تحریک عدم اعتماد: صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے کیا رائے مانگی گئی ہے؟


عارف علوی
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے قبل صدر عارف علوی نے پارٹی سے منحرف اراکین کے ووٹ کی حیثیت جاننے کے لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیج دیا ہے۔

یہ صدارتی ریفرنس وزیراعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا ہے، جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے، جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔

صدر عارف علوی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’ریفرنس کچھ ممبران پارلیمنٹ کے انحراف کی خبروں، ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر فائل کیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ان اراکین نے اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس صدارتی ریفرنس کے ذریعے وزیرِ اعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کے اغراض و مقاصد، اس کی وسعت، فلور کراسنگ، ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ بیچنے جیسے عمل پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر جہاں اپوزیشن جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور منحرف اراکین کے خلاف بیان بازی کی، وہیں ان اراکین سے واپسی کا فیصلہ کرنے پر کوئی کارروائی نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

عمران خان نے منحرف اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ‘جو ارکان غلطی کر بیٹھے ہیں، آپ واپس آجائیں، میں آپ کو معاف کر دوں گا، آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔’

اس سے قبل وفاقی وزرا شیخ رشید اور فواد چوہدری نے بھی منحرف اراکین کو واپس آنے کی صورت میں عام معافی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیرداخلہ شیخ رشید نے یہاں تک کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے پیسے لیں اور کام عمران خان کے لیے کریں۔

تاہم اس سے قبل عمران خان نے ان منحرف اراکین کو ‘ضمیر فروش’ بھی قرار دیا اور انھیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیشہ کے لیے آپ کے نام کے ساتھ لگ جائے گا کہ آپ ضمیر فروش ہیں، آپ کے لیے شادیوں میں جانا مشکل ہو جائے گا، لوگ آپ کے بچوں کے ساتھ شادیاں نہیں کریں گے۔’

صدارتی ریفرنس میں انحراف کے اس عمل کو ملک کی سیاست میں کینسر قرار دیا ہے اور اس کینسر کے مستقل علاج سے متعلق بھی ججز کی توجہ دلائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت سپریم کورٹ وکلا کی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی ایک آئینی درخواست پر بھی سماعت کر رہی ہے، جس میں عدالت سے تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں کارکنان میں تصادم کے خطرے کو روکنے کی ہدایات دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس درخواست کی پہلی سماعت پر ہی عدالت نے یہ واضح کیا کہ وہ سیاسی معاملات اور پارلیمان کے عمل میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔

بینر

یہ بھی پڑھیے

سندھ ہاؤس پر دھاوا بولنے والے پی ٹی آئی کارکنان ضمانت پر رہا

پاکستان تحریکِ انصاف کے ناراض ارکان کون ہیں اور یہ پی ٹی آئی میں کب شامل ہوئے؟

سندھ ہاؤس میں ناراض حکومتی اراکین اور تحریک عدم اعتماد: عمران خان کے پاس اب کیا آپشنز ہیں

مائنس تحریک انصاف قومی حکومت کی تجویز، آئینی تصور یا نظریہ ضرورت


صدارتی ریفرنس میں کن کن سوالات پر رائے مانگی گئی ہے؟

صدر عارف علوی نے فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ سے متعلق ماضی میں دو ججز کی رائے پیش کر کے سپریم کورٹ سے چار بنیادی سوالات کی تشریح کی درخواست کی ہے۔

پہلے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا اگر کوئی خیانت کرتا ہے اور اپنی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے انحراف کرتا تو کیا ایسی صورت میں اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ہے اور اسے ڈی سیٹ یعنی اپنے کیے کی سزا دیتے ہوئے اسے اس کی نشست سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اس سوال میں ہی جو دوسرا نکتہ اٹھایا گیا ہے وہ یہ کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے ایک وسیع مشاورت کے بعد آئین میں آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا ہے جس کے تحت ایسے رکن کو تاحیات نااہلی قرار دیا جا سکتا ہے تاکہ اس قسم کی دھوکہ دہی، غیرآئینی اور غیراخلاقی عمل میں شریک ارکان میں ڈر پیدا کیا جاسکے۔

ریفرنس میں سپریم کورٹ سے یہ رائے بھی مانگی گئی ہے کہ کیا ایسے غیراخلاقی عمل میں شریک منحرف اراکین کے ووٹ کی کوئی وقعت باقی رہ جاتی ہے اور کیا ایسے اراکین کو ووٹ دینے کا حق دیا جا سکتا ہے؟

تیسرے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ ایسا رکن جو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک نہیں کہتا اور اپنی نشست سے استعفیٰ نہیں دیتا اور بعد میں اپیل میں سپریم کورٹ سے بھی اگر اسے آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے اور صادق اور امین نہ رہے تو پھر کیا ایسے میں اس رکن کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے گا؟

چوتھے سوال میں عدالت عظمیٰ کے ججز سے یہ رائے مانگی گئی ہے کہ موجودہ آئینی ڈھانچے میں رہتے ہوئے کیا ایسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں کہ جس سے انحراف، فلور کراسنگ اور ووٹ بکنے جیسے عمل کو روکا جا سکے۔

رائے مانگنے کے علاوہ صدارتی ریفرنس میں فلورکراسنگ، ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ کی فروخت جیسے عوامل کے جمہوری عمل پر پڑنے والے ’نقصانات‘ پر عارف علوی نے اپنی رائے دی ہے۔ ان کے مطابق جب تک اس طرح کی پریکٹسز کو ختم نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک صحیح جمہوری عمل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp