زہرہ اور مشتری کا ملاپ: آج نظام شمسی کے دو سیارے سرگوشی کرتے دکھائی دیں گے
وینس (زہرہ) اور جوپیٹر (مشتری) ویسے تو لاکھوں میل دور ہیں مگر زمین سے ایسا دکھائی دے گا جیسے وہ اتنے قریب ہیں کہ عنقریب ان کی آپس میں ٹکر ہونے والی ہے۔
سیاروں کا ایسا ملاپ ہر سال ہوتا ہے لیکن رواں سال وہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ قریب دکھائی دیں گے۔
ایسا منظر دوبارہ دیکھنے کے لیے آپ کو سال 2039 تک انتظار کرنا پڑا سکتا ہے۔ صاف آسمان میں آپ یہ منظر اپنی آنکھوں سے یا دوربین کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں۔
سنیچر کے بعد آئندہ دنوں میں یہ دونوں سیارے اپنے الگ راستوں پر نکل پڑیں گے۔
سوسائٹی فار پاپولر ایسٹرانومی میں خلا کی سائنسدان پروفیسر لوسی گرین بتاتی ہیں کہ ’اس میں فلکیات کے ماہرین کو بہت تجسس ہے کیونکہ ان لوگوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ باہر نکل کر یہ منظر دیکھ سکتے ہیں۔‘
سیاروں کا ملاپ کیا ہے؟
ملاپ یا کنجکشن ایسا موقع ہے جب زمین سے دو سیاروں ایک دوسرے سے انتہائی قریب نظر آتے ہیں۔
سنیچر سے قبل گزشتہ دنوں کے دوران یہ دیکھا گیا کہ آسمان میں وینس اور جوپیٹر دونوں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
درحقیقت دونوں سیاروں کے درمیان 43 کروڑ میل کا فاصلہ ہے۔ لیکن زمین سے آسمان کی طرف دیکھا جائے تو ان کی ترتیب دیکھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کا ملاپ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے:
ہماری کہکشاں سے باہر کسی پہلے سیارے کے وجود کا نشان
نظام شمسی کے سب سے بڑے چاند کی آج تک کی سب سے قریبی تصویر
سورج اور چاند گرہن: گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟
نظام شمسی کے گرد برفانی بادلوں کا راز کیا ہے؟
نظام شمسی کا نواں ’خفیہ‘ سیارہ جس کی تلاش سائنسدانوں کی زندگیاں کھا گئی
اس منظر کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے؟
برطانیہ میں لوگوں نے اگرچہ سیاروں کے ملاپ کا منظر مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے دیکھا اور اس وقت پاکستان میں صبح کے نو بج رہے تھے اور یہاں یہ نظارہ ممکن نہیں تھا، لیکن پاکستان میں سنیچر کی رات اب بھی یہ دونوں سیارے انتہائی قریب دیکھے جا سکیں گے۔
دونوں سیارے آسمان میں نیچے دکھائی دیں گے اور پہاڑ یا عمارتیں اس منظر کو بلاک کر سکتی ہیں۔ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کسی اونچی سطح پر پہنچیں اور دو روشن سیاروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں جو ایک دوسرے کے قریب نظر آ رہے ہوں۔
پروفیسر گرین بتاتی ہیں کہ ’سیاروں کے درمیان ان کی روشنی سے فرق کیا جا سکتا ہے۔ وینس جوپیٹر سے زیادہ روشن ہے تو جب آپ اسے دیکھیں گے تو یہ کافی چمک رہا ہوگا۔ جوپیٹر کی روشنی ذرا کم ہوگی، وینس کی روشنی کے مقابلے میں تقریباً اس کا چھٹا حصہ۔‘
انھوں نے تجویز دی ہے کہ آپ کسی موبائل ایپ کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں کہ آسمان میں آپ کو کہاں دیکھنا ہے۔ اور اگر آپ کے پاس ٹیلی سکوپ ہے تو آپ جوپیٹر کی شکل یا اس کے بڑے چاند بھی دیکھ سکتے ہیں۔
زمین کے نصف کرہ سے آپ دن اور رات کے مختلف اوقات پر اس ملاپ کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ ٹیلی سکوپ سے دیکھنے پر آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ مریخ اور زحل کے ساتھ چار سیارے ایک لکیر کی شکل میں موجود ہیں۔
پروفیسر گرین کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں صبح کے وقت اس منظر کو دیکھیں گی۔ تاہم اگر آپ اس منظر کے لیے نہیں اٹھ پاتے تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔
’آئندہ دنوں میں دونوں سیارے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔ تو اس طرح بھی انھیں دیکھا جا سکتا ہے۔‘


