انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی نئی حلقہ بندی: ’اکثریت کے باوجود مسلمان سیاسی طور پر بے اختیار ہو جائیں گے‘

ریاض مسرور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر


کشمیر
انڈیا کی حکومت کے تین رُکنی حلقہ بندی کمیشن نے جموں کشمیر میں سیاسی حلقوں کے ساتھ دو سالہ مشاورت کے بعد جمعرات کی شب خطے کی نئی حلقہ بندیوں کی حتمی رپورٹ جاری کی تو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاسی حلقوں نے اس رپورٹ کو ’عوام کُش‘ قرار دیا، تاہم جموں میں اس رپورٹ کو تاریخی اور انصاف پر مبنی سمجھا جارہا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر کے انتخابی نقشے میں اس ردوبدل کی وجہ سے کشمیر کی موجودہ 46 سیٹوں میں صرف ایک سیٹ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ جموں کی موجودہ 37 نشتوں میں چھ کا اضافہ کر کے یہ تعداد 43 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ میں کیا ہے؟

اگست 2019 میں انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدل کرنے سے قبل جموں کشمیر اور لداخ ایک ریاست تھی، جس کی قانون ساز اسمبلی میں کُل 87 نشستیں تھیں۔ اس میں کشمیر سے 46، جموں سے 37 جبکہ لداخ سے چار منتخب نمائندے ہوتے تھے۔ لیکن خودمختاری کے خاتمے کے بعد لداخ کو علیحدہ مرکزی انتظام والا علاقہ قرار دیا گیا اور جموں کشمیر اسمبلی میں نمائندوں کی تعداد 83 رہ گئی۔

سنہ 2020 میں جسٹس رنجنا دیسائی کی قیادت میں تین رکنی حلقہ بندی کمیشن تشکیل دیا گیا اور دو مرتبہ اس کی مدت میں توسیع کے بعد کمیشن نے جمعرات کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کی جس میں جموں کے لیے چھ اور کشمیر کے لیے فقط ایک نشست کا اضافہ کیا گیا۔

ساتھ ہی درجہ فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے 16 نشستیں مخصوص رکھی گئی ہیں۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ درجہ فہرست ذاتوں اور قبائل سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہندو اکثریتی جموں خطے میں آباد ہے۔

کمیشن نے رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی ہے کہ وادی چھوڑ چکے کشمیری پنڈتوں اور پاکستانی ہندو مہاجرین کے لیے بھی اسمبلی میں نمائندگی کے امکانات تلاش کیے جائیں۔

نئی حلقہ بندی میں قانون ساز اسمبلی کے بعض حلقوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔ جموں اور کشمیر میں فی الوقت پانچ پارلیمانی حلقے ہیں جن میں سے تین کشمیر جبکہ دو جموں میں ہیں۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے تاہم ان کے ساتھ جُڑے اسمبلی حلقوں میں جوڑ توڑ کیا گیا ہے۔

کشمیر کے اننت ناگ اور جموں کے راجوری اضلاع کو جوڑ کر ایک پارلیمانی حلقہ ’اننت ناگ راجوری‘ تشکیل دیا گیا ہے۔

’اکثریت کے باوجود مسلمان سیاسی طور پر بے اختیار ہو جائیں گے‘

تین سال قبل جب انڈین حکومت نے کشمیر کی خودمختاری کا خاتمہ کرکے اسے ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا اور سینکڑوں وفاقی قوانین یہاں نافذ کیے تو سابق وزیر اعلیٰ فاروق کی قیادت میں کئی مقامی سیاسی جماعتوں میں ایک اتحاد تشکیل دیا گیا جس کا مقصد ’خودمختاری بحال کرنا‘ بتایا گیا تھا۔

پیپلز الائنس نامی اس اتحاد کے ترجمان اور سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تارا گامی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ جموں کشمیر کی ڈیموگرافی ( جغرافیہ) تبدیل کر سکتی ہے۔

’جس کا مطلب ہے کہ جموں کشمیر میں مسلمان اکثریت کے باوجود سیاسی طور پر بے اختیار ہو جائیں گے۔‘

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’پہلے یہاں صرف جموں کشمیر کے مستقل شہریوں کو ووٹنگ کا حق تھا، لیکن کمیشن نے اب ان کو بھی یہ حق دیا ہے جو یہاں کے باشندے ہی نہیں ہیں۔ اس کے دُور رس نتائج نکلیں گے اور یہ فیصلہ ڈیموگرافی کو تبدیل کرسکتا ہے۔‘

پیپلز الائنس کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے علیٰحدہ ردعمل میں بتایا کہ ’کشمیر کو بی جے پی جے لیبارٹری بنا کے رکھ دیا ہے۔ ہم اس کمیشن پر بھروسہ نہیں کرتے، کیونکہ بی جے پی کا ایکسٹنشن ہے۔ ان لوگوں نے آبادی کے تناسب کو خاطر میں نہیں لایا اور اسمبلی حلقوں کا جوڑ توڑ کر دیا۔ یہ ناقابل قبول ہے۔‘

اس دوران پاکستان نے انڈین سفیر کو طلب کر کے انھیں ڈیمارش دیا جس میں حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کیا گیا ہے۔

تاہم جموں کشمیر میں بی جے پی کے علاقائی صدر رویندر رینا نے جموں میں اس فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بعض عناصر لوگوں کی بہتری نہیں چاہتے اور خواہ مخواہ کی سیاست کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت ہند عنقریب جموں کشمیر میں انتخابات کا اعلان کرے گی کیونکہ وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ نے پہلے ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ حلقہ بندیاں مکمل ہوتے ہی انتخابات کروائے جائیں گے۔

یاد رہے جموں کشمیر میں گذشتہ چار سال سے کوئی مقامی حکومت نہیں ہے اور انتظامی امور لیفٹنٹ گورنر اور ان کے مشیر چلارہے ہیں۔

https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1522286040832442368?s=20&t=0VV-0NzoS9Z_r47bM416dg

رپورٹ سے کیا بدلے گا؟

2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق لداخ سمیت جموں کشمیر کی آبادی 1 کروڑ 25 لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ لداخ کے علیحدہ ہونے کے بعد جموں کشمیر کی آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ کے آس پاس رہ گئی ہے۔

نئی دلی میں مقیم کشمیری صحافی وجدان محمد کاوُوسہ کہتے ہیں ’کشمیر کے 10 اضلاع میں آبادی کا تناسب 56.2 فیصد ہے جبکہ جموں کے 10 اضلاع میں یہ تناسب 43.8 فیصد ہے۔ مگر نئی حلقہ بندی کے بعد کشمیر میں اسمبلی نشتوں کا تناسب گھٹ کر 52.2 فیصد رہ جائے گا جبکہ جموں میں سیٹوں کا تناسب بڑھ کر 47.8 فیصد ہو جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اب کشمیریوں کا انڈیا سے اعتبار اٹھ گیا ہے‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی جماعتیں اور رہنما خاموش کیوں ہیں؟

کیا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں دوبارہ ’کچھ نیا‘ ہونے جا رہا ہے؟

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: ’سرحدوں پر امن لیکن شہروں میں تشدد‘

اس تفاوت کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ جموں کے پونچھ، راجوری، رام بن، ڈوڈہ، کشتواڑ اور بھدرواہ اضلاع میں پچاس فیصد یا اس سے زیادہ مسلم آبادی کے باوجود مسلمانوں کو قانون ساز اسمبلی میں مناسب نمائندگی نہیں ملے گی۔

ان خدشات کا اظہار گذشتہ برس سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس وقت کیا تھا جب حلقہ بندی کمیشن سفارشات کو منظرعام پر لایا تھا۔

محبوبہ مفتی

انھوں نے اس وقت کہا تھا ’میرے دیرینہ خدشات درست ثابت ہوئے۔ آبادی کے تناسب کو نظر انداز کر کے یہ لوگ (انڈین حکومت) لوگوں کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔‘

مبصرین کہتے ہیں کہ انتخابی نقشے میں جس انداز سے ردو بدل کیا گیا ہے وہ کشمیر اور جموں کی مسلم آبادی کو اسمبلی میں کمزور کرسکتا ہے۔ تاہم جموں، جہاں کی سیاست پر بی جے پی غالب ہے، کے اکثر حلقے نئی حلقہ بندیوں کو تاریخ ساز بتا رہے ہیں۔

https://twitter.com/vijdankawoosa/status/1522231307815686144?s=20&t=TGSejAKzhadC5yNml7H21A

جموں کے صحافی تَرُون اُپادھیائے کہتے ہیں ’جموں کے لوگ تو خیر مقدم ہی کریں گے، کیونکہ دہائیوں سے انھیں لگتا تھا کہ ان کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے۔ وہ کشمیریوں کی بالادستی سے ناراض تھے۔‘

کشمیری صحافی اور تجزیہ نگار ہارون ریشی کہتے ہیں ’ہم صرف جموں کی چھ سیٹوں کے مقابلے میں کشمیر کو صرف ایک سیٹ ملنے کی بات کرتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ درجہ فہرست ذاتوں اور قبائل کی اکثریت جموں میں آباد ہے۔ اُن کے لیے 16 سیٹوں کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے کُل ملاکر جموں سے ہی 55 نمائندے منتخب ہوں گے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24072 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments