مسلم لیگ (ن) پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کو دینے پر آمادہ
متحدہ اپوزیشن (پی ڈی ایم بشمول پیپلز پارٹی) نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بڑی حد تک ہوم ورک مکمل ہو گیا ہے۔ تاہم ایک ایک رکن کی حامل جماعتوں سے بھی ووٹ مانگے جا رہے ہیں۔ بظاہر اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی ہے۔ کوئی ہلچل دکھائی نہیں دیتی لیکن سیاسی جوتشی برملا کہہ رہے ہیں کہ کپتان کی گھر روانگی کا سامان تیار ہے۔ بس بگل بجنے کی دیر ہے۔
کل تک جو لوگ یہ کہتے تھکتے نہیں تھے کہ اپوزیشن سٹنگ پرائم منسٹر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی اب وہ بھی کہنے لگے ہیں۔ اپوزیشن فاؤل پلے کر رہی ہے۔ جب حکومتی ترجمان اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کی الزام تراشی شروع کر دیں تو سمجھیں حکومت کہ پاؤں اکھڑ گئے ہیں۔ کس وقت بھی مانے تانگے کی بیساکھیوں پر کھڑی عالیشان عمارت زمین بوس ہونے کو ہے۔ جہاں تک میری اطلاع ہے۔ اپوزیشن عمران خان کو گھر بھجوانے پر متفق ہے۔ نمبر گیم پوری ہو چکی ہے۔ اس وقت تحریک عدم اعتماد کے لئے 172 سے زائد ارکان پورے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین گروپ کے ارکان کو آئندہ انتخابات میں بغاوت کرنے کے صلے میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ جاری کرنے کی یقین دہانی درکار ہے۔ شنید ہے میاں نواز شریف نے بیشتر ارکان کو مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ تحریک عدم اعتماد میں جہانگیر ترین گروپ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی چوہدری پرویز الہی کو دینے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری بڑے کھلاڑی آصف علی زرداری کو سونپ دی گئی ہے جو حکومتی ارکان اور اتحادیوں سے معاملات طے کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے خدو خال تیار کر رہے ہیں۔ شنید ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو گئی ہے۔ آئی ایس آئی کے ملازمین کو سختی سے ملکی سیاست سے دور رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے اپنے ادارہ کے ملازمین پر واضح کر دیا ہے کہ ملکی سیاست میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ماضی میں اس ادارے کو سیاست میں استعمال کرنے سے اس کی غیر جانبداری بارے میں انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ حالانکہ اس ادارے کا قومی سلامتی کے حوالے سے شاندار کردار رہا ہے۔ آئی ایس آئی کو سیاست سے دور رکھنے کے احکامات کے ملکی سیاست پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
متحدہ اپوزیشن کا ایک غیر معمولی اجلاس شہباز شریف کی رہائش گاہ پر منعقد ہو چکا ہے جس میں مولانا فضل الرحمنٰ اور آصف علی زرداری نے شرکت کی ہے۔ اجلاس میں تحریک عدم اعتماد اور آئندہ سیٹ اپ پر مشاورت کی گئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تاریخ کا فیصلہ نواز شریف اور فضل الرحمٰن کی مشاورت سے ہو گا۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس اپنے ارکان کے دستخط پہلے سے موجود ہونے کے باوجود از سر نو تحریک عدم اعتماد کے لئے اپنے ارکان قومی اسمبلی سے دستخط کروانے شروع کر دیے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے 24 حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کی صورت میں میاں شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے چوہدری برادران سے بھی ملاقات کی ہے۔ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس پر مولانا فضل الرحمٰن نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اپوزیشن نے مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملانے کے لئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
پیپلز پارٹی اور جے یو آئی اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کو منانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 9 رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام کے 3، 3 ارکان شامل ہوں گے۔ مشترکہ کمیٹی میں مسلم لیگ کی نمائندگی سعد رفیق، سردار ایاز صادق اور رانا ثناء اللہ کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سید یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف اور نوید قمر جبکہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے مولانا اسعد محمود، اکرم درانی اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نمائندگی کریں گے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کی چوہدری پرویز الٰہی سے بلاول ہاؤس لاہور میں دوسری اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) نے مشاورت سے فیصلے کرنے پر اتفاق رائے کیا ہے۔ پریس ریلیز میں دیگر امور بارے میں مصلحتاً خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمن شہباز شریف سے ملاقات کے لئے ماڈل ٹاؤن گئے ہیں۔ جے یو آئی کے وفد میں اکرم درانی، مولانا اسعد محمود اور مولانا امجد سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ تھوڑی دیر بعد آصف علی زرداری بھی اپنے وفد کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔ ان کے وفد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ ملاقات میں پہلے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے شہباز شریف اور آصف علی زرداری سے مشاورت کے بعد چوہدری برادران سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی اور انہیں اپوزیشن کے فیصلوں بارے اعتماد میں لیا، چوہدری برادران نے حسب معمول تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بعض نکات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور مولانا فضل الرحمن نے ان تحفظات کو دور کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی اور کہا کہ آپ کے تمام تحفظات آصف زرداری دور کرائیں گے۔
متحدہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لئے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سر دست سیاسی سرگرمیاں پنجاب کے دار الحکومت لاہور منتقل ہو گئی ہیں۔ میاں شہباز شریف، چوہدری برادران اور آصف زرداری کی رہائش گاہوں پر اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ آپ نے لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد کا ایشو چھیڑ کر سیاسی ماحول گرم کر دیا ہے۔ کہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حکومت سازی اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں کوئی سیاسی حادثہ رونما نہ ہو جائے جس پر مولانا فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت حسین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ آپ ہمارا ساتھ دیں تو ہم آپ کو کامیابی کا یقین دلا سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت حسین کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی قیادت کے درمیان حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے تحریک عدم اعتماد کے معاملات طے پا گئے ہیں۔ اپوزیشن پہلے وزیراعظم، پھر اسپیکر بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف عدم اعتماد پیش کرنا چاہتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے تینوں جماعتوں نے آپس میں اپنے اپنے کارڈز شیئر کر دیے ہیں اور نمبرز گیم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پنجاب کی وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کو دینے کی صورت میں مسلم لیگ ( ق) وفاق اور پنجاب میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی صورت میں اپوزیشن کا ساتھ دے گی۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد کی صورت حال بارے مسلم لیگ (ق) نے مطالبات پیش کیے ہیں۔ وہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی یقین دہانی بھی چاہتی ہے۔
پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے پہلے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد لانے کی تجویز بھی پیش کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں کامیابی کی صورت میں ہمارا ہدف اور بھی آسان ہو جائے گا۔ اگر وزیر اعظم کے خلاف اعتماد کے ووٹ کا بھی معاملہ ہوا تو بھی اسپیکر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے 10 سے 15 ناراض ارکان کے استعفوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومتی ناراض ارکان استعفے دے دیں تو حکومت سادہ اکثریت کھو دے گی۔ اپوزیشن عدم اعتماد کی بجائے وزیراعظم سے اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اگر اسپیکر نے ان ناراض حکومتی ارکان کے استعفے قبول ہی نہ کیے تو حکمت عملی کی کامیابی میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے۔
ایک روز قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و صدر مسلم لیگ نون شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد آپ وزیراعظم بنے تو ملک کو کیسے ٹھیک کریں گے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ میری لیڈرشپ اور میرے قائد نواز شریف فیصلہ کریں گے۔ جبکہ دیگر جماعتوں کی مشاورت کے بعد ہی وزیراعظم بننے کا فیصلہ کروں گا۔ بظاہر وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب موجودہ سیاسی صورت حال میں مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہے۔ کہ اپوزیشن اپنے ان پچیس ارکان اسمبلی کی خبر لے جو ہر موقع پر غائب ہو جاتے ہیں۔ ’مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے عوام کو نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے۔ اپوزیشن کئی بار لانگ مارچ، استعفوں اور عدم اعتماد کے اعلانات کر چکی ہے لیکن وقت آنے پر وہ اپنے اعلانات واپس لے لیتی ہے۔ پوزیشن تحریک عدم اعتماد جمع کروائے 14 دن میں اجلاس بلانا لازمی ہوتا ہے۔ ہمیں پتا ہے۔ اتحادیوں کو کیسے ساتھ لے کر چلنا ہے۔ اپوزیشن اصل ایشو سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ شہباز شریف یا آصف زرداری میں سے پہلے جیل کون جائے گا عمران خان کی گاڑی سے جو اترے گا۔ وہ زیرو ہو جائے گا’۔
مسلم لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں کوئی دم نہیں تو حکومت اپنے ارکان اسمبلی سے رابطے کیوں کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد پر ایک صفحہ پر ہیں۔ حکومتی اتحادیوں سے آئندہ مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے بھی قائم ہیں۔ حکومت کو اعتماد ہے تو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی تیاری مکمل ہے۔ ٹائم فریم کا اعلان مناسب وقت پرکیا جائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ معاشی حالات درست نہ کیے تو سب کی سیاست ختم ہو جائے گی جو لوگ ہماری خدمت کرتے ہیں۔ ان کے مسائل کو بھی سننا چاہیے، معاشی حالات کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ ملک کے اندر خاص طور پر لاہور میں سیاسی ماحول بنا ہوا ہے۔ ہر جماعت کے لیڈر مختلف باتیں کر رہے ہیں۔ ہر لیڈر اپنی اپنی جماعت کے موقف کو بیان کر رہا ہے۔ فضل الرحمن، آصف زرداری، شہباز شریف ملاقات کے لئے آئے ہیں۔ ملاقات میں ہر قسم کے معاملات پر بات چیت ہوئی۔
چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ پرانے واقعات یہاں تک کہ نواز شریف کے متعلق بھی گفتگو ہوئی ہے۔ ملاقاتوں میں بعض تجاویز بھی زیر غور آئیں، ملاقاتوں میں مصروف رہے تو عوام سیاستدانوں پر اعتبار کرنا چھوڑ دیں گے۔ ان کے بیان میں مسلم لیگ (ق) کی پوزیشن واضح نہیں کی گئی تاہم انہوں نے نواز شریف کے ساتھ تعلقات کار بارے میں اشارتاً بات کی ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ق) فی الحال اپنے پتے کسی کو نہیں دکھانا چاہتی۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی بول اٹھے ہیں اور کہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے نام پر خرید و فروخت جاری ہے۔ نواز شریف نے خرید و فروخت کی ذمہ داری آصف زرداری کو دی ہے۔ سیاست میں خرید و فروخت کا بازار شروع ہوا تو جھاڑو پھر جائے گا۔ اپوزیشن اپنی سیاسی قبر کھودنے جا رہی ہے۔ عمران خان کو پتا ہے۔ کس وقت کیا فیصلہ کرنا ہے۔ عمران خان ایسا سیاسی ڈرون ماریں گے کہ یہ سب کچھ نیست و نابود ہو جائے گا۔ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد عمران خان مزید مضبوط ہوں گے۔ تحریک عدم اعتماد ڈھیلی ڈھالی سی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سپیکر کے خلاف پہلے آئے گی۔ کوئی پنجا باور مرکز کی بات کرتا ہے۔ خریدوفروخت کا بازار گرم کرنے والے غور سے سن لیں کہ عمران خان ترپ کا تاش کھیلے گا، انہوں نے اپنے روایتی انداز میں کہا ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف چلے ہوئے کارتوس ہیں۔ ان کے نصیب میں شرارتیں کرنا تو موجود ہے۔ عمران خان کو جہانگیر ترین سے بات کرنی چاہیے، پاکستان کے ادارے واضح طور پر نیوٹرل ہیں۔
وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب نے بھی اپوزیشن کو چیلنج کر دیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائے اسے رسوائی ہوگی، اور کہا ہے۔ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد منظور کروانے کے لئے نمبرز نہیں ہیں۔ خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ عمران خان کا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے اور نالائق وزیروں کا بینڈ باجے بجا رہا ہے۔ چوہدری منظور نے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی وزیراعظم کے امیدوار پر کوئی لڑائی نہیں، دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو وزیراعظم بنانے کے لئے کہہ رہی ہیں۔ خرم دستگیر خان نے کہا کہ اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت تحریک عدم اعتماد کے بعد پیپلز پارٹی اپنا وزیراعظم لانا چاہتی ہے۔ توہم اس کے لئے تیار ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کے دوران تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کی سرگرمیاں عروج پر تھیں وہ اپنے تین روزہ دورہ کے بعد وطن واپس آ گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو غیر موثر بنانے کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جس تحریک عدم اعتماد کے خوف سے گھبرا کر قومی اسمبلی ہی تحلیل کر دیتے ہیں۔ شنید ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو اعتماد میں لیا ہے کہ انہوں نے کچھ اہم اقدامات بارے پیشگی دستخط کروا رکھے ہیں۔ ان اقدامات کی تفصیلات اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ مارچ میں تحریک عدم اعتماد آنے والی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں کھیلے جانے والے اس کھیل کے انجام کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

