ضمیر کو عزت دو

مرمتیں کر کر کے روز تھکتا ہوں
میرے اندر روز نیا نقص نکل آتا ہے
میری یہ تحریر پاکستانی سیاستدانوں اور ہماری عوام میں اور اپ سب کے متعلق ہے۔
آج ہم ضمیر کے حوالے سے روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ اب سے پہلے میں اپنے ضمیر سے مخاطب ہوں گا۔ اور ضمیر سے کہوں گا کہ وہ چیز لکھوں جو میرا ضمیر کہتا ہے۔
ضمیر: (انگریزی:Conscience) عربی زبان کا لفظ ہے اس کی جمع ضمیریں اور ضمائر ہے۔
دل، قلب، باطن، من اور جی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
ضمیر کے اصطلاحی معنی، صحیح اور غلط میں تمیز کی اخلاقی حس، نیک و بد کی پہچان، اچھے برے میں فرق کرنے کی صلاحیت، حق و باطل کی شناخت کرنے کی استعداد، قوت ممیزہ کے اصطلاحی معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے ادیب معاشرہ کا ضمیر ہوتا ہے۔
میں اور آپ اکثر یہ فقرے استعمال کرتے ہیں کہ میرا آج دل کر رہا ہے کہ حلوہ کھاؤں، وہ مجھ سے ناراض ہے میں صلح کر لوں اور اسے گلے سے لگا لوں۔ کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو آپ سمجھیں کہ میری غلطی ہے مجھے معافی مانگی چاہیے، یہ سب ضمیر کی شاخیں ہیں
اگر ہم ضمیر کی تشریح کریں تو آپ کو شاید پوری زندگی بھی کم ہو لیکن ہم چند چیدہ چیدہ پوائنٹس کو ڈسکس کریں گے تاکہ ہمیں بات کی سمجھ آ جائے
جب ضمیر ملامت کرنا چھوڑ دے
تو سمجھ لو اب انسانیت ختم ہو گئی ہے
اصل میں تو میں سیاست پر لکھتا رہتا ہوں اور بڑا سیدھا سیدھا لکھنے اور کہنے کا عادی ہوں کیونکہ میرا ضمیر مجھے کوستا رہتا ہے کہ جو ہے وہ لکھو اور کہو۔ شاید اسی لیے میں ضمیر فروشوں کو اچھا نہیں لگتا، نہیں لگتا تو نا سہی کیونکہ دوسرے کے ضمیر کو آپ صرف جھنجوڑ ہی سکتے ہیں۔
ابھی جو میں نے اوپر باتیں لکھیں یہ ایک با ضمیر انسان میں ضرور ہوتی ہیں اور وہ اب بھی اس دنیا میں موجود ہیں جن کی وجہ سے انسانیت زندہ ہے۔
پیارے قارئین بات دوسری طرف نکل جاتی ہے بات کرتے ہیں سیاسی پنڈتوں کی، بڑے بڑے سیاسی پنڈت عوام کے ساتھ کسی طرح جھوٹ، فراڈ، لوٹ مار کر انسانوں سے کھیلتے ہیں۔ ووٹ لیتے وقت سیاسی لیڈران عوام کو کتنے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور پورا ایک بھی نہیں کرتے۔ اور ہمارے ضمیر بھی ایسے پختہ ہیں جیسے ( بھٹے کی اینٹ ) کوئی کچھ بھی کہے ہمارے ضمیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمارے پیارے پاکستان میں جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں یہ ہمارے اپنے ہی کیے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارے ضمیر ہمیں ملامت ہی نہیں کرتے کہ ہم اچھے اور برے کی پہچان کر سکیں۔
عدالتوں میں جج صاحبان انصاف دینے میں کتنے باضمیر ہیں، بے گناہ سالوں سال جیلوں میں پڑھے رہتے ہیں لمبی لمبی تاریخیں، سفارشیں، انصاف صرف با ضمیر دے سکتا ہے بے ضمیر نہیں۔
کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں بے ضمیر لوگ پائے نہ جاتے ہوں۔ اصل میں ہم سب بے ضمیر ہوتے جا رہے ہیں، ہر کام دس نمبری، سفارش، رشوت دینے کے بے غیر کرتے نہیں کیونکہ ہمارا ضمیر مردہ ہو چکا ہے، انسانیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
سیاستدانوں کی بات کریں وہ تو نوٹ اور اقتدار کی ہوس میں اتنے دور نکل چکے ہیں پیسہ ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، بلکہ اسی پیسے سے وہ بے ضمیروں کو چٹکی میں خرید سکتے ہیں، جیسا کہ آج کل سیاست دان دن رات ایسے ضمیر خریدنے میں مصروف ہیں، کوئی عہدے کے لیے بے ضمیر ہو جاتا ہے کوئی پیسے کے لیے، اور اصلی حق دار باضمیر شخص بے بس ہو جاتا ہے۔
اس کی واضح مثال موجود سیاست کی ہے۔ جب عمران خان روزانہ کی بنیاد پر کسی دوسرے شخص کو اپنی پارٹی میں شامل ہوتے دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ ایک بال سے دو وکٹ گرا دی۔ جہانگیر ترین کے جہاز کا سفر آسان نہیں تھا، کتنے لوگوں کو انھوں نے جہاز میں بٹھایا تھا؟ کیا ان میں کوئی با ضمیر تھا؟ ذرا نظر دوڑ ائیے۔ اور اب وہ پھر بک گئے اب وہ عمران خان کو چونا لگا گئے۔ ایسے بے ضمیروں کی شناخت پوری زندگی کے لیے نمایاں رہتی ہے۔ ان کے شکلوں پر بے ضمیری کی مہر لگی ہوتی ہے۔ ان کے بولنے سے ان کی چاپلوسی سے آپ فوری پہچان لیں گے۔ تو سمجھ لیجیے بے ضمیر آدمی کبھی انصاف نہیں دے سکتا۔ مدد نہیں کر سکتا، سچ بولنے لی طاقت نہیں رکھتا۔ میرٹ کی بات کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ ساری خصلتیں لالچ کی بنیاد پر اس کے خون میں رچی ہوتی ہیں
یہاں نون لیگ کی بات نہ ہو تو زیادتی ہو گی، ذرا سوچیئے نون لیگ کے رہنما، تین بار کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے لندن پہنچنے کے بعد یہ کہا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے بلند کیے بڑے بڑے مفکر، دانش ور، صحافیوں نے مدد کے لیے تیاری کر لی بلکہ لوگوں کے ساتھ لابنگ بھی کرتے رہے کہ زیادتی ہو رہی۔ یہ حق کی بات کر رہے ہیں۔
اور آئیے اب تازہ ترین کس طریقے سے نون لیگ نے اپنے مخالفین کو ساتھ جوڑا، بلکہ یوں کہیں کہ عمران خان چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ کروڑوں میں خریدا جا رہا ہے۔ اصل میں بے ضمیروں کی ویلیو زیادہ ہے کیونکہ بے ضمیر عام مل جاتے ہیں۔ ان کا قد بھی چھوٹا ہوتا ہے وہ ذات کے بھی نیچے ہوتے ہیں۔ مکاری اور بد نیتی ان کی جیب میں ہوتی ہے۔
اسی طرح انٹرنیشل قوتیں بے ضمیروں کو خرید لیتے ہیں جس سے ہمارے ملک کی عوام کا نقصان ہی نہی بلکہ ملک کو کمزور کر دیتا ہے۔ ذرا شہباز شریف کو دیکھیں زرداری کو گھسیٹنا تھا اب بغل گیر ہو گئے، بھائی بھائی ہو گئے، یہ با ضمیر لوگوں کے لیے نہیں اکٹھے ہوئے۔ وہ اپنے مفادات کے لیے مجبوراً اکٹھے ہو گئے۔
اب یہ سیاستدان جب عوام میں جائیں تو پہچان لینا ضروری ہے۔ اگر نہیں پہچانتے، یا کوتاہی کرتے ہیں تو پھر عوام خود اپنے زندہ ضمیر کو مردہ کریں گے۔ اور بے ضمیروں کو پتہ ہے کہ یہ قوم سیدھی سادھی ہے ہم انھیں پھر سے جال میں پھنسا لیں گے۔
ہمارے سیاست دانوں نے تو ملک کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اسی لیے تو آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ کئی ممالک ملک پاکستان میں مردہ ضمیروں کو خرید کر پیارے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کے ضمیر بہتر سوچ ہی نہ سکیں۔ اس لئے ضمیر بیچنے سے پہلے اپنے آپ کو جھنجوڑیں، اور ضمیر کو بتائیں، سمجھائیں کہ یہ دنیا عارضی ہے جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ مال و دولت ساتھ نہی جانا۔ لکھنے کو تو بہت سے پوائنٹس ہیں لیکن تحریر اس شعر سے ختم کرتا ہوں۔
گناہ نہی چھوٹ رہا یہ فکر کی بات ہے ”مگر“
”ضمیر“ ملامت بھی نہی کر رہا یہ خطرے کی بات ہے

