ایک ہم عصر غزل


دشتِ بے نوائی میں فخرِ کج کلاھی کیا
موت کی فصیلوں پر زعمِ بادشاہی کیا

درد کی صلیبوں پر لاش ھو چکے نالے
بے ضمیر حاکم کو عدل کی گواہی کیا

جو اسیرِ وحشت بھی رات کے مسافر تھے
ایسے شب گزیدوں پر نیند کے سپاہی کیا

عدل کے ورق پھاڑے مکتبِ سیاست نے
پھر گناہ کیا تیرا، میری بے گناہی کیا

احتسابِ دل کا جب ہر حساب چکتا ھے
تیری کم نگاہی کیا، میری خوش نگاہی کیا

ہم امیدِ فردا کے رہروانِ منزل ہیں
صبح کے اجالوں کو رات کی سیاہی کیا

بے کفن امیدوں کی سر بریدہ لاشوں کو
دفن کر کے لوٹ آئے راستی کے راہی کیا

اے غزل تری آنکھیں غم زدہ ہیں راتوں میں
رتجگوں کے موسم میں خوابِ صبحِ گاہی کیا

Facebook Comments HS