کھلا خط بنام گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور


السلام علیکم!

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ صحافت کا طالبعلم ہونے کے ناتے میرا آپ سے کوئی سیاسی یا خاندانی تعلق ہرگز نہیں مگر علاقائی تعلق ضرور بنتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ زمانہ طالب علمی اور دور لاعلمی میں آج کی برسر اقتدار پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ بطور متحرک سیاسی کارکن میری کئی سال وابستگی ضرور رہی ہے۔ برے وقت میں پارٹی کی فعالیت اور مقبولیت کے لئے اپنی صحافتی حدود و قیود کی پرواہ کیے بناء خوب ڈٹ کر لکھنے سے بھی کبھی گریز نہیں کیا تھا۔

چلیں خیر بات کسی اور طرف نکل گئی، گزارش ہے کہ تعلیم کو کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا ضامن تصور کیا جاتا ہے۔ تعلیم اور انسانیت کا تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ انسانی تاریخ۔ رفتہ رفتہ انسان مختلف علوم میں ترقی کرتا رہا اور آج کی دنیا سائنسی علوم کی بدولت چاند اور مریخ پر پہنچ چکی ہے۔ تعلیم وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے کسی بھی معاشرے کی اقدار، روایات، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کی جاتی ہیں۔

تعلیم صرف تدریسی عمل کا نام نہیں بلکہ اس کے ذریعے معاشرے کی تشکیل و اصلاح بھی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم نا صرف معاشرے کے افراد میں زندگی گزارنے کا احساس و شعور بیدار کرتی ہے بلکہ انہیں سماجی سانچے میں ڈھالنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم کو عمرانیات میں تربیت کے دوسرے بڑے ادارے کی حیثیت حاصل ہے جس سے زندگی میں کچھ حاصل کرنے کی مہارتیں اور آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کسی بھی ملک میں اعلیٰ تعلیم سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے لہذا اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جامعات کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت پورے ملک میں صرف ایک ہی یونیورسٹی تھی، جسے ہم جامعہ پنجاب کے نام سے جانتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں اگر میں غلط نہیں ہوں تو کم وبیش 217 یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان میں سے 134 سرکاری یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے ہیں جبکہ باقی نجی شعبے نے قائم کیے ہوئے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ پنجاب کے کچھ اضلاع میں بھی نئی جامعات کی تعمیر شروع ہونے کے قریب ہے۔

آپ کا ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی ان میں شامل ہے جہاں تحصیل کمالیہ میں صوبائی وزیر برائے ویمن ڈیویلپمنٹ آشفہ ریاض فتیانہ کی کاوشوں سے یونیورسٹی آف کمالیہ کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری ہو چکی ہے۔ سب سے بڑھ کر زرعی یونیورسٹی آف فیصل آباد ٹوبہ ٹیک سنگھ کیمپس کو بھی سابق ضلع ناظم چوہدری محمد اشفاق کی کاوشوں کی بدولت مبینہ اطلاعات کے مطابق مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ آپ کی دعاؤں اور شفقت کی بدولت ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ اس معاملہ میں خوش نصیب ہے کہ اب مستقبل قریب میں یہاں دو مکمل یونیورسٹیاں قائم ہوں گی اور طلبہ کی اکثریت کو تعلیم کے حصول کے لئے لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

مکمل یونیورسٹی یا سب کیمپس کسی بھی تحصیل یا شہر میں قائم ہو اس کی تعمیر کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی کیونکہ یہی ادارے لوگوں کو قوم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سکول و کالج تک سوچ نصاب کی پابند ہوتی ہے جبکہ یونیورسٹیز لیول پر نصاب سوچ کا پابند ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف کمالیہ اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ٹوبہ ٹیک سنگھ کیمپس کو مکمل جامعہ کا درجہ دینے کی منظوری صوبائی وزیر آشفہ ریاض فتیانہ اور سابق ضلع ناظم چوہدری محمد اشفاق کے وہ کارنامے ہیں جن کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گیں۔

ڈیئر چوہدری محمد سرور، کمالیہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بیچ میں آپ کا آبائی شہر پیر محل بھی پڑتا ہے جہاں پر سابقہ دورحکومت میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کا سب کیمپس بنانے کی منظوری ہوئی جس کی فزیبلٹی بھی مکمل ہو کر حکومت کو چلی گئی تھی مگر تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد مذکورہ منصوبہ کھٹائی کا شکار ہو گیا۔ سیاسی تعصب جیسے آسیب کے شکار کچھ سادہ لوح لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مذکورہ سب کیمپس کو کمالیہ منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ ایسی من گھڑت باتوں میں کسی قسم کی کوئی حقیقت نظر نہیں آتی۔

تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو کمالیہ میں تو 1 ارب روپے کی لاگت سے الگ سے مکمل یونیورسٹی قائم ہونے جا رہی ہے اور یونیورسٹی آف کمالیہ کا یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور پیر محل کیمپس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا اور دونوں الگ الگ منصوبے ہیں۔ خیر یہ ایک لمبی بحث ہے مگر باشعور لوگ اس بات کو بخوبی سمجھتے اور جانتے ہیں۔ ساری تمہید باندھنے کا مقصد آپ کی توجہ کھٹائی کا شکار ہوئے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور پیر محل کیمپس منصوبے کی طرف مبذول کروانا ہے۔

اگر ایک صوبائی وزیر یا سابق ضلع ناظم اپنے شہروں میں آپ سے مکمل جامعات کی تعمیر کی منظوری لے سکتے ہیں تو آپ اپنے آبائی شہر میں یونیورسٹی کا سب کیمپس تعمیر کیوں نہیں کروا سکتے حالانکہ کچھ ماہ قبل پیر محل میں ریسکیو 1122 دفتر کے افتتاح کے موقع پر آپ نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ مذکورہ سب کیمپس ضرور تعمیر ہو گا مگر آپ کی عدم توجہی نے تو پیر محل کے باسیوں کو مایوسی کے اندھیروں میں ہی دھکیل دیا۔ ویسے بھی ایک صوبائی وزیر یا سابق ضلع ناظم کا آپ کے ساتھ موازنہ کسی صورت بھی موزوں نہیں ہے مگر بات صرف اور صرف احساس کی ہے۔

محترم چوہدری محمد سرور، جب آپ دوسری بار پنجاب کے گورنر بنے تو ہم تو خوشی سے جھوم ہی اٹھے تھے کہ اس بار آپ ایک با اختیار گورنر ہوں گے اور یہ چھوٹے موٹے سب کیمپسز کی تعمیر کی منظوری تو آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گا مگر ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ عرض ہے کہ میں تو اپنی 23 سالہ تعلیمی اننگز کامیابی کے ساتھ کھیل چکا مگر مسئلہ آنے والی نوجوان نسل کا ہے جو آپ سے بہت ساری امیدیں باندھ کر بیٹھی ہوئی ہے۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ اگر میرا خط آپ کے ایلچیوں نے آپ تک پہنچا دیا اور آپ کو کوئی بات ناگوار گزر گئی تو میرے لئے مشکلات بھی کھڑی ہو سکتی ہیں مگر میں سچ لکھنے کی عادت کے ہاتھوں مجبوریوں اور اپنے قلم سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور پیر محل کیمپس کا مقدمہ بلاخوف و خطرہ لڑتا رہوں گا۔ آپ بھی دل بڑا کرتے ہوئے ریسکیو 1122 کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر پیر محل کے لوگوں سے مذکورہ کیمپس کی تعمیر کا کیا گیا وعدہ پورا کریں۔

والسلام
ڈاکٹر ساجد حسین ولد چوہدری محمد حسین سکنہ پیر محل

Facebook Comments HS