فرانس کا وہ پہاڑ جس پر چڑھنے سے پہلے آخری رسومات کے پیسے دینے پڑ سکتے ہیں


فرانس
فرانس کے ایک قصبے کے میئر نے کہا ہے کہ مونٹ بلینک پہاڑ کے حالات اتنے خطرناک ہیں کہ پہاڑ پر چڑھنے کے خواہشمندوں کو 15 ہزار یورو پیشگی ادا کرنے چاہییں تاکہ کسی بھی مشکل صورتحال میں انھیں ریسکیو کرنے یا موت کی صورت میں ان کی آخری رسومات کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

خیال رہے کہ مونٹ بلینک پہاڑی سلسلے میں فرانس اور اٹلی میں چار ہزار میٹر سے بلند 11 چوٹیاں ہیں اور یہ ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

ژاں مارک پیئکس فرانس کے سینٹ گروائس قصبے کے میئر ہیں جو ایک پہاڑ کے دامن میں واقع ہے جس کی اونچائی 4800 میٹر سے زیادہ ہے۔

اُنھوں نے تصدیق کی کہ انتباہ کو نظر انداز کرنے والے جوا کھیلنے والوں کی مانند ہیں۔

گرمی کی لہر نے وہاں پتھر گرنے کا امکان بڑھا دیا ہے۔

میئر پیئکس نے کہا کہ ریسکیو کی اوسط لاگت 10,000 یورو جبکہ جنازے اور تدفین کے اخراجات 5,000 یورو تک ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ناقابلِ قبول ہے کہ فرانسیسی ٹیکس دہندگان یہ رقم ادا کریں۔‘

گاؤں کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے بیان میں اُنھوں نے کہا کہ ٹور گائیڈ اب رائل وے کہلانے والے گوٹے روٹ پر کوہ پیماؤں کے ساتھ جانے سے انکار کر رہے ہیں جو قریبی الپائن ریزورٹ چیمونکس کی طرف جاتا ہے۔ نیا اقدام کم از کم اگست کے وسط تک نافذ العمل رہے گا۔

فرانس

میئر نے خود کو بہادر کہلانے والے کوہ پیماؤں پر تنقید کی جو ان کے مطابق اپنے سامان میں موت ساتھ لیے اوپر جاتے ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس پر غور کریں، یہ سمجھیں کہ آج یہاں اوپر جانا بہت خطرناک اور خودکشی کے مترادف ہے۔‘

اُنھوں نے اب بھی اس ممکنہ پیشگی فیس کے حوالے سے قانونی حکم نامہ جاری نہیں کیا ہے مگر اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا اختیار ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ رقم ’اس معاملے پر توجہ حاصل کرنے کے لیے بڑی ہونی چاہیے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ یہ غیر قانونی ہے تو وہ عدالت جا کر اسے چیلنج کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے 30 جولائی کو رومانیہ کے کوہ پیماؤں کے ایک گروپ کو شارٹس اور جوتے پہنے ہوئے پایا۔ پولیس ہیلی کاپٹروں نے اوپر سے اڑان بھری اور لاؤڈ سپیکر سے اُنھیں واپس آنے کو کہا، جس پر وہ اس دن تو واپس مڑ گئے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگلے دن وہ دوبارہ آئیں گے۔

فرانسیسی قصبے کے میئر نے گرنے والی چٹانوں کی وجہ سے علاقے میں پہاڑی سیرگاہوں گوٹے اور ٹیٹی روس کو تاحکمِ ثانی بند کر دیا ہے۔

برف کی کمی اور گرمی کی غیر معمولی لہر نے چٹانیں گرنے کا خطرہ بڑھا دیا اور چڑھائی کو اور بھی خطرناک بنا دیا ہے۔ گرمی سے برفانی تودے گرنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

چیمونکس کے ایک تجربہ کار گائیڈ اولیور گیربر نے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ پہلے معمول کے مطابق 100 سے 120 لوگ اوپر چڑھ پاتے تھے مگر اب یہ تعداد صرف ایک درجن کے قریب رہ گئی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25377 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments