ای رکشہ: سرینگر میں سو روپے کے سفر کو 10 روپے میں ممکن بنانے والی سواری
لیکن اسی ناممکن کو سرینگر میں ممکن بنایا ہے ریچارجیبل آٹو رکشہ یعنی ’ای رکشہ‘ نے۔ شہر میں جس سفر کے لیے پیٹرول پر چلنے والا رکشہ 100 روپے لیتا تھا، وہی سفر اب فقط 10 روپے دے کر کیا جا سکتا ہے۔
یہ وہ تجربہ ہے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ کفایتی بھی ہے۔ کئی بے روزگار نوجوان اسے کمائی کا آسان ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پُرانے سرینگر کے رہائشی بشارت احمد کُمہار تین ماہ سے ای رکشہ چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’اس کی نہ تو آواز ہے اور نہ ہی پیٹرول یا انجن آئل کا خرچہ۔ ہماری کمائی بھی ہوتی ہے اور مسافر بھی خوشی خوشی پیسے دیتے ہیں کیونکہ کرایے میں سو فیصد کمی ہوئی ہے۔‘
ای رکشہ کو سرینگر میں متعارف کرانے والے آٹو ڈیلر عادل فاروق گورکھو کہتے ہیں کہ یہ تجربہ نہایت کامیاب رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان رکشوں میں لیتھیم آئن Lithium Ion بیڑی ہے جسے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت کے لیے آزمایہ جا چکا ہے۔ ’ہم اب حکومت سے کہتے ہیں کہ کچرا اُٹھانے کے لیے چھوٹے بیٹری والے ٹرکس بھی لائے جائیں تاکہ وہ چھوٹی اور تنگ گلیوں میں جا سکیں۔‘
انسٹیٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ میں ملازمت کرنے والی حسینہ خالد کو پہلے دفتر آنے جانے میں روزانہ کی بنیاد پر 200 روپے خرچ کرنے پڑتے تھے۔
’اب تو میں صرف 20 روپے میں یہ سفر کرتی ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ شہر کے سبھی راستوں پر ای رکشہ ہی چلائیں۔‘
ای رکشہ ڈرائیور بشارت کہتے ہیں کہ پیٹرول کے رکشہ چلانے والے ڈرائیور ان کی ہُوٹنگ کرتے ہیں۔
’وہ ہمیں تنگ بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کو نہیں معلوم کہ یہی مستقبل ہے۔ جن گلی کُوچوں میں وہ والے آٹو نہیں جا پاتے ہم وہاں آرام سے سواری کو چھوڑ کر آتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
کیا الیکٹرک موٹر بائیک ہی ایشیا کا نیا مستقبل ہے؟
کون سی گاڑیاں کم پیٹرول ’پیتی‘ ہیں اور کیا مہنگی ہائبرڈ کار بچت کے لیے بہتر متبادل؟
کیا میں الیکٹرک کار سے زیادہ رقم بچا سکتی ہوں؟
الیکٹرک رکشہ: ’قیمت زیادہ ہو گی مگر سواری سستی‘
https://www.youtube.com/watch?v=S1qeEwrDP1M
ای رکشہ چلانے والا کوئی بھی شخص دن میں 1000 سے 1500 روپے کماتا ہے جبکہ پیٹرول پر چلنے والا رکشہ 2000 سے 2500 روپے کماتا ہے۔
لیکن اس میں سے کم از کم 800 روپے پیٹرول پر ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔
غربت کی وجہ سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کمانے پر مجبور نوجوان اس نئے تجربے سے بہت خوش ہیں۔
بشارت کمہار بھی اُنہی میں سے ایک نوجوان ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پیٹرول والا رکشہ تو پانچ لاکھ روپے کا ہے جبکہ ای رکشہ اُس کی آدھی سے بھی کم قیمت میں ملتا ہے اور مفت میں چلتا ہے۔ میرے لیے یہ کسی معجزے سے کم نہ تھا، کیونکہ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ میں رکشہ خرید سکوں گا۔‘


