عباس، شکیل انجم، قمر بھٹی، فوزیہ شاہد، پرویز شوکت ، ایوب جان سرہندی، مائرہ عمران اور انور رضا نے مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔
سی آر شمسی ایک ایماندار صحافی، بااصول ٹریڈیونینسٹ، بدمست ڈکٹیٹروں سے ممنوعہ سوالات پوچھنے والا رپورٹر،سماج کو بدلنے کی خواہش رکھنے والا انقلابی نظریات کا حامل سیاسی کارکن، نوکری کی تلاش میں سرگرداں اور نوکری سے برطرف کر دیے جانے والے صحافیوں اور کارکنوں کے لیے امید کی کرن ، پلوں کے نیچے اور سڑکوں کے کنارے پڑے بے آسرالوگوں کی مدد کرنے والا شخص اورد وستوں کا دوست تو تھا ہی ، وہ سرکار بری امام کا مجاور اور سید پور کی درگاہ کا فقیربھی تھا۔ وہ پتوں، پھولوں، فصلوں کی مہکتی خوشبووں کا اسیربھی تھا اور چاند کا دیوانہ بھی۔لیکن، وہ ایک پیار سے لبریز شفیق باپ اور شوہرسب سے پہلے تھا۔
شمسی کے بیٹے ذیشان نے 20 ستمبر کو فیس بک پر اپنے والد کومخاطب کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں لکھا:”پیارے ابو جی، قدم قدم پر آپ یاد آئیں گے، جب قدم لڑ کھڑائیں گے تو آپ بہت یاد آئیں گے۔ پیارے ابو جی، اب جب راستے دھندلائیں گے تو اپ بہت یاد آئیں گے، پیارے ابو جی، وہ پھول جو بھیجا کرتے تھے پیار بھرا، وہ پھول کہاں سے لاؤں گا، پیارے ابو جی، جب سرد برفیلی ہواؤں کے تھپیٹرے مجھ کو پڑتے تھے، گلے میں مفلر لپیٹ لو بیٹا، وہ پیغام بہت تڑپائیں گے۔ پیارے ابو جی،جب سورج گرمی برساتا تھا، سٹرکوں پر لو چلتی تھی، پانی کی بوتل لے لو شانی، وہ پیغام بہت رولائیں گے، پیارے ابوجی، جب شام پڑے گی تو کون کہے گا اب تک گھر کیوں نہیں آئے تم۔۔۔پیارے ابو جی،  اب کون کرے گا وہ شفقت، کون کرے گا وہ چاہت، پیارے ابو جی، صبح سویرے جب جانا، چپکے سے وہ بوسہ آپکا لے جانا، اب کے لوٹوں گا تو کس کا چہرہ چوموں گا، کس کو گلے لگاؤں گا!”۔ یہی جذبات ثمن ، سلطان، عدنان، سعد اورشمسی کی بہووں کے تھے۔ رضیہ شمسی کو تو آج دو ماہ بعد بھی یقین نہیں آرہا کہ وہ ہم سے بہت دور جا چکا ہے۔
 اپنی 4 ستمبر 2021 کی تقریر میں وہ کہہ رہا تھا :”لیکن جو سچ ہوتا ہے، جو سچائی ہوتی ہے، وہ ہمیشہ رہتی ہے۔ حکمران تباہی پھیلاتے ہیں، معاشرے کھنڈر بن جاتے ہیں، لیکن، وہاں بھی دوبارہ کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ آزادی صحافت وہ خوشبو ہے جو ہمیشہ رہتی ہے”۔ 17 ستمبر کو وہ ایک خوشبو کی طرح فضا میں پھیل گیا، جو ہمیشہ ہمارے درمیان رہے گی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments