رمضان: ماہ قرآن
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ رمضان کے برکات کا نزول شروع ہونے کو ہے۔ ماہ رمضان کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک گھڑی قیمتی ہے۔ اس سے مستفید ہو۔ رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ اس لحاظ سے قرآن اور رمضان کا بہت گہرا تعلق ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ ماہ رمضان میں حضرت جبرئیل ؑکے ساتھ قرآن کا دور فرماتے اور کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے تھے چنانچہ ہم ماہ رمضان میں دیکھتے ہیں کہ نماز تراویح میں اور الگ سے بھی بہ کثرت اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ رمضان اور قرآن کو اس طور پر بھی مناسبت حاصل ہے کہ یہ دونوں روز قیامت بندے کے حق میں سفارش کریں گے۔ اب اس نسبت کو وجود بخشنے کا موقع میسر آیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان مبارک ہے، پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو! جن میں سے ایک یہ ہے کہ، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور دوسرا، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، یعنی اللہ نے وقت دیا ہے اور کوئی ذمہ داری بھی سر پر نہیں ہے، فرصت کے لمحات ہیں تو اس سے بھرپور استفادہ کیجئے۔ ان لمحات کو استعمال کیجئے اور اسے اپنے لئے مفید بنائیں۔ نوجوانوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ آج فرصت ہے، جوانی بھی ہے اور اللہ تعالی نے رمضان کا موقع ایک بار پھر عنایت فرمایا ہے تو اگر پھر بھی اس سے فائدہ نہ اٹھائیں اور یونہی اسے گزر جانے دیں اور اس میں کچھ خاص عبادت نہ کریں تو یاد رکھیں کہ یہ بات یقیناً احسان فراموشی کے زمرے آئے گی، اور کفران نعمت پر اللہ تعالی کس درجے ناراض ہوتا ہے؟ یہ تو سب پتہ ہو گا، ارشاد ہے، اگر کفران نعمت کرو گے تو (یاد رکھنا) میری سزا بہت سخت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جانے ان جانے میں ہم اس گناہ عظیم کے مرتکب ہوجائیں۔ اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے اور غافلوں میں سے نہ بنو۔ تو ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے۔
رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ قرآن نوع انسانی کے لئے ہدایت ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن کو ہدی للناس کہا ہے یعنی انسانوں کے لئے ہدایت، صرف مومنوں کے لئے نہیں بلکہ جو کوئی بھی اسے پڑھے گا، اسے ہدایت نصیب ہوگی، بشرطیکہ کہ سمجھتا ہو۔ اگر کسی نے صرف قرآن کے الفاظ کو ہی جان لیا اور اس کی تلاوت کرتا ہے تو بے شک کہ یہ بھی فائدے سے خالی نہیں، یقیناً اس پر بھی اجر ہے لیکن جو اصل کام کے لئے قرآن کا نزول ہوا تھا، اس سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔
کیونکہ اگر کوئی کسی شے کو سمجھتا ہی نہیں تو اس سے استفادہ کیسے کر سکتا ہے؟ مثلاً ایک بچہ جو ابھی پرائمری میں پڑھتا ہے اور وہ صرف انگلش ریڈنگ ہی کر سکتا ہے، اور ابھی پوری طرح انگریزی کی سمجھ نہیں ہے۔ اور کوئی اسے انگریزی کا اخبار پکڑا دے اور کہیں کہ پڑھو ذرا آج کی خبریں کہ ملک کی سیاسی فضا کا کیا صورتحال ہے۔ تو وہ یقیناً پڑھ لے گا لیکن کیا وہ صرف خالی ریڈنگ کرنے سے ملکی صورتحال سے باخبر ہو سکتا ہے؟ تو جواب ہو گا ہر گز نہیں، عین یہی صورت تلاوت قرآن کی بھی ہے۔
اسی لئے قرآن سے تعلق جوڑنے کی شدید ضرورت ہے ورنہ قرآن سے لاتعلقی اور ایمان میں بلندی یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی ہے۔ قرآن اور ایمان لازم و ملزوم ہے۔ ایمانی قوت اور ایمان میں بلندی ہمیں جب ہی نصیب ہو سکتی ہے، جب قرآن سے ہمارا تعلق مضبوط ہو، اگر قرآن سے تعلق مضبوط نہیں تو پھر ایمانی مضبوطی کی باتیں خام خیالی کے سوا کچھ نہیں، قرآن سے تعلق ناگزیر ہے۔ الحمد للہ ایک بار موقع میسر آیا ہے۔ اور ہم رمضان المبارک کے مہینے تک دوبارہ پہنچ گئے۔ جگہ جگہ مساجد و مدارس میں دروس قرآن بھی ہوں گے۔ عام طور پر اکثر جگہوں ترجمہ قرآن کے دورے ہوتے ہیں۔ ان حلقوں میں حاضری خود پر لازم کیجئے۔
جہاں کہیں پر درس قرآن کے حلقے کا اہتمام نہیں ہے تو وہاں کے مقیم یوٹیوب پر سن سکتے ہیں۔ الحمدللہ کئی سارے مستند علمائے کرام اور سکالرز کے دروس قرآن یوٹیوب پر موجود ہیں۔ سب بہترین اور قابل فہم انداز ڈاکٹر اسرار رحمہ اللہ کا ہے۔ اس کے علاوہ مفتی طارق مسعود، نعمان علی خان، ڈاکٹر عبدالسمیع، شجاع الدین شیخ، جاوید احمد غامدی کے تفسیر قرآن کے ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں۔ جسے جس کا انداز پسند ہو تو اسی کو سنیں۔ عورتوں کے لئے ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کی تفسیر بھی موجود ہے تو وہ انھیں سن سکتی ہیں۔
رمضان میں اپنی فرصتیں قرآن کو بخش دیجئے۔ قرآن سمجھنے کی کوشش کیجئے۔


جزاک اللہ خیرا ۔آپکا بہترین انداز بیاں ہے۔ اور کس قدر خوبصورت اسلوب کے ساتھ آپ نے رمضان المبارک پر تحریر کیا ہے۔