یہ اعتبار کا نہیں، نا اہلی اور سیاسی ناکامی کا معاملہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز منی بجٹ منظور کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے تحریک انصاف کے پارلیمانی گروپ کی میٹنگ میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان ہونے والی نوک جھونک کی رپورٹنگ کے بعد پرویز خٹک نے اس رپورٹنگ کو غلط قرار دیتے ہوئے عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اجلاسوں میں اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے لیکن عمران خان ان کے لیڈر ہیں۔ کسی کو لیڈر ماننا یا اس پر اعتبار کرنا یا نہ کرنا پرویز خٹک یا کسی بھی شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ تاہم موجودہ حکومتی طریقہ کار کے بارے میں اب یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اب معاملہ اعتبار کا نہیں بلکہ حکومت کی نا اہلی اور سیاسی ناکامی کا ہے۔

گورننس کے خراب معاملات کی گونج گلی کوچوں سے ہوتی ہوئی سپریم کوٹ کے عدالتی کمرے تک پہنچ چکی ہے۔ حالات اس قدر دگرگوں ہیں کہ نہ تو حکومت کا کوئی اعتبار ہے اور نہ ہی یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ بدانتظامی اور بے یقینی کی صورت حال میں قوی معیشت، عوامی بھروسے، جمہوری انتظام اور حکومتی ڈھانچے پر مرتب ہونے والے منفی اور ضرر رساں اثرات سے کیسے باہر نکلا جا سکے گا۔ جمہوری اصول کے مطابق موجودہ حکومت کو پانچ برس تک برسر اقتدار رہنے کا حق حاصل ہے لیکن ملک میں پارلیمانی نظام حکومت ہے۔ اس نظام میں کسی انتخاب کے بعد حکومت کو پانچ برس تک حکومت کرنے کا حق ضرور ملتا ہے لیکن آئین کسی حکومت کو لازمی طور سے یہ مدت پوری کرنے کا پابند نہیں کرتا۔ وزیر اعظم ضروری سمجھے اور حکومت پر عوام کے اعتبار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہو تو پانچ سال کی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے بھی انتخاب منعقد کروائے جا سکتے ہیں۔ عمران خان کو اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ اگر اپوزیشن نے پنجاب یا قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی سنجیدہ کوشش کی یا وزیر اعظم کو یہ اندیشہ ہوا کہ اسٹبلشمنٹ کسی ممکنہ ’عدم اعتماد‘ کی صورت میں 2018 میں قائد ایوان کے چناؤ کے موقع کی طرح پوری استقامت سے ان کے پیچھے کھڑی نہیں رہے گی اور اپوزیشن حکومتی اتحاد میں رخنہ ڈال کر عدم اعتماد منظور کروانے میں کامیاب ہو سکتی ہے تو وہ خود ہی اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات منعقد کروا لیں گے۔ عمران خان نے ابھی تک یہ اقدام نہیں کیا حالانکہ اب اپوزیشن جماعتوں میں تحریک عدم اعتماد کے بارے میں پہلے سے زیادہ اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ حکمران جماعت میں بھی بغاوت کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں جس کی محض ایک غیر مصدقہ جھلک ہی ان خبروں میں دیکھی جا سکی ہے جو گزشتہ روز تحریک انصاف کے پارلیمانی اجلاس کے بارے میں سامنے آئی تھیں۔

عمران خان متعدد امور پر دو ٹوک اور یک طرفہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کرپشن کی آڑ میں انتقامی کارروائیاں جاری رکھنے کے علاوہ بھی بعض ایسے بنیادی معاملات شامل ہیں جن کا قومی مفادات، علاقائی ممالک اور دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر وسیع المدت اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں طالبان کی حکومت سے برتی جانے والی شیفتگی اور کابل کے ترجمانوں کی طرف سے پاک افغان سرحد پر تعمیر کی گئی باڑ کے بارے میں تلخ نوائی پر حکومت کی نرمی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر نہ تو حکومت کی پالیسی واضح ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی کے اس اہم ترین پہلو پر پارلیمنٹ میں بحث کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے ماہرین کے علاوہ عوامی نمائندے اور سول سوسائٹی کے ارکان شدید تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن حکومت اپنا طریقہ تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

معاملہ کی سنگینی کا اندازہ سامنے آنے والے متضاد بیانات سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے چند روز پہلے اعلان کیا تھا افغان سرحد پر باڑ لگانے کا 96 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی ماندہ چار فیصد کام بھی جلد پایہ تکمیل کو پہنچے گا کیوں کہ اس کام میں ہمارے جوانوں اور افسروں کا خون شامل ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڑ سے آمد و رفت کنٹرول کرنے کے علاوہ تجارت کو ریگولرائز کیا جائے گا۔ اس کے برعکس تھوڑی دیر پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سرحد پر باڑ لگانے کا باقی ماندہ کام افغان حکومت کی رضامندی سے ہی مکمل ہو گا کیوں کہ ہم ’بھائی بھائی‘ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے اور صرف 21 کلو میٹر علاقے میں باڑ کا کام باقی ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ بیان پاک فوج کے ترجمان کے دعوے کی تردید کرتا ہے۔ جہاں تک طالبان لیڈروں کا تعلق ہے تو وہ تسلسل سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کو ’غیر قانونی اور غیر اخلاقی‘ قرار دے رہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس باڑ کے ذریعے سرحد کے دونوں طرف آباد پشتونوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طالبان کی طرف سے باڑ اکھاڑنے اور پاکستانی فوجیوں سے بدسلوکی کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔

پاکستان تحریک طالبان کے ساتھ معاہدے اور انہیں عام معافی دے کر ازسر نو پاکستانی شہریوں کے طور پر زندگی شروع کرنے کا معاملہ بھی اہم ہے۔ عمران خان کی حکومت مسلسل ناکامیوں اور کابل حکومت کی لاتعلقی کے باوجود ابھی تک اس منصوبے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ٹی ٹی پی پر 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ہلاک کرنے اور پاکستانی آئین کو مسترد کرنے کے الزامات ہیں۔ اس کے باوجود عمران خان اور ان کے ترجمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے جسے بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جائے گا۔ اس سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ معاہدہ کو بھی اہم اور ضروری قرار دیا گیا تھا حالانکہ اس گروہ نے بھی براہ راست حکومتی رٹ اور ریاستی اختیار کو چیلنج کیا تھا۔

وزیر اعظم نے آج افغانستان پر ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں کسی انسانی بحران کی روک تھام کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ اس سلسلہ میں دوست ممالک سے رابطہ کر کے مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ ہدایات ایک ایسی حکومت کا سربراہ دے رہا ہے جس نے ایک روز پہلے ہی آئی ایم ایف کی سخت شرائط پوری کرنے کے لئے ضمنی بجٹ منظور کروایا ہے جس کے تحت عائد کیے جانے والے محاصل سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے جمعہ کو نئی پانچ سالہ قومی سلامتی پالیسی کے بعض حصے عام کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ابتر معاشی حالات کی وجہ سے ملک کو بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے اور اس کی شرائط مان کر سلامتی پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے‘ ۔ عمران خان کی یہ باتیں اگرچہ غیر واضح ہیں لیکن ان سے اپوزیشن لیڈروں کے ان الزامات کی تائید ہوتی ہے کہ حکومت نے منی بجٹ کی صورت میں اہم قومی مفادات پر سودے بازی کی ہے۔ دریں حالات وزیر اعظم کو ’حکیم ملت‘ بن کر فلسفہ بیان کرنے کی بجائے یہ واضح کرنا چاہیے تھا کہ ان کی حکومت قومی سلامتی کے کون سے پہلوؤں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور موجودہ حکومت کیسے سابقہ حکمرانوں پر اس کا الزام عائد کر کے خود اپنی ذمہ داری سے انکار کر سکتی ہے؟

نئی قومی سلامتی کمیٹی کو عوام کی معاشی سلامتی کا منشور بتایا جا رہا ہے لیکن نصف سے زائد حصہ خفیہ رکھ کر حکومتی حکمت عملی کے اہم ترین پہلوؤں کو عوام سے چھپایا بھی جا رہا ہے۔ اپوزیشن کے بار بار اصرار کے باوجود اس نام نہاد پہلی قومی سلامتی پالیسی کو بحث یا غور وخوض کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے سے بھی گریز کیا گیا ہے۔ اس دوران بعض بھارتی چینلز پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے یہ رپورٹیں نشر کر رہے ہیں کہ اس پالیسی کے تحت پاکستانی حکومت آئندہ ایک سو سال تک بھارت کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی قائم رکھنا نہیں چاہتی اور مقبوضہ کشمیر پر اپنی حکمت عملی سے بھی رجوع کر لے گی۔ پاکستانی وزارت خارجہ یا قومی سلامتی کے مشیر کی جانب سے ابھی تک ان خبروں کی تردید نہیں کی گئی۔ اس لئے ان معاملات پر بے چینی پیدا ہوتی ہے اور یہ تاثر تقویت پکڑتا ہے کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں سفارتی و سیاسی پسپائی اختیار کر  رہا ہے۔

اس وقت حکومت کی بھارت پالیسی بھارتی ذرائع سے سامنے آنے والی خبروں کے برعکس ہے۔ سال بھر پہلے وفاقی کابینہ بھارت کے ساتھ اس وقت تک کسی بھی قسم کی تجارت بحال کرنے سے انکار کر چکی ہے جب تک نئی دہلی سرکار مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس نہ لے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے سیاسی بیانات پر سخت احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ پاکستان نے یہ دو ٹوک موقف بھی اختیار کیا ہے کہ بھارت جب تک کشمیر کی آئینی حیثیت بحال نہیں کرتا، پاکستان اس کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ پالیسی بجائے خود ملک میں سیاسی تنازعہ کا سبب بنی ہوئی۔ اب نئی قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے سامنے آنے والی افواہوں کے ہجوم نے حالات کی سنگینی میں اضافہ کیا ہے۔

عمران خان کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے معاشی اصلاح کے ٹھوس اقدامات کیے ہیں اور تمام معاشی اشاریے مثبت ہیں اور ملکی معیشت رو بہ اصلاح ہے۔ اس کے برعکس اپوزیشن اور ماہرین ملکی معیشت کو پریشان کن تنزلی کی طرف گامزن بتاتے ہیں۔ عمران خان کے مقرر کردہ ایف بی آر کے ایک سابق سربراہ تو پاکستان کو عملی طور سے دیوالیہ قرار دے چکے ہیں۔ اس تجزیہ کا بھی کوئی سرکاری جواب سننے میں نہیں آیا تھا۔ کسی بھی وزیر اعظم کو ان حالات میں عوام سے براہ راست اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہونی چاہیے۔

عمران خان کہتے ہیں کہ وہ صرف عوامی مفاد میں مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن اس وقت انہیں اپنے طور پر فیصلے کرنے کی بجائے نئے انتخابات کروا کے عوام سے پوچھنا چاہیے کہ ان کی عمران خان کی انقلابی سوچ اور طرز حکمرانی کے بارے میں کیا رائے ہے۔ اگر انہیں دوبارہ حکومت کرنے کا مینڈیٹ مل جاتا ہے تو اپوزیشن کی زبانیں خود ہی بند ہوجائیں گی۔ اور اگر کسی نئے انتخاب میں عوام موجودہ حکومت کو مسترد کر دیتے ہیں تو عمران خان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان سے کہاں اور کیا غلطی سرزد ہوئی تھی۔ البتہ دونوں صورتوں میں ملک ایک مشکل اور پیچیدہ بحران سے باہر نکل سکے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان اعتماد حاصل کرنے کے لئے عوام کے پاس جانے کے لئے تیار ہیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2078 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments