ملاقاتیں لندن میں، زلزلہ اسلام آباد میں


فرض کیا جائے کہ عدل و انصاف کی بے پناہ خواہش کچھ ایسے بال و پر لائے کہ ہر چور اچکا، نو دریافت شدہ ’مدینہ ریاست‘ کی مکمل دسترس میں آجائے۔ قانون حاکم کے اشارے کا محتاج اور پابندیاں اس کی مرضی کے تابع ہوجائیں۔ سوچئے کہ قانون کو بالاتر ثابت کرنے کے لئے انصاف کے پھریرے لہراتی ’نیا پاکستان‘ کی حکومت سب سے پہلے کون سا حکم جاری کرے گی۔

جن حدود و قیود نے عمران خان کے ہاتھ پاؤں باند ھ رکھے ہیں، وہ نہ ہوں تو کیا ہو؟ شاید تحریک انصاف کے چار مسٹنڈے یا حکومت کے چار کارندے لندن میں چھپے نواز شریف کے عشرت کدے میں داخل ہوں اور ہاتھ پاؤں سے اٹھا کر ایک خصوصی طیارے میں انہیں کوٹ لکھپت جیل میں لاکر بند کردیں۔ ایسے ہی ایک دوسرے اشارے پر شہباز شریف کو تاحیات جیل میں بند رکھنے کا حکم صادر ہو اور ان تمام لٹیروں کی فہرستیں تیار ہوں جن کا ٹھکانا روحانی صلاحیتوں سے مالامال وزیر اعظم کی نگاہ میں جیل ہی ہونا چاہئے۔ عمران خان اپنے تازہ ترین مضمون میں یہ تو واضح کرہی چکے ہیں کہ روحانیت سے حاصل ہونے والی بصیرت اس عقل وصوابدید سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے جو دنیاوی علم سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اب رحمت اللعالمین اتھارٹی قائم کی جاچکی ہے اور نئی روحانی بصیرت کے تحت یہ طاقت ور ادارہ اب قوم کے نوجوانوں کے اخلاق سنوارنے کا کام شروع کرنے والا ہے۔

تصور کیا جائے کہ جب روحانی اشاروں کی بنیاد پر ’لٹیروں‘ کی فہرستیں تیار ہوں گی تو ان میں کس کس کا نام ہوگا؟ عمران خان کی 22 سالہ سیاسی ’جد و جہد‘ ( جو درحقیقت حصول اقتدار کی انتھک تگ و دو ہے) اور ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں یہ تو جانا جا چکا ہے کہ روحانی بصیرت کے یہ مخفی اشارے چوروں کو کیسے تلاش کرتے ہیں اور اس بے پناہ دیانت دار وزیر اعظم کس کس کو جیلوں میں بند اور کسے کابینہ کی میز کے گرد دیکھنا چاہیں گے۔ ہر وہ شخص جو عمران خان کو حالات کا درست آئینہ دکھاتا ہو یا ان کے اقتدار کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے لازمی جیل میں ہونا چاہئے اور جس جس کے پاس عمران خان کی سیاسی قوت میں اضافہ کرنے کی صلاحیت ہو، وہ بقدر جثہ اپنا حصہ پانے کی امید کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں ’مدینہ ریاست جدید‘ کا حقیقی تصور (جو عمران خان کے خالص نجی ’وژن‘ اور رائے پر استوار ہے) کے مطابق صرف وہی بدعنوان یا گردن زدنی ہیں جو عمران خان کی اتھارٹی کو نہیں مانتے۔ رحمت الالعالمین اتھارٹی درحقیقت ایسے ہی ناقص العقل لوگوں کی اصلاح کے لئے قائم ہوئی ہے۔ اس ادارے کے زیر اہتمام یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ملک میں اگر کہیں سوچنے، رائے قائم کرنے اور آزادی رائے کو گورننس جانچنے کا درست پیمانہ ماننے کی کوئی رمق باقی ہے تو اسے بھی ختم کیا جائے تاکہ سب مل کر ایک ہی بیان اور ایک ہی رائے پر قائم ہوں۔ اس معاشرے میں ایسے کسی بچے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی جو بادشاہ کو بے لباس دیکھ سکتا ہے۔

سچ تو یہی ہے کہ عمران خان کو ایسی ہی کسی اندھیر نگری کا حکمران بنایا جا سکتا ہے۔ لگتا ہے کہ بادشاہ گروں کو یقین تھا کہ ملک سے عقل و شعور کا جنازہ پوری طرح سے نکالا جاچکا ہے، اس لئے سمجھ لیا گیا کہ اس نئے ہائبرڈ نظام کے تجربے کے لئے حالات سازگار ہوچکے ہیں جس کی انوکھی پیداوار کا نام ایک ایسا وزیر اعظم ہے جو بیک جنبش قلم علم کی ضرورت سے انکار اور فلاح کو خیرات قرار دینے میں ید طولی رکھتا ہے۔ جس کے نزدیک جن ملکوں نے اس کے ’وژن‘ سے بھی پہلے فلاح اور عوامی بہبود کا کوئی نظام قائم کرکے اپنے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دیے بغیر صحت کی بنیادی ضرورتیں فراہم کی ہیں اور پیٹ بھرنے کی پریشانی سے نجات دلادی ہے، وہ بنی نوع انسان کے وسائل ضائع کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ انہیں اصلاح کی شدید ضرورت ہے ورنہ ان کے شہری دنیا کے وسائل کو ہڑپ کرتے رہیں گے۔ پھر عمران خان اپنے ہیلتھ کارڈ کے لئے کہاں سے روپے جمع کرے گا جس کا جھانسہ دینے کے لئے پہلے ہی ملک کے ٹوٹے پھوٹے نظام صحت کو داؤ پر لگایا جاچکا ہے۔

پاکستان میں عوامی صحت کے بند و بست کا یہ عالم ہے کہ ایک تخمینے کے مطابق اس وقت پاکستان میں صحت پر اوسطاً 3 ہزار روپے سالانہ صرف ہوتا ہے جبکہ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک میں یہ فی کس شرح تین ہزار ڈالر تک ہوتی ہے۔ ایران بھی اپنے عوام کی صحت کے لئے پانچ سو ڈالر سالانہ کی اوسط سے وسائل فراہم کرتا ہے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کو فراہم وسائل کی حالت زار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اب عمران خان کی سیاسی ضرورتوں کے تحت ان وسائل کے بڑے حصے کو ہیلتھ کارڈ کی صورت میں انشورنس کمپنیوں اور نجی شعبہ میں قائم ہسپتالوں کو خوشحال بنانے پر صرف کیا جائے گا۔ عمران خان نے خود بتایا ہے کہ ہیلتھ کارڈ اسکیم میں صرف پنجاب میں 400 ارب روپے فراہم ہوں گے۔ البتہ وہ یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ یہ رقم سرکاری ہسپتالوں کے وسائل کم کر کے ایسے فنڈ میں منتقل کئے جائیں گے جس سے عام شہری کی بجائے نجی شعبہ میں لوٹ مار کرنے والے عناصر کی چاندی ہوگی۔ یا اس کا فائدہ عمران خان کو سیاسی لحاظ سے ہوگا جو ہر موقع پر ہر خاندان کو دس لاکھ روپے کا ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے باوجود عمران خان کا خیال ہے کہ عوام کی صحت اور بھوک کے مسائل تو حل ہوتے ہی رہیں گے لیکن پہلے انہیں ایک ایسی آمریت قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں کسی کو ان کے اقتدار و اختیار کو چیلنج کرنے کی جرات نہ ہو اور کوئی حکومت کی معاشی، سفارتی، انتظامی اور سیاسی ناکامیوں کے خلاف آواز اٹھانے والا نہ بچے۔ اس قصد کے بعد مخالفین کو ’لٹیرا‘ قرار دینا شاید عمران خان کا حق ہے کیوں کہ یہی عناصر عمران خان کے حق اقتدار کو چیلنج کرتے ہیں۔ حالانکہ وزیر اعظم اپنے پارٹی لیڈروں سمیت سب کو یہ بتا چکے ہیں کہ ان کے کارخانے تو نہیں ہیں، بس بنی گالہ کا محل ہے۔ اس لئے ان کا حکومت کرنے کا حق فائق ہے، اس کی مخالفت کرنے والا ہر شخص قابل تعزیر ہے۔ یہ خواہش پوری ہونے کی تصویر کو قیاس کیا جائے تو جو نقوش واضح ہوں گے ان میں مخالف چور ہیں اور جیلوں میں بند ہیں۔ جو جیل نہیں جانا چاہتے، وہ عمران خان کے روحانی کشف کی قوت پر ایمان لا کر غیر مشروط وفاداری کے پروانے پر دستخط کریں گے۔ ملک میں سکون و اطمینان ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، بے چینی یا پریشانی، اس کاعلاج خواب دکھا کر اور شاید دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس صرف یہ ہے کہ خوابوں کی زندگی محدود ہوتی ہے۔ ادھر آنکھ کھلی ادھر سارا تصور دھڑام سے زمین بوس ہؤا۔

خوف کی اسی فضا میں لندن سے ملاقاتوں کی خبریں آتی ہیں تو زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد میں محسوس کئے جاتے ہیں۔ کبھی ایکسٹنشن مسئلہ کا حل قرار پاتی ہے اور کبھی الزام تراشی کی ایک نئی مہم سے اس خوف پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اعلان ہوتا ہے کہ وہ دست شفقت جو ہمارے سروں پر دراز ہے اسے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم ان ’ناپاک کوششوں ‘ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس اعتراف میں اپنے ہی دعوؤں سے انکار کا سارا سامان مہیا ہے۔ ’میں بااختیار، میں کسی سے نہیں ڈرتا، وہ تو میرے نیچے ہے‘ ایسے سارے صیغے بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔ بدحواس اور مضطرب ترجمانوں کی وضاحتوں پر غور کیا جائے تو سوائے ہوس اقتدار کی تکرار کے کوئی معنی معلوم نہیں پڑتے۔ کیا یہی مدینہ ریاست کی طرف سفر کا کل زاد راہ ہے؟

اس وقت ملک کو جن حالات کا سامنا ہے خواہ ان کا تعلق معیشت سے ہو یا علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات سے، عالمی اداروں سے مراسم ہوں یا بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسے ہوئے قومی مفادات۔۔۔ یہ قوم صرف ایک ہی وجہ سے اس منجدھار میں پھنسی ہے۔ اس وجہ کو شیخ رشید جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 یا سایہ شفقت کا نام دیتے ہیں، فواد چوہدری ایک پیج کی علامت استعمال کرتے ہیں اور عمران خان خود ’میرے فوج کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں‘ جیسے دعوؤں سے سامنے لاتے ہیں۔ ان دعوؤں میں دکھائی دینے والی بے بسی صاف کہہ رہی ہوتی ہے کہ معاملات پر کسی کا اختیار نہیں ہے اور اختیار والے من مانی کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس من مانی نے ملک میں آئینی جمہوریت کا راستہ کھوٹا کیا ہے اور سیاسی ماحول میں انتشار، نفرت اور تصادم کی ایسی خطرناک صورت پیدا کردی ہے کہ سیاست دان چاہنے کے باوجود بہتری کا کوئی راستہ تلاش نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ سب اپنے اپنے دائرے کے اسیر ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کو بے چین ہیں لیکن مل کر اس عذر کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے جس کی وجہ سے معاملات جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ کے فلور پر طے نہیں ہو پاتے۔

یہ صورت حال اور اسے تسلیم کرنے کا خطرناک نتیجہ ہے کہ اقتدار پر قابض ہونے کے باوجود یہ یقین نہیں کہ مدت پوری کرنے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ ساری صلاحیت مخالفین کو چور کہنے پر صرف کی جا رہی ہے لیکن جہاں سے جمہوریت پر وار ہونے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے، اس در کو کھلا رکھنے پر اصرار ہے۔ اس بوالعجبی میں ایک ہی موہوم سی امید ہے۔ یہ مطالبہ کہ انتخاب ہوں، عوام کو فیصلہ کرنے کا موقع ملے اور انتخابات میں دھاندلی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جائے۔ اگر ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت اس یقین دہانی کے بغیر حکومتی تبدیلی اور نئے نظام کی طرف پیش قدمی سے انکار کر رہی ہے تو اسے غنیمت جاننا چاہئے۔ عمران خان آمریت مسلط کرنے کے خواب دیکھنے اور ہتھکنڈے تلاش کرنے کی بجائے اگر شفاف انتخابات کی طرف قدم بڑھانے کی تیاری کریں تو شاید ان کی اپنی سیاست کے لئے یہی بہترین راستہ ہوگا۔ ورنہ بعض اوقات عارضی سہارے عین منجدھار میں ساتھ بھی چھوڑ سکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2170 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments