فارن فنڈنگ: کانچ کے محل کیلئے خطرہ


منگل کی صبح دس بجے الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جس کے تحت 351 غیر ملکی کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈنگ کو غیر قانونی اور عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف نامے کو جھوٹا قرار دیا، پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا۔ فیصلے میں کینیڈا سے ملنے والی 35 لاکھ 8 ہزار 186 روپے، آسٹریلین کمپنی انور برادرز سے ملنے والے 6 لاکھ 19 ہزار پاؤنڈ، ووٹن کرکٹ سے ملنے والے 21 لاکھ 21 ہزار 500 ڈالرز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اکاؤنٹس چھپانا آئین کے آرٹیکل 17 ( 6 ) کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

اس قسم کا فیصلہ سننے کے بعد صاحب علم لوگوں کا ذہن آرٹیکل 62 ( 1 f) کی طرف راغب ہوتا ہے جس کے تحت 28 جولائی 2017 کو متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی سے واجبات کی تفصیلات کو 2013 کے عام انتخابات میں واضح نہ کرنے پر پیپلز ایکٹ 1976 کے سیکشن 12 ( 2 f) اور آئین کے سیکشن 99 (f) ذریعے ایک وزیر اعظم کو آرٹیکل 62 ( 1 ) کے تحت مجلس شوریٰ کا رکن بننے کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ پانچ سال گزرنے کے بعد پھر ویسی ہی صورتحال پیدا ہو گئی ہے گویا جیسے وقت گزرا ہو بدلہ نہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے اس وقت جو سیاسی جماعت چوری اور کرپشن کی اسناد بانٹ رہی تھی آج کٹہرے میں خود کھڑی ہے۔

پانچ برس قبل اور آج کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات تو کنفرم ہے کہ اگر آئین اور قانون کی پاسداری کی جائے تو ملک کی ایک اور قد آور سیاسی شخصیت نا اہلی کے زمرے میں آ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے گیند حکومت کے کورٹ میں ڈال دی ہے آٹھ سال بعد اس فیصلے سے پی ٹی آئی پر امپورٹڈ جماعت ہونے کی مہر ثبت ہو گئی۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد خان صاحب نے خود کا سیاسی مستقبل بچانے کے لئے غداری کا بیانیہ بنایا جس کی کامیابی کا اندازہ پنجاب کے ضمنی انتخابات سے بہ خوبی لگا یا جا سکتا ہے۔

خان صاحب کو مقدر کا سکندر کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ اپوزیشن جماعتیں غداری کے بیانیے کو کاؤنٹر نہیں کر پائیں لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ قسمت بھی زیادہ کسی کا ساتھ نہیں دیتی، اب فارن فنڈنگ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی خود مستقبل کیسے بچاتی ہے یہ امر زیادہ اہم ہے کیونکہ امریکی مدد سے حکومت گرائے جانے کے نام پر ہمدردی سمیٹنے والوں پر غیر قانونی فنڈنگ لینے کا الزام ثابت ہو گیا یعنی کہ جو دوسروں کو امپورٹڈ کہتا تھا وہ خود فارن فنڈڈ ایجنٹ نکلا۔

اس سارے ماجرے کے بعد فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں تو چیلنج کیا جائے گا جہاں عدالتوں کا بھی امتحان ہو گا اور دوسری طرف عوام کی سچ اور جھوٹ میں فرق جانچنے والی آنکھ کا بھی معائنہ ہو گا۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ملک میں عدم برداشت اور اخلاقیات کا جنازہ نکالتی سیاست کو فروغ دیا اور عدالتی فیصلوں سے پہلے ہی اپنی افرادی پاور کے ذریعے حریفوں کو ملزم سے مجرم ثابت کرتے رہے اور جلسے جلوسوں میں بار بار یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ ہم نے عوام کو شعور دیا اب وہ ہی عوام فیصلہ کریں کہ ملک میں جھوٹے اور سازشی کی سماعت ہونی چاہیے کہ نہیں اور اسے اقتدار میں آنا چاہیے کہ نہیں۔

یہاں بات صرف قانون کی نہیں بلکہ لیڈرشپ اور اخلاقیات کی بھی ہے اور ملک کا قانون غیر ممنوعہ فنڈنگ سے سیاست جماعت کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جہاں خان صاحب کی ہر تقاریر کی ابتداء اور انتہاء صادق اور امین کے درس سے ہوتی اور بعض دفعہ تو مذہب کارڈ کھیلتے ہوئے جلسوں کا مرکز ہی ”امر بالمعروف و النہی منکر“ رکھ دیا جا تا وہاں دوسری جانب سال 2008 سے 2013 تک غلط ڈیکلیئریشن جمع کروائی جاتی رہی۔ غیر ملکیوں سے فنڈز لیے جاتے رہے، 8 اکاؤنٹس کو اون کیا، 13 اکاؤنٹس کو پوشیدہ رکھا۔ اس وقت ذہن عام میں یہ سوالات محو گردش ہیں کہ کیا دوسروں پر غداری کا الزام لگانے والے جواب دیں گے دوسرے ممالک سے فنڈنگ حاصل کر کے کس کا کام کر رہے تھے؟

کیا بیرونی فنڈنگ سے پاکستان میں انتشار کی سیاست کی جاتی رہی ہے اور ہم اس میں استعمال ہوتے رہے ہیں؟ اور سب سے اہم سوال تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل اب کیا ہو گا؟ جس طرح پانامہ فیصلہ اور ابسولوٹلی ناٹ بیانہ الیکشن پر اثر انداز ہوا بالکل اسی طرح فارن فنڈنگ معاملہ بھی 2023 کے عام انتخابات پر اثر انداز ہو گا یا ایسا کہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی تحریک انصاف کے خلاف ایک ہارڈ ایشو مل گیا جس کے استعمال سے وہ غداری بیانیے کا خوب مقابلہ کریں گے۔

روز بروز ڈالر کی بڑھتی قدر اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کی وجہ سے جہاں یہ گمان عام تھا کہ شاید خان صاحب آئندہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت لے جائیں لیکن اب پانسہ پلٹ گیا اور اب سیاسی جماعتوں کی ذہانت کا مقابلہ ہے کہ وہ کس طرح کمپین میں عوام کو اپنا گرویدہ کرتی ہیں۔ ممکن ہے کہ فارن فنڈنگ کانچ سے بنے محل میں لگنے والا پتھر ثابت ہو اور بڑا برج گر جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments