ماحولیاتی تبدیلیاں اور آئی پی سی سی کی حالیہ رپورٹ

انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی مدد سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سائنسی شواہد کا مطالعہ کر کے رپورٹس مرتب کرتا ہے تا کہ پالیسی ساز اداروں سمیت تمام متعلقین کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس پینل میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اور ماحولیاتی ماہر شامل ہیں جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات، ان کے تدارک کے لیے موجود مواقع اور عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں کے نتائج کے حوالے سے ڈیٹا جمع کرتے ہیں جن کو رپورٹس کی شکل میں شایع کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ یہ پینل وقت بوقت ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے عالمی راؤنڈ اپس تیار کر کے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں جمع ہونے والی ڈیٹا کو سائنسدانوں کی ایک کثیر تعداد کی جانب سے تصدیق کے بعد رپورٹس میں شامل کیا جاتا ہے
اس حوالے سے آئی پی سی سی کے تین ورکنگ گروپس کام کرتے ہیں۔ پہلا گروپ ماحولیاتی سائنس کے حوالے سے کام کرتا ہے اور اس بات کا مطالعہ کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہمارے ماحول کی کیمسٹری اور فزکس کس طرح تبدیل ہو رہی ہے۔ مستقبل میں کس قسم کی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اور ان تبدیلیوں کے لیے انسانی سرگرمیاں کس حد تک ذمہ دار ہیں۔ دوسرا گروپ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا تجزیہ کرتا ہے جس میں شدید موسمی حالات، قحط، سیلاب، درجہ حرارت میں اضافہ ماحولیاتی نظاموں اور جنگلی جیوت کو لاحق خطرات وغیرہ شامل ہیں۔ تیسرا گروپ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسز کو کم کرنے کے حوالے سے موجود مواقع اور اقدامات کا مطالعہ کرتا ہے
گزشتہ مہینے آئی پی سی کے دوسرے ورکنگ گروپ کے تجزیے پر مشتمل رپورٹ شایع ہوئی ہے جو کہ سکستھ اسیسمنٹ رپورٹ کی ایک کڑی ہے۔ اس رپورٹ میں ایکو سسٹمز اور حیاتیاتی تنوع کے تناظر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ماحول اور دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے لوگوں کے لیے پیدا ہونے والے خطرات اور ان خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے موجود وسائل اور مواقع کا تجزیہ بھی اس رپورٹ کا حصہ ہے۔
آئی پی سی کے مطابق ماحولیاتی بحران کو حیاتیاتی تنوع، غربت، اور سماجی تقسیم سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ ماحولیاتی بحران صرف سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی ہے اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کی سماجی ناہمواریوں کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ویسے بھی اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آج کا انسانی سماج اپنے آپ کو مکمل طور پر تبدیل کرے۔ اس کے لیے نظریات، سوچ، سماجی ڈھانچے، سیاسی سماجی معاشی نظام اور طاقت کی تقسیم کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پڑے گی۔ خاص طور پر ماحولیاتی انصاف کا معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا خمیازہ دنیا کی غریب ملکوں اور آبادیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے غریب ملکوں کا مطالبہ ہے کہ امیر ممالک ان کی مدد کریں
رپورٹ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں انسان اور ماحولیاتی نظام شدید گرمی، قحط، جنگلی آگ، طوفان، سیلاب اور دیگر خطرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں آج کافی زیادہ لوگوں کو اس قسم کی قدرتی آفات اور شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اگر مناسب اقدامات نہ لیے گئے تو مستقبل میں حالات مزید خراب ہوں گے ۔ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے قریب ساڑھے تین ارب لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔
دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو سال کے کسی نہ کسی حصے میں کسی نہ کسی حد تک پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شدید گرمی کی لہروں سے ہر تین میں سے ایک آدمی کے متاثر ہونے کے امکانات موجود رہیں گے یہ تعداد صدی کے آخر تک 50 سے 75 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس وقت بھی پانچ لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہو رہے ہیں اور 2050 تک دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کے لیے سیلاب کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید بارشوں کے امکانات بھی روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ بہت ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے دنیا بھر میں درخت، پرندے اور جانداروں کی دوسری اقسام ایسے ناموافق موسمی حالات سے نبرد آزما ہیں جن کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جانداروں کی بہت سی انواع ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہی ہیں اور نباتات اور جانوروں کی کئی اقسام کو موسمی حالات کی وجہ سے اپنی فطری اماج گاہوں سے ہجرت کرنا پڑ رہی ہے۔
مختصر یہ کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمارے سیارے کی صحت اور زرخیزی کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ لیکن امید افزا بات یہ ہے کہ اب بھی اگر مناسب اقدامات کیے جائیں تو مستقبل کو بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسے اقدامات کے لیے وقت تیزی سے نکل رہا ہے ہمیں اسی دہائی میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں بڑی حد تک کمی، توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار بڑھانے، ماحول دوست معیشت اور سماجی رہن سہن اپنانے کے ساتھ ساتھ زمین، تازہ پانی کے ذخائر، ایکو سسٹمز اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کو یقینی بنانا ہو گا۔ مزید براں ہمیں اس حوالے سے دنیا کی قدیم تہذیبوں سے وابستہ لوگوں کی بات سننی ہوگی جن کے پاس فطرت سے قریب تر رہنے کا صدیوں پرانا تجربہ ہے

