سیاست، فوج اور عدلیہ میں کشمکش


پرانی بات ہے۔ چونکہ پرانا نیا ہر بندے کا الگ الگ ہوتا اس لیے کہہ لیتے ہیں کہ کوئی چالیس سال پہلے کی بات ہے کہ دیہاتیوں کی آپس میں بہت لڑائیاں ہوتیں تھیں۔ کبھی ایک ہی گاؤں کی آپس میں اور کبھی ایک گاؤں کی دوسرے گاؤں سے۔ میں نے اپنے بچپن میں چند ایک لڑائیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں تھیں۔ اب تمام تر مسائل بات چیت سے حل ہوتے ہیں۔ اس وقت پتہ نہیں ان لوگوں میں اناء زیادہ تھی یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لڑائی کے منفی اثرات سے واقف نہ ہوں۔ بندوق کلچر نہیں تھا۔ سوٹا، کلہاڑی، چھوی اور برچھے کا استعمال ہوتا تھا۔ معمولی باتوں پر مرد حضرات سروں پر پگڑ باندھ کر کلہاڑیاں اور بڑے بڑے شاموں والے سوٹے کندھوں پر رکھ کر مخالف کو للکارتے ہوئے گاؤں سے باہر آ جاتے تھے۔ پلوں میں فریق مخالف بھی اسی سج دھج سے مسلح میدان جنگ میں پہنچ جاتا تھا۔

لڑائی کی بات فوراً گاؤں میں پھیلتی، گاؤں کا کوئی بزرگ آدمی موقع پر پہنچ جاتا، تب تک تین چار سر کھل چکے ہوتے، بزرگ نے بیچ میں کھڑا ہوجانا اور لڑائی ختم ہو جاتی تھی۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ اسی محلے کی کوئی سفید سر والی مائی میدان جنگ میں پہنچی، اس نے زور دار آواز میں ان مجاہدین کو ایک بھاری بھرکم گالی دی اور ساتھ شرکائے جنگ کے نام لے کر ان کو حکم دیا ”میں کہہ رہی ہوں رک جاؤ“ ۔ یقین جانیے میں نے لڑاکوں کو مائی کے حکم پر کلہاڑیاں اور سوٹے زمین پر رکھتے دیکھا ہے۔ وہ حالات یاد آتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ اگر اس وقت درمیان میں آنے والے وہ بزرگ نہ ہوتے تو ان جنگوں کا انجام بہت ہی خطرناک ہوتا۔

اب کسی کے دماغ میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ آج چالیس سال پرانی بات کدھر سے یاد آ گئی۔ یہ بات یاد آئی ہے اپنے ملک کے حالات دیکھ کر۔ سیاست، فوج اور عدلیہ میں ایک جنگ سی لگی لگتی ہے، یہ تینوں ادارے آپس میں بھی لڑتے نظر آتے ہیں اور ایک ادارہ دوسرے سے بھی سر ٹکرائے کھڑا ہے۔ کوئی ادارہ اپنے آپ کو ملکی حاکم ثابت کرنے کے چکر میں ہے اور کوئی یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ ہم کسی کے ماتحت نہیں۔ اگر ایک کہتا ہے میں نیوٹرل ہوں تو دوسرا پستول تھام کے فائر شروع کر دیتا ہے۔

عوام تو یہ ذلت بھی قبول کر چکے ہیں کہ اگر یہ تینوں ادارے اقتدار بانٹ لیں تو ہم راضی ہیں، عدالتی یا فوجی سربراہان کی ایکس ٹینشن سے مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ عوام کا منتخب وزیر اعظم یہ چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے گاڑی آگے چلے۔ اب اس کھینچا تانی میں حالات یہ بن گے ہیں کہ عدالتی فیصلہ آئے، پبلک دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے، آدھے فیصلے کو درست مانتے ہیں آدھے نہیں مانتے۔ کوئی سیاست دان بات کرے تو بھی یہی حالات ہیں اور ملکی دفاعی ادارے بارے عوامی رائے تو اللہ معاف فرمائے۔ بڑوں کی لڑائی میں عوام کا کچومر نکل چکا ہے اور شاید ملک کا بھی۔

یوں تو یہ ساری باتیں رونے والی ہیں پر ان سے بھی بڑی رونے والی، خطرناک اور بدبختی والی بات یہ ہے کہ اس بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں کوئی ایک بھی بزرگ بابا یا مائی ایسے نہیں جو یہ کہیں کہ ملک پر رحم کرو، لڑائی بند کرو اور لڑائی بند ہو جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments