استاد ایک معمار قوم


اپنی گفتگو کا آغاز نباض عصر، عبقری خصوصیات کے حامل علامہ اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا جس میں استاد کو معمار قوم سے تعبیر کیا گیا ہے۔

شیخ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روح انسانی
کہہ گیا ہے حکیم قاآنی ﷺ
پیش خورشید بر مکش دیوار
خواہی از صحن نورانی

دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہر ملک و قوم کی ترقی اساتذہ کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالی نے اسی قوم کو دنیا میں سرفرازی عطا کی جس نے اپنی قوم کے اساتذہ کو معاشی و معاشرتی اعتبار سے اعلیٰ مقام عطا کیا۔ ماضی قریب کے جرمنی میں میڈیکل ڈاکٹرز نے جرمن چانسلر سے مطالبہ کیا کہ ان کی تنخواہیں اساتذہ کے برابر کی جائیں، جرمن چانسلر اینجلہ مرکر نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی تنخواہیں کس طرح اساتذہ کے برابر کر دوں وہ تو قوم کے طلباء و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اور ان کے کردار کی تعمیر بھی کرتے ہیں۔

جاپان میں اساتذہ کو اتنا بڑا مقام حاصل ہے کہ اگر کسی تقریب میں یونیورسٹی پروفیسر آ جائے تو اس تقریب کے شرکاء استاد کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں، خواہ اس تقریب کی جاپانی وزیراعظم ہی کیوں نہ صدارت کر رہا ہو۔

اور آپ نے معروف استاد اور مربی جناب پروفیسر اشفاق احمد کا واقعہ سنا ہو گا۔ جب وہ روم تشریف لے گئے اور ٹریفک پولیس کے چالان کی وجہ سے انہیں عدالت میں جانا پڑا جب وہ کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے تو جج صاحب ان کے اعزاز میں یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ ایک استاد عدالت

A professor in court!
اور ہم امت مسلمہ کے افراد بجا طور پر اس پر فخر کر سکتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ

انما بعثت معلما کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ استاد معمار قوم کس طرح ہے؟

تو اس پر بہت سے دلائل دیے جاتے ہیں۔

پہلی بات یہ کہ ہر اچھا استاد اپنے طلباء کو نہ صرف معلومات اور مہارتیں فراہم کرتا ہے بلکہ ان کے رویے بھی تبدیل کرتا ہے، کیونکہ ماہرین تعلیم کے مطابق کسی بھی انسان کا رویہ تبدیل کرنا بہت مشکل اور صبر آزما کام ہوتا ہے، اسی لیے کوئی بھی استاد یہ کام کیے بغیر معمار قوم کے مرتبہ پر فائز نہیں ہو سکتا اور اسی فرض منصبی کو حاصل کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے سن 2009 سے پاکستانی اساتذہ کے لیے دس پیشہ ورانہ معیارات نافذ کیے ہیں۔

(National professional….. For teachers of Pakistan)

وفاقی وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر یہ معیارات انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں موجود ہیں اور ان معیارات میں اساتذہ کے لیے نفس مضمون، انسانی نشوونما اور ترقی اسلام کی اخلاقی اقدار سماجی زندگی کی مہارتوں کے علم میں مہارت حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ان دس معیارات میں سے ہر ایک کے تین درجات ہیں اور ہر ایک کا تیسرا درجہ رویوں کی تبدیلی کا مظہر ہے جو کہ انتہائی مشکل اور مسلسل جد و جہد والا فریضہ ہے۔ راقم نے ایک ایسے استاد کا انٹرویو ریکارڈ کیا، جو واقعی معمار قوم کہلانے کے مستحق تھے اور اس انٹرویو میں انہوں نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا جس کا تذکرہ یہ ثابت کرے گا کہ استاد واقعی معمار قوم ہوتا ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ وہ ملتان ڈویژنل پبلک سکول میں بطور استاد فرائض سر انجام دے رہے تھے اور ساتویں کلاس کے انچارج بھی تھے۔ اساتذہ کی ہفتہ وار میٹینگ کے دوران دوسرے سیکشن کے استاد نے یہ شکایت کی کہ وہ اپنی کلاس کے ایک طالب علم سے بہت تنگ ہیں اور اسے فارغ کرانا چاہتے ہیں تو میں نے انہیں کہا کہ آپ اس بچے کو میرے سیکشن میں بھیج دیں میں دیکھتا ہوں اگر ٹھیک نہ ہوا تو نکال دیں گے۔

وہ جب اس بچے کو اپنے سیکشن میں لے کر آئے تو اس سے کہا کہ بیٹا اس پیراگراف کو پڑھنا شروع کر دو وہ بچہ پڑھنے لگا، اس نے ہکلانا شروع کر دیا اور پوری کلاس نے ہنسنا شروع کر دیا۔ استاد صاحب نے پہلا کام یہ کیا کہ کلاس پر پابندی لگا دی کہ یہ بچہ روزانہ پڑھے گا اور اگر دوبارہ کسی نے اس کا مذاق اڑایا تو اسے کلاس سے نکال دیا جائے گا۔

مختصراً وہ اس بچے کو روز گھر سے پڑھنے کی مشق کا کام دیتے اور روزانہ کلاس میں پڑھ کر سناتا حیرت انگیز طور پر صرف 3 ماہ کے عرصہ میں اس کی ہکلاہٹ ختم ہو گئی اب اس بچے نے بھی محنت شروع کر دی اور کلاس کے لائق بچوں میں شامل ہو گیا۔ پھر جب وہ نہم یا دہم کلاس میں پہنچ گیا تو راز کاشمیری صاحب لاہور آ گئے اور اصلاح معاشرہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بن گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسی بات کو دس پندرہ سال گزر گئے۔ ایک دن وہ ریلوے ہیڈکوارٹر سے ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے تو سامنے سے ایک فوجی وضع قطع والا نوجوان گزرا اس نے مجھے دیکھا تو فوراً سے پلٹ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور مجھے پوچھنے لگا آپ راز کاشمیری ہیں؟ میں وہ ملتان والا طالب علم انور کمال ہوں جو ہکلاتا تھا اور اس نے کھٹاک سے فوجی انداز میں سلیوٹ کیا اور کہا میں آرمی میں آج کل میجر ہوں۔

تو یہ ہے استاد کا معمار قوم والا کردار جس کی بدولت وہ بلا رنگ نسل کے امتیاز اپنے طلباء کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے اور استاد کے اسی کردار کو کسی شاعر نے اس طرح واضح کیا ہے۔

خون رگ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر
میخانہ حافظ ہو کہ بت خانہ بہزاد

اور استاد کے اس روپ کو اگر آپ نے مجسم شکل میں دیکھنا ہے تو انڈین ایکٹر عامر خان کی فلم، تارے زمین پر، دیکھیے کہ کس طرح وہ اپنی ان تھک جد و جہد سے ایک پسماندہ طالب علم کو سکول کا ہیرو بنا دیتا ہے۔

یوں زندگی کا ہر شعبہ انسان سے اسی محنت کا تقاضا کرتا ہے لیکن طلباء کی تعلیم و تربیت سب سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے اور ہمارا معاشرہ ذلت کی گہرائیوں سے صرف اسی صورت نکل سکتا ہے جب وہ اپنے اساتذہ کو سماجی و معاشی طور پر یہ مقام دے گا اور اساتذہ کے لیے بھی میرا یہ پیغام ہے کہ

نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودا خام خون جگر کے بغیر

Facebook Comments HS