کیا بجلی اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں کسانوں کو کاشتکاری چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہیں؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور


پنجاب، زراعت
پہلے اس موسم میں بارشیں ہو جایا کرتی تھیں تو محمد اشرف کے خاندان کے لیے 10 ایکڑ بھی بہت تھے۔ وہ اس زمین پر چاول کاشت کرتے تھے اور سالانہ خرچ نکال کر اتنے پیسے بچا لیتے تھے کہ گزر بسر آرام سے ہو جاتا تھا۔

لیکن دو تین برسوں سے وقت پر بارشیں نہیں ہو رہیں۔ یہ بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ پانی کی کمی وہ ٹیوب ویل چلا کر پوری کر لیتے ہیں۔ بارشوں کے بدلتے رجحان کو دیکھتے ہوئے کچھ برس قبل انھوں نے 30 ہزار روپے میں ایک استعمال شدہ ڈیزل انجن خرید لیا تھا۔

اس میں لگ بھگ دو ڈرم ڈیزل استعمال ہوتا ہے اور ایک دو ماہ میں محمد اشرف کی 10 ایکڑ پر پھیلی چاول کی فصل تیار ہو جاتی ہے لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈیزل کی قیمت کم ہوا کرتی تھی۔

گذشتہ کچھ عرصے میں ڈیزل کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ محمد اشرف کا خاندان کاشتکاری کا پیشہ چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔

یہ صرف ان کے ساتھی کاشتکار اور دوست ہیں جو انھیں ایسا قدم اٹھانے سے روک رہے ہیں۔ شاید حالات بدل جائیں۔ محمد اشرف کا اپنا دل بھی نہیں مانتا۔ نسلوں سے انھوں نے کھیتی باڑی ہی کی ہے لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ اگر حالات نہ بدلے تو وہ زیادہ عرصہ دل کی نہیں سن سکیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گزارا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے گزر بسر کے لیے کوئی پیسہ بچے گا ہی نہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہو گا۔‘

پنجاب، زراعت

محمد اشرف صوبہ پنجاب کے ان سینکڑوں کاشت کاروں میں سے ایک ہیں جن کے لیے ’اچھی گزر بسر‘ سے حالات محض چند سال میں ’انتہائی مشکل‘ ہو گئے ہیں۔ وہ ضلع حافظ آباد کے علاقے کوٹ چیاں سے تعلق رکھتے ہیں۔

پنجاب کا ضلع حافظ آباد اور اس کے گرد و نواح کے اضلاع چاول کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں بھی ہیں اور مشہور بھی۔ یہاں اگنے والا چاول نہ صرف پاکستان میں خوراک کی مقامی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ ملک کے لیے زرِ مبادلہ کمانے کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔

اس میں چھوٹے اور درمیانے درجے یعنی 10 سے 25 ایکڑ کے مالک کاشتکاروں کا حصہ بہت بڑا ہے۔ چاول کو پانی کی فصل کہتے ہیں۔ بوائی سے پودے کے کئی انچ اونچا ہونے تک اسے مسلسل پانی کی ضرورت رہتی ہے۔

ڈیزل کی قیمت سے کاشتکار کو کیا مسئلہ؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد اشرف نے بتایا کہ گذشتہ برس چاول کاشت کرنے کے موسم میں بھی بارشیں کم ہوئی تھیں لیکن اس وقت انھوں نے ٹیوب ویل چلا کر گزارا کر لیا تھا۔

’اس وقت ڈیزل کا ایک ڈرم 19 ہزار روپے میں بھر جاتا تھا۔ اس بار وہی ڈرم کوئی 47 ہزار میں بھرا ہے۔ ابھی دو ڈرم 95 ہزار روپے میں بھروا کر لایا ہوں۔‘

محمد اشرف کہتے ہیں کہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ہی کھاد کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس طرح چاول کی فصل کی کاشت کے لیے جن اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے وہ دو سے تین گنا بڑھ گئے ہیں۔

پنجاب، زراعت

یوں فصل اٹھانے پر محمد اشرف کو جو منافع بچتا تھا اس کا ایک بڑا حصہ کم ہو گیا ہے۔ یہی حال کوٹ چیاں ہی کے ایک چھوٹے زمیندار پیر محمد کا بھی ہے۔ انھوں نے اس برس صرف پانچ ایکڑ پر چاول کاشت کیا ہے۔

وہ اس سے زیادہ کرنا چاہتے تھے لیکن ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ اخراجات کے پیسے نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بارشیں اچھی نہیں ہوئیں اور دو ڈرم ڈیزل کے ابھی تک خرچ ہو چکے ہیں۔ ابھی آگے اور ضرورت پڑے گی۔ ان حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کچھ بچت ہو گی۔‘

کیا بڑا کسان یہ دھچکہ برداشت کر لیتا ہے؟

ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے صرف چھوٹے کاشتکاروں ہی کو نقصان نہیں ہوا بلکہ درمیانے اور بڑے درجے کے کاشتکار بھی اس کا اثر محسوس کر رہے ہیں۔

ضلع حافظ آباد ہی کے رہائشی ملک انوار حیدر لگ بھگ 150 ایکڑ پر چاول کاشت کرتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر ٹیوب ویل بجلی پر چلتے ہیں اور ان کے پاس ہل چلانے کے لیے ذاتی ٹریکٹر بھی موجود ہیں۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ٹیوب ویل چلانے کے لیے نہ صرف بجلی بھی مہنگی ہو گئی ہے اور اس کی قیمت مزید بڑھ رہی ہے بلکہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی میسر بھی کم ہوتی ہے۔

ملک انوار حیدر نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل تو کچھ عرصہ قبل ہی خود بجلی بنا کر نکال لیا تھا۔ انھوں نے ٹیوب ویلز پر ٹریکٹر اور ڈیزل انجن کی مدد سے چلنے والے جنریٹر نصب کیے۔

پنجاب، زراعت

ڈیزل انجن یا ٹریکٹر کی مدد سے وہ ان جنریٹرز کو چلا کر بجلی پیدا کرتے ہیں جس کی مدد سے وہ اس وقت ٹیوب ویل چلاتے ہیں جب لوڈ شیڈنگ یا فنی خرابی کی وجہ سے بجلی دستیاب نہیں ہوتی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انجن پر لگے جنریٹر کی مدد سے ہم 10 واٹ کی موٹر آرام سے چلا لیتے ہیں جو ٹیوب ویل کو چلاتی رہتی ہے۔ ٹریکٹر کی مدد سے ہم تین ایسی موٹریں چلا لیتے ہیں لیکن ٹریکٹر میں ڈیزل زیادہ استعمال ہو جاتا ہے۔‘

کیا اس مسئلے کا بھی کوئی حل ہے؟

لیکن یہ بھی مسئلےکا پائیدار حل نہیں تھا کیونکہ اس میں بھی ایندھن یعنی ڈیزل استعمال ہوتا ہے اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ان کا خرچ بڑھ گیا۔ ساتھ ہی زمین کی تیاری اور فصل کی بوائی تک انھیں ٹریکٹر بھی مسلسل چلانا پڑتا ہے۔

حال ہی میں ملک انوار حیدر نے اس مسئلے کا زیادہ پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے شمسی توانائی کی مدد سے ٹیوب ویل چلانے کا فیصلہ کیا۔

اس کا آغاز بنیادی طور پر ایک فش فارم سے ہوا جو انھوں نے ڈیڑھ ایکڑ پر بنا رکھا تھا۔ اسی فارم کے ساتھ انھوں نے سولر پینل نصب کیے۔ ان پینلز کو انھوں نے اس موٹر کے ساتھ جوڑا جو ٹیوب ویل کو چلاتی ہے۔

ٹیوب ویل کے لیے انھوں نے دوہرا نظام بنایا یعنی اس سے براہِ راست کھیتوں کو بھی پانی دیا جا سکتا تھا اور صرف فش فارم کو بھرنے کے لیے بھی ایک الگ راستہ رکھا گیا تھا۔

پنجاب، زراعت

اگر دھوپ ہی نہ ہو تو سولر کیسے چلے گا؟

ملک انوار حیدر نے تجربے سے سیکھا ہے کہ سولر کا بہترین استعمال اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ اس کی مدد سے ٹیوب ویل چلا کر تالاب کو پانی سے بھر لیا جائے۔ اس طرح ضرورت پڑنے پر اس تالاب میں سے پانی نکال کر کھیتوں کو دیا جا سکتا ہے۔

’جب کبھی بادل ہوں، سولر بھی کام نہ کر رہا ہو اور بجلی بھی چلی جائے تو اس صورت میں ہم تالاب میں سے پانی نکال کر کھیتوں کے لیے بھی استعمال کر لیتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایسے موقعہ پر جب تین حصے کھیت کو پانی لگایا جا چکا ہو اور اچانک بجلی چلی جائے تو اگر فوری طور پر پانی کی روانی کو برقرار نہ رکھا جائے تو اگلے ایک دو گھنٹے میں زمین کا وہ حصہ بھی سوکھ جاتا ہے جو سیراب ہو چکا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایوکاڈو: وہ قیمتی پھل جسے چوروں سے بچانے کے لیے کسان محافظ رکھتے ہیں

‘سبز سونا’: چرس کی گِرتی قیمتیں اور اجازت ناموں کے منتظر بھنگ کے پاکستانی کاشتکار

مشروم کی کاشت کا منافع بخش کاروبار جسے شروع کرنے کے لیے گھر کا ایک کونا بھی کافی

’اس صورت میں تالاب میں ذخیرہ کیا گیا پانی کام آتا ہے اور اس کے لیے سولر بہترین ہے۔‘

انھوں نے ساتھ ہی اس تالاب میں مچھلی بھی پال رکھی ہے۔ سال کے آخر میں وہ یہ مچھلی بھی فروخت کرتے ہیں اور اس سے بھی منافع کما لیتے ہیں۔

’اگر دھوپ نکلی رہے تو سولر بہترین کام کرتا ہے۔ یہ صبح پانچ بجے سے لے کر شام تقریباً سات بجے تک چلتا رہتا ہے اور اس دوران وافر پانی میسر رہتا ہے۔‘

اس پر کتنا خرچ آتا ہے؟

سولر انرجی کے استعمال اور اس جیسے چند دیگر جدید طریقوں کو کسانوں میں متعارف کروانے کے لیے حکومتِ پنجاب نے گذشتہ چند سال میں کئی ایسی سکیمیں شروع کی ہیں جن میں حکومت ایسا منصوبہ شروع کرنے والے کو سبسڈی دیتی ہے۔

پنجاب، زراعت

یعنی سولر انرجی کی صورت میں اس پر آنے والے کل خرچ کا 60 فیصد حکومت دیتی تھی اور باقی ماندہ کسان کو دینا پڑتا تھا تاہم چند کسانوں کے مطابق حکومتی سبسڈی کے ساتھ سسٹم انھیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔

ملک انوار حیدر کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زمین پر جو سولر سسٹم لگوایا ہے اس کا تمام خرچ انھوں نے اپنی جیب سے کیا۔

’میں نے اس وقت مارکیٹ میں نکل کر مکمل سروے کیا اور حکومتی سبسڈی پر ملنے والے سسٹم کو بھی دیکھا لیکن سبسڈی پر ملنے والا سسٹم زیادہ مہنگا پڑ رہا تھا۔‘

ملک انوار حیدر نے بتایا کہ انھوں نے سسٹم میں استعمال ہونے والے تمام اجزا ایک جگہ سے نہیں خریدے۔

’میں نے یہ تمام مختلف جگہوں سے خریدے یعنی پلیٹس مختلف جگہ سے اور انورٹر اور موٹریں دوسری جگہ سے۔ اسی طرح پلیٹس کے لیے لوہے کے سٹینڈز میں نے خود بنوائے جو انتہائی مضبوط ہیں۔‘

ملک انوار حیدر کہتے ہیں کہ وہ دوسرے کسانوں کے برعکس تقریباً سارا سال ہی سولر کا استعمال کرتے ہیں۔ سولر کی مدد سے وہ چاول کے علاوہ دیگر فصلوں کو بھی پانی دیتے رہتے ہیں۔ سولر انرجی کا ماحول پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے کیونکہ ایندھن استعمال نہیں ہوتا۔

ان کا اس تمام پر لگ بھگ آٹھ لاکھ روپے خرچ آیا تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ سولر سسٹم کی حفاظت کریں تو وہ اسے اگلے تقریباً 25 سال تک چلا سکتے ہیں۔ سولر کی مدد سے ان کا بجلی کا خرچ لگ بھگ آدھا ہو گیا ہے۔

’اس سے تقریباً 50 فیصد کی بچت ہوتی ہے اور میرے خیال میں ان تین سال میں جب سے میں نے یہ لگوایا ہے اس کی لاگت پر آنے والا خرچ میں اس میں سے پہلے ہی نکال چکا ہوں۔‘

ملک انوار حیدر کے مطابق اگر سولر سسٹم اچھے داموں دستیاب ہوں تو یہ ایندھن کا بہترین متبادل ہے۔

پنجاب، زراعت

تو چھوٹے کسان بھی سولر سسٹم کیوں نہیں لگوا لیتے؟

مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے کسان یعنی 10 سے 20 ایکڑ والے کاشتکار کے لیے سولر سسٹم خریدنے کے لیے مالی وسائل نہیں۔

کوٹ چیاں سے تعلق رکھنے والے پیر محمد بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ سولر سسٹم لگوا لیں تو ان کا منافع کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ محمد اشرف بھی سولر کی افادیت کو مانتے ہیں لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ سولر سسٹم لگوا سکیں۔

پیر محمد کے مطابق ’اگر حکومت ہم جیسے چھوٹے کسانوں کے ساتھ بھی تعاون کرے اور ہمیں سولر سسٹم لگوا کر دے تو ہماری ڈیزل کے خرچ سے مستقل جان چھوٹ جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اُنھیں آسان قرضوں پر سولر سسٹم لگوا کر دے تو وہ ہر مہینے یا ہر سہ ماہی قسطوں میں وہ قرض واپس کرتے رہیں گے۔

ملک انوار حیدر کے مطابق سولر سسٹم کی طلب بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کی درآمد پر ٹیکس بھی نصب کیا گیا ہے۔

قیمت بڑھ جانے کی صورت میں ان جیسے کاشتکاروں کے لیے بھی اپنی مزید زمین پر اس سسٹم کی تنصیب مشکل ہو جائے گی۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت اچھے داموں پر اچھی کمپنیوں سے سولر سسٹم برآمد کرے اور اس پر عائد ٹیکس ختم کر دے تو وہ اس کو بڑھانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ جو 17 فیصد اضافی ٹیکس اس پر نصب کیا گیا تھا وہ ختم کر دیا گیا ہے اور اب اس کی قیمت نیچے آئے گی۔ اگر ایسا ہو جائے اور کم قیمت اچھے سولر سسٹم ملیں تو میں ضرور اس کو اپنی زمین پر بڑھاؤں گا۔‘

ملک انوار حیدر کے مطابق حقیقی مسئلہ اس چھوٹے زمیندار کے لیے جو اکیلا اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔

’اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کاشتکاروں کو یہ سسٹم لگانے میں مدد کرے۔ ایک مرتبہ لگ جائے تو اس کے بعد اس کی دیکھ بھال پر کوئی خرچ نہیں آتا اس لیے اسے برسوں تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25377 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments