لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب کا وزیر اعلی کون ہو گا؟

عباد الحق - صحافی، لاہور


حمزہ شہباز
لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دے دیا ہے اور ہدایت کی کہ دوبارہ گنتی میں منحرف ارکان کے ووٹوں کو شمار نہ کیا جائے.

صوبے کی اعلیٰ عدالت نے قرار دیا کہ گورنر پنجاب ووٹوں کی گنتی کے لیے یکم جولائی چار بجے پہلے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلائیں.

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں پانچ رکنی فل بینچ نے اکثریتی فیصلہ سنایا جبکہ بنچ کے ایک رکن جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اپنے ساتھی ججز سے اختلاف کرتے ہوئے سابق چیف منسٹر عثمان بزدار کو بحال کرنے کا حکم دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا عمل مکمل ہونے تک اجلاس ملتوی نہ کیا جائے.

اکثریتی فیصلہ دینے والی بینچ کے سربراہ کے علاوہ اس میں جسٹس شاہد جمیل خان ،جسٹس شہرام سرور، جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی شامل ہیں۔

فل بینچ نے یہ بھی ہدایت کی کہ جیسے ہی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل مکمل ہو گا اور مطلوبہ تعداد نہ ملنے پر وزیر اعلیٰ کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے.

اکثریتی فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ وزیر اعلی کے ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد نئے وزیر اعلی کا انتخاب ہو گا اور زیادہ ووٹ لینے والا ہی وزارت اعلیٰ کا حق دار ہو گا.

یہ بھی پڑھیے

پنجاب کی وزارتِ اعلٰی پرویز الٰہی کی جھولی میں جائے گی یا حمزہ شہباز لے اڑیں گے؟

حمزہ شہباز: سیاست میں تایا کا شاگرد جو سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ماہر ہے

رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت منظور

لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ہدایت کی کہ پنجاب اسمبلی کے مختلف اجلاسوں میں بدنظمی کو نظر انداز نہیں کر سکتے. اگر اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی یا بد نظمی ہوئی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی.

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ گورنر پنجاب نومنتخب وزیراعلیٰ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حلف لیں گے اور گورنر اگلے دن یعنی دو جولائی کو گیارہ بجے تک حلف لیں گے.

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گورنر پنجاب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے کنڈکٹ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیں گے. عدالت نے آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 5 کا حوالہ دیا اور باور کرایا کہ گورنر آئین کے اس آرٹیکل کے تحت اپنے فرائض ادا کریں گے۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی تک حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے، اگر اکثریت نہ حاصل کر سکے تو حمزہ شہباز وزیر اعلی نہیں رہیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نئے انتخاب کا حکم نہیں دیا جا سکتا. ایسا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہو گا. عدالت نے قرار دیا کہ پریزائیڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے اور عدالت پریزائیڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی.

پنجاب اسمبلی میں کس کے پاس کتنے ممبران ہیں؟

پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 ارکان پر مشتمل ہے جس میں مسلم لیگ نون کے ارکان کی تعداد 166، تحریک انصاف 157، مسلم لیگ قاف 10، پیپلز پارٹی کے سات اور چار آزاد امیدوار ہیں.

اس کے علاوہ پنجاب میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اور چودھری نثار علی خان کی اب تک کسی جماعت سے وابستگی ظاہر نہیں ہے.

پنجاب اسمبلی میں 25 نشستیں تحریک انصاف کے منحرف ارکانِ اسمبلی کے ڈی سیٹ ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں۔

دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر مخصوص نشستوں پر نئے ارکانِ اسمبلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ مسلم لیگ نون نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس پر ابھی تک کوئی سماعت نہیں ہوئی ہے.

اس وقت سابق حکمران اتحاد کے کچھ ارکان حج کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں ابہام ہے.

ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز 186 کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں.

ری پولنگ میں 186 ووٹ حاصل کرنے کی شرط ختم ہو جائے گی اور ایوان میں عددی تعداد جس کے پاس زیادہ ہو گی وہی وزیر اعلیٰ پنجاب بن سکے گا.

مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 173 بنتی ہے اور اگر آّزاد ارکان ان کا ساتھ دیتے ہیں تو یہ تعداد 177 ہو گی.

دوسری جانب تحریک انصاف اور مسلم لیگ قاف کے اکٹھے ہونے سے ان کی تعداد 167 ہے. اگر چار آزاد ارکان اور چودھری نثار علی خان کے ساتھ دینے کی صورت میں یہ تعداد 172 پر پہنچ جائے گی۔

تجزیہ نگاروں کی رائے میں اگر عددی اعتبار سے دیکھا جائے تو حمزہ شہباز کو اپنے مخالف پر ایک ووٹ کی سبقت حاصل ہے اور سابق حکمران اتحاد کے ارکان کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے دوبارہ منتخب ہونے کے امکان زیادہ روشن ہیں.


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments