جب دلیپ کمار فلم ’پیاسا‘ کے لیے گرو دت کو زبان دے کر پھر گئے

ریحان فضل - بی بی سی ہندی، دہلی


گرو دت کو بات کرنے کا شوق نہیں تھا۔ وحیدہ رحمن نے ایک بار ان کے بارے میں کہا تھا کہ ’جب ہم ان کے پاس بیٹھ کر کسی سے بات کرتے تھے تو اکثر ہمیں یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ ہماری بات نہیں سن رہے، وہ اپنے خیالوں میں گم رہتے تھے۔‘

’اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ان کو سب سے زیادہ کیا پسند تھا تو میرا جواب ہو گا کام۔ ان کا کام ان کے لیے سب سے پہلے تھا۔ اس کے بعد ہی ان کے بیوی بچوں کا نمبر آتا تھا، ان میں فلمیں بنانے کا ایک جنون تھا۔‘

فلم پیاسا گرودت کے دل کے بہت قریب تھی جس کے لیے وہ اس وقت کے ٹاپ سٹار دلیپ کمار کو لینا چاہتے تھے۔ جب گرو دت نے فلم پیاسا کا سکرپٹ دلیپ کمار کو سنایا تو وہ اس فلم میں کام کرنے پر راضی ہو گئے۔ انھوں نے فلم کی شوٹنگ پر آنے کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن پورا یونٹ دلیپ کمار کا انتظار کرتا رہا، اور وہ شوٹنگ پر نہیں پہنچے۔

گرو دت کے چھوٹے بھائی دیوی دت کہتے ہیں کہ ’دلیپ کمار نے کاردار سٹوڈیو میں ایک تقریب میں شرکت کرنی تھی۔ اتفاق سے بی آر چوپڑا کا دفتر بھی اسی احاطے میں تھا۔ دلیپ کمار ان سے ملنے وہاں گئے۔ بی آر چوپڑا اور گرودت کے درمیان خاموش دشمنی تھی۔ دلیپ کمار چوپڑا کے ساتھ فلم نیا دور کے سکرپٹ پر بحث کر رہے تھے، اسی دوران پیاسا کے مہورت کا وقت ختم ہو گیا۔ دلیپ کمار نے گرودت کو کہا تھا کہ وہ 10 منٹ میں آ رہے ہیں لیکن وہ نہیں پہنچے۔‘

دلیپ کمار نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے پیاسا فلم سائن نہیں کی تھی کیونکہ اس فلم میں ان کا کردار ان کی ایک اور فلم دیوداس سے بہت ملتا جلتا تھا۔

دلیپ کمار نے وعدہ کر کے بھی پیاسا فلم نہیں کی

ستیہ سرن کی کتاب ’گرودت کے ساتھ دس سال، ابرار علوی کا سفر‘ میں گرودت کے سینیماٹوگرافر وی کے مورتی کہتے ہیں کہ ’گرودت بطور اداکار کیمرے کا سامنا کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ وہ اپنی اداکاری کا خود سے جائزہ نہیں لے پاتے تھے تھے اس لیے مجھے یا ابرار کو یہ کام کرنا پڑتا تھا۔‘

لیکن دلیپ کمار کے انکار کے بعد گرو دت نے اس فلم کا مرکزی کردار ادا کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی اداکارہ کی تلاش شروع ہو گئی۔

گرو دت اور وحیدہ رحمان کی ملاقات

گرو دت کی وحیدہ رحمان سے ملاقات کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

وحیدہ نے اپنا پہلا کردار رام کرشن پرساد کی تیلگو فلم روجولو مرائی میں کیا تھا۔ اس فلم میں ان پر فلمائے گئے گانوں کی بدولت وہ راتوں رات سٹار بن گئیں۔

ادھر گرو دت کو ایک ڈسٹری بیوٹر نے تیلگو فلم مسیاما کا ری میک بنانے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے گرودت کو حیدرآباد آنے اور فلم دکھانے کی پیشکش کی۔

فیصلہ ہوا کہ گرو دت ابرار علوی اور گروسوامی کے ساتھ حیدرآباد جائیں گے۔ گرو دت راتوں رات گاڑی چلا کر حیدرآباد پہنچے۔ لیکن پھر ایک حادثہ ہوا جس میں ان کی کار بری طرح تباہ ہوگئی۔ مکینک نے ان کو بتایا کہ گاڑی کو ٹھیک کرنے میں تین دن لگیں گے۔ وقت گزارنے کے لیے وہ اپنے ایک فلم ڈسٹری بیوٹر سے ملنے گئے۔ پھر قسمت نے اپنا کھیل دکھایا۔

گرو دت اور ابرار علوی ڈسٹری بیوٹر کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ان کو باہر شور سنائی دیا۔ کچھ نوجوانوں نے ایک کار کو گھیر رکھا تھا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا تو ایک لڑکی گاڑی سے باہر نکلی۔ ڈسٹری بیوٹر نے گرو دت کو بتایا کہ یہ وحیدہ رحمان ہیں جن کا فلم روجولو مرائی میں ڈانس ہٹ ہو گیا ہے۔

گرو دت نے کہا ’وحیدہ رحمان؟ یہ تو مسلم نام ہے۔ کیا وہ اردو بولتی ہے؟‘

گرو دت نے ڈسٹری بیوٹر سے وحیدہ سے ملاقات کا بندوبست کرنے کو کہا اور اگلے ہی دن وحیدہ اپنی والدہ کے ساتھ گرو دت سے ملنے آئیں۔

گرو دت سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔

بعد میں وحیدہ نے اس انٹرویو کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’گرودت نے اس ملاقات میں شاید ہی ایک یا دو جملے بولے ہوں گے۔ لیکن تقدیر کو معلوم ہوگا کہ اب میرے دن بدلنے والے ہیں۔‘

سی آئی ڈی میں وحیدہ کا سائیڈ رول

ڈسٹری بیوٹر نے گرو دت کو مشورہ دیا کہ بمبئی جانے سے پہلے روجولو مرائی میں وحیدہ کا ڈانس ضرور دیکھیں۔

ابرار علوی نے ستیہ سرن کی کتاب میں بتایا کہ ’ہمیں دکھایا گیا ڈانس نمبر تیز رفتار اور اچھی طرح سے ایڈٹ کیا گیا تھا لیکن کلوز اپ میں وحیدہ رحمان کا ایک بھی شاٹ نہیں تھا۔ گرو دت نے مجھ سے پوچھا وہ کیسی ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ بہت فوٹوجینک۔ گرو دت نے کہا کہ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔‘

گرو دت کی گاڑی ٹھیک ہوئی تو وہ بمبئی واپس آگئے۔

وحیدہ نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں نے اس ملاقات کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی اور اس کے بارے میں بھول گئی تھی۔‘

لیکن گرو دت وحیدہ رحمان کو نہیں بھولے تھے۔

چند ماہ بعد گرودت نے اپنی فلم سی آئی ڈی میں وحیدہ رحمان کو سائیڈ رول دیا۔ اس فلم میں ان کا ڈانس ‘کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ’ بہت زیادہ ہٹ ہوا یہاں تک کہ فلم کی ہیروئن شکیلہ سے زیادہ ان کا چرچا ہوا۔ اس کے فوراً بعد گرو دت نے انہیں پیاسا کے لیے سائن کر لیا۔

آج بھی وحیدہ رحمان سمجھتی ہیں کہ بطور اداکارہ ان کی بہترین فلمیں گرو دت کی فلمیں پیاسا اور کاغذ کے پھول اور دیوآنند کی فلم گائیڈ ہیں۔

ابرار علوی بتاتے ہیں کہ ’میں نے اس فلم کا نام پیاس کی بجائے پیاسا رکھنے کا مشورہ دیا تاکہ ہیرو کے کردار کو محسوس کیا جا سکے اور گرو دت نے میرا مشورہ مان لیا۔‘

جب گرو دت کوٹھے پر پہچانے گئے

جب پیاسا کی شوٹنگ کی تیاریاں چل رہی تھیں تو خیال تھا کہ پوری فلم کا بیک گراؤنڈ کوٹھے کا ہو گا۔ ستیہ سرن لکھتے ہیں کہ ابرار علوی نے بتایا کہ ’مسئلہ یہ تھا کہ گرو دت اپنی زندگی میں کبھی کسی ایسی جگہ نہیں گئے تھے۔ ان کو ڈر تھا کہ ان کو پہچان لیا جائے گا۔‘

’حیدرآباد میں ایک بار مرڈیشور راؤ نے گرودت کو راضی کر لیا اور وہ ناچ دیکھنے ایک کوٹھے پر گئے۔ گرو دت نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔‘

’وہاں بیٹھی دو لڑکیاں گانے لگیں لیکن جیسے ہی انھوں نے کبھی آر کبھی پار گانا شروع کیا، ہم سمجھ گئے کہ گرو دت کو پہچان لیا گیا ہے۔ ہم اپنی شناخت کو خفیہ رکھنا چاہتے تھے لیکن ہم کامیاب نہیں ہوئے۔‘

جانی واکر کے کردار کی ترغیب مالش کرنے والے سے ملی

ابرار علوی سے کہا گیا کہ وہ جانی واکر کے لیے مزاحیہ کردار لکھیں۔ گرو دت نے انہیں یہ حکم بالکل آخری لمحات میں دیا اور انہیں یہ کردار بہت کم وقت میں لکھنا پڑا۔ لیکن گرو دت نے علوی کا مسئلہ حل کر دیا۔

ستیہ سرن لکھتے ہیں کہ ’یونٹ کلکتہ میں فلم کی لوکیشن تلاش کر رہی تھی۔ گرو دت کو شہر کی دو چیزیں بہت پسند تھیں، ایک پھوچکا (گولگپوں کو کلکتہ میں پھوچکا کہا جاتا ہے) اور دوسری جھل موڑی۔

وہ اکثر انہیں وکٹوریہ میموریل کے لان میں بیٹھ کر کھایا کرتا تھا۔ ایک بار اس دوران ان کی نظر ایک مالش کرنے والے پر پڑی جس نے لنگی، ٹوپی اور بنیان پہن رکھی تھی اور اس کے ہاتھ میں تیل کی کئی شیشیاں تھیں۔ یہیں سے جانی واکر کا کردار سامنے آیا۔‘

گرو دت کو ہالی ووڈ فلم ’ہیری بلیک اینڈ دی ٹائیگر‘ کی ایک دھن بہت پسند تھی۔ انھوں نے فلم کے موسیقار ایس ڈی برمن سے اس ٹیون کو کاپی کرنے کو کہا۔ برمن گرو دت کی اس درخواست سے زیادہ خوش نہیں تھے۔ لیکن انھوں نے اس دھن میں معمولی تبدیلی کر کے گرو دت کی بات کی لاج رکھی۔

محمد رفیع نے ساحر کی نظم کو گنگنایا

فیصلہ ہوا کہ ساحر لدھیانوی کا ایک گانا کالج ری یونین کے ایک سین کے لیے استعمال کیا جائے گا اور ایس ڈی برمن کو اس کی دھن ترتیب دینے کو کہا گیا۔ محمد رفیع پہلے سے طے شدہ تاریخ پر گرودت کے گھر پہنچ گئے لیکن کسی وجہ سے برمن وہاں نہیں پہنچ سکے۔

ستیہ سرن لکھتے ہیں کہ ’علوی نے رفیع سے کہا کہ آپ موسیقی کے ماہر ہیں۔ آپ موسیقی کے بغیر یہ گانا کیوں نہیں گنگناتے۔ رفیع نے ایک منٹ سوچا اور پھر صاف اور سریلی آواز میں گانا شروع کیا۔ ہم نے اسے اسی وقت گرو دت کے ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کیا۔ آواز اتنی صاف تھی کہ ہم نے اسے سٹوڈیو میں ریکارڈ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اسے ہی فلم میں استعمال کیا۔‘

ایک اور گانا ایس ڈی برمن نے رابندر ناتھ ٹیگور کی کمپوزیشن سے ترتیب دیا تھا۔ ایک دن گرو دت اور ابرار علوی کہیں جا رہے تھے۔ گرو دت اپنی بیوی گیتا دت کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے جب کہ علوی ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر تھے۔

ستیہ سرن لکھتے ہیں کہ ’علوی نے گرو دت کو مشورہ دیا کہ یہ گانا ہیمنت کمار کی آواز میں بہتر ہوگا۔ گرودت حیران ہوئے اور بولے کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ فلم میں کوئی شخص دو آوازوں میں کیسے گا سکتا ہے؟ رفیع کی آواز پہلے بھی میرے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔‘

’گرو دت گیتا دت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی رائے پوچھی۔ گیتا دت نے حیرت انگیز طور پر میرا ساتھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہیمنت کی آواز کی بیس کم ہے جو گانے کو سوٹ کرے گی۔ گرو دت نے اس وقت کچھ نہیں کہا۔ میں نہیں جانتا کہ گیتا کی نصیحت کا کتنا اثر ہوا، لیکن آخر میں ہیمنت کمار نے ہی وہ گانا گایا۔‘

گرو دت نے وحیدہ کو معاون اداکارہ کا ایوارڈ نہیں لینے دیا

پیاسا کو ریلیز ہوئے 65 سال گزر چکے ہیں اور اسے دنیا بھر کے کئی فلمی میلوں میں دکھایا گیا ہے۔ فلم کی مقبولیت ان سالوں میں اتنی بڑھی ہے کہ ٹائم میگزین نے اسے دنیا کی اب تک کی 100 بہترین فلموں میں شامل کیا ہے۔

اس فلم کے لیے وحیدہ رحمان کو فلم فیئر نے بہترین معاون اداکارہ کے لیے نامزد کیا تھا۔

نسرین کبیر اپنی کتاب ’کنورسیشن ود وحیدہ رحمان‘ میں لکھتی ہیں کہ وحیدہ کے مطابق ’مجھے فلم فیئر کے پبلشر کا فون آیا۔ انھوں نے مجھے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ کو معاون کردار پر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔‘

’جب گرو دت کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا، وحیدہ کا کردار مالا سنہا کے برابر ہے۔ وہ میری دوسری ہیروئن ہیں۔ جین نے کہا کہ مالا سنہا ان کی سینئر ہیں جبکہ یہ وحیدہ کی دوسری فلم ہے۔’

’گرو دت نے کہا کہ اگر آپ ان کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ دیں گے تو میں یہ ایوارڈ نہیں لینے دوں گا۔ میں اس سے تھوڑا مایوس ہوئی لیکن میں سمجھ گئی کہ گرو دت پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ مجھے معاون اداکارہ ہر گز نہ سمجھا جائے۔ آخر کار شیاما کو یہ ایوارڈ فلم شاردا کے لیے دیا گیا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments