اقوام متحدہ: روس معذور افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے

روتھ کلیگ - بی بی سی نیوز


بچہ
یوکرین میں ذہنی مریضوں کے ایک معکز میں رہنے والا یہ بچہ غذائیت کا شکار بھی ہے
اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے روس کے کنٹرول میں موجود یوکرینی علاقوں میں واقع مختلف یتیم خانوں اور ذہنی مریضوں کے مراکز سے معذور افراد کو فوری طور پر باہر نکالے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے کا دعویٰ ہے کہ انہیں موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق روس ان علاقوں میں معذور افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور انہیں جس قسم کی مدد کی ضرورت ہے وہ انہیں نہیں دے رہا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں ذہنی یا جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے قائم ایک مرکز میں کم سے کم بارہ افراد ہلاک ہوئے۔

ایک پریس کانفرینس کے دوران اقوام متحدہ کی معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کمیٹی نے کہا کہ وہ یوکرین اور ان کے روس کے ہاتھوں مقبوضہ علاقوں میں قائم ان مراکز میں معذور افراد کی حفاظت کے بارے میں بے حد فکر مند ہے۔

کمیٹی کے نائب صدر جونس رسکس نے کہا کہ پہلے سے خراب صورت حال روسی جارحیت کے سبب اور بھی زیادہ خراب ہوتی جا رہی ہے۔ معذور بچوں اور ایسے افراد جنہیں پڑھنے لکھنے میں مشکل کا سامنا ہے، انہیں خاص خطرہ ہے۔

غذائیت کی کمی کا شکار بچے

رسکس نے یوکرین کے متعدد یتیم خانوں اور ذہنی مریضوں کے مراکز میں رہنے والے ہزاروں بچوں کو فوری طور پر وہاں سے باہر نکالے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی نیوز کی تحقیقات میں معذور افراد کے ساتھ زیادتی کی باتیں سامنے آنے کے بعد کمیٹی نے یہ سفارشات کی ہیں۔

اقوام متحدہ کا مطالبہ ہے کہ ان افراد کو جلد از جلد ان مراکز سے باہر نکالا جائے اور ان کی فلاح کے لیے سرمایہ کاری کی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ انہیں غذائیت کے شکار متعدد بچے، بینچ سے بندھے ہوئے نوجوان لوگ اور ایسے لوگ ملے جو سارا وقت بستر میں گزارنے پر مجبور تھے۔

گدشتہ ماہ جنگ کے دوران یوکرین کے معذور افراد کی صورت حال کے بارے میں ہونے والی ایک سماعت میں بی بی سی نے شواہد پیش کیے تھے۔

اس کے بعد صدر زیلینسکی کی اہلیہ اولینا زیلینسکی نے قبول کیا تھا معذور افراد کا خیال رکھنے والے پورے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل بی بی سی کی لورا کونسبرگ کے ساتھ بات چیت میں جب ان سے بی بی سی کی تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں سوالات کیے گئے تو انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں پورا نظام دوبارہ کھڑا کرنا پڑے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ بچے گھریلو ماحول میں رہیں، فوسٹر فیملیز کے ساتھ یا ان کے ساتھ جو انہیں گود لے لیں۔ اب یتیم خانے نہیں ہونے چاہئیں۔‘

سوویت دور کا نظام

روسی قبضے سے قبل اس قسم کے مراکز میں تقریباً ایک لاکھ بچے رہتے تھے۔ ان میں سے آدھے معذور تھے۔ ایک اندازے کے مطابق ایسے سات سو یتیم خانوں میں ہر روز تقریباً ڈھائی سو بچے داخل کیے جا رہے تھے۔

فروری میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے آغاز پر متعدد مراکز کو خالی کر دیا گیا۔ یہاں سے ہزاروں لوگ ہمسایہ ممالک چلے گئے۔

اولینا زیلینسکی چاہتی ہیں کہ ملک چھوڑ کر چلے گئے ایسے افراد واپس یوکرین لوٹیں اور نئی زندگی کا آغاز کریں لیکن وہ جانتی ہیں کہ انہیں ان مراکز کے باہر عام لوگوں کے درمیان رہنے کے لیے تیار کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے:

حاملہ یوکرینی طبی کارکن روس کی قید میں

یوکرینی شہر جہاں رہنے والوں کے لیے نیند پوری کرنا ممکن نہیں

ڈمنشیا: ’میری والدہ کا بستر پیشاب سے بھرا ہوا تھا، انھوں نے زیرجامہ بھی نہیں پہن رکھا تھا‘

یوکرین میں یورپ کے کسی بھی ملک سے زیادہ افراد یتیم خانوں یا ذہنی مسائل کے سبب ایسے مراکز میں رکھے جاتے ہیں۔ اور اس نظام کی بنیاد سوویت دور میں رکھی گئی تھی جو آج تک بدل نہیں سکا ہے۔ اس دور میں والدین کو اپنے معذور بچوں کو حکومت کو سونپ دینے کے لیے راضی کر لیا جاتا تھا۔

یوکرین کے معاشرے میں آج بھی یہ خیال عام ہے کہ معذوری سے متاثر کسی بھی شخص کے لیے ایسے مراکز میں رہنا گھر والوں کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔ اس قسم کے متعدد یتیم خانوں میں ہزاروں نوجوان لوگ اور ایسے بچے ہیں جن کے اپنے خاندان والے حیات ہیں لیکن معاشرے میں یہ بات ٹھیک نہیں سمجھی جاتی کہ ایسے افراد گھر والوں کے ساتھ رہیں۔ ایسے ہزاروں افراد اپنی ساری عمر ان مراکز میں گزار دیتے ہیں۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے ملنے والی معاشی امداد کو جنگ کے دوران اس معاملے میں کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ معاشی امداد کو ان مراکز کو بڑھانے یا ان کی مرمت جیسے کاموں میں استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ اس کا استعمال اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہونا چاہیے کہ یہ لوگ ایک خود مختار زندگی جی سکیں۔ یہ کوشش کی جانی چاہیے کہ عام سماج کے ساتھ گھلنے ملنے کا انہیں بھی موقع ملے نہ کہ انہیں مراکز تک محدود رہنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26021 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments