ناگورنو قرہباخ: آذربائیجان اور آرمینیا میں متنازع خطے پر ایک بار پھر لڑائی چھڑ گئی


Reuters
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک مرتبہ پھر ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے پر مسلح تنازع شروع ہو گیا ہے اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر دو سال قبل طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آذربائیجان کا کہنا ہے کہ آرمینیا نے روسی امن فوجیوں کے زیرِ اتنظام علاقے میں ایک پہاڑی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ آذری حکام کے مطابق اس حملے میں ان کا ایک فوجی ہلاک ہوا ہے۔ اُنھوں نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

آذری وزارتِ دفاع کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’نتیجتاً غیر قانونی آرمینیائی مسلح دستوں کے لیے لڑنے والے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام آرمینیائی فوجی فوراً اس علاقے سے نکل جائیں ورنہ ضرورت پڑنے پر انھیں ’کچل‘ دیا جائے گا۔

جواباً آرمینیا نے آذربائیجان پر امن فوج کے زیرِ انتظام علاقے میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

آرمینیا نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ آذربائیجان کے ’جارحانہ رویے اور اقدامات‘ کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔


ناگورنو قرہباخ کے حوالے سے اہم حقائق

  • یہ تقریباً 4400 مربع کلومیٹر پر محیط پہاڑی علاقہ ہے
  • روایتی طور پر یہاں آرمینیائی مسیحی اور ترک مسلمان آباد رہے ہیں
  • سوویت دور میں یہ جمہوریہ آذربائیجان کے اندر ایک خودمختار خطہ بنا
  • نوّے کی دہائی کے اوائل میں یہ خطہ آرمینیا کی حمایت سے آذربائیجان سے علیحدہ ہو گیا تھا
  • بین الاقوامی طور پر اسے آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم اس کی اکثریتی آبادی آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے
  • خود ساختہ حکام کو آرمینیا سمیت اقوامِ متحدہ کا کوئی بھی رکن تسلیم نہیں کرتا
  • یہاں 1988 سے 1994 کے دوران ہونے والی جنگ میں تقریباً 10 لاکھ لوگ دربدر ہوئے جبکہ 30 ہزار لوگ ہلاک ہوئے
  • علیحدگی پسند قوتوں نے آذربائیجان کے اس خطے کے گرد اضافی علاقوں پر قبضہ کیا
  • سنہ 1994 میں جنگ بندی کے بعد سے اس تنازعے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
  • ترکی آذربائیجان کی واضح حمایت کرتا ہے
  • آرمینیا میں روس کا فوجی اڈہ موجود ہے
  • اس علاقے پر قبضے کے لیے 27 ستمبر سنہ 2020 کو آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین لڑائی ایک بار پھر شروع ہوئی۔
  • سنہ 2020 میں آذربائیجان نے علیحدگی پسندوں کے زیرِ انتظام کچھ علاقہ واپس چھین لیا تھا۔ بعد میں جنگ بندی کی شرائط کے تحت روسی امن فوج کو علیحدگی پسندوں کے زیرِ انتظام باقی علاقے میں امن قائم رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا
  • خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 2020 کے اواخر میں ہونے والی اس لڑائی میں 6500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

آرمینیا، آذربائیجان، ناگورنو قرہباخ

عالمی برادری کی جانب سے بھی اس تنازعے کے دوبارہ سر اٹھانے پر ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین نے فریقین سے فوری طور پر اشتعال انگیزی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طرفین کو جنگ بندی کا احترام کرنا چاہیے۔

یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ جوزف بوریل کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یورپی یونین تناؤ پر کنٹرول میں مدد کرنا اور جنوبی قفقاز میں پائیدار امن اور استحکام کی کوششیں جاری رکھے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

آذربائیجان، آرمینیا امن معاہدے پر کہیں جشن، کہیں مظاہرے

سابق سوویت علاقوں میں روس کا اثر و رسوخ کیوں گھٹ رہا ہے؟

ناگورنو قرہباخ کی لڑائی: دو اقوام کی اپنے وطن کے لیے دی گئی قربانیاں

اس تنازعے نے ایسے وقت میں سر اٹھایا ہے جب منگل کو ہی روسی صدر ولادیمیر پوتن نے آرمینیائی وزیرِ اعظم نکول پاشنیان سے فون پر بات کی تھی۔

یاد رہے کہ 2020 میں جنگ بندی کا معاہدہ روسی کوششوں سے طے پایا تھا۔

اس کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’امریکہ کو ناگورنو قرہباخ میں جاری سخت لڑائی سمیت وہاں انسانی جانوں کے ضیاع اور زخمی ہونے پر سخت تشویش ہے اور وہ اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم تناؤ میں کمی اور معاملہ مزید بڑھانے سے گریز کرنے پر زور دیتے ہیں۔‘

روس کا کہنا ہے کہ اس کی امن فوج کے زیرِ انتظام علاقوں میں صورتحال مزید تناؤ کی شکار ہو رہی ہے۔ انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق آذری فورسز نے جنگ بندی کی کم از کم ایک خلاف ورزی کی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments