غلطی اور تاویلات۔۔

ٹیلر ماسٹر صاحب کو واسکٹ میں موجود خامی کی نشاندہی کراتے ہوئے گزارش کی کہ اب کے بار اس کا خیال رکھا جائے۔ انھوں نے مضبوط دلائل کے ساتھ مجھے قائل کرنے کی کوشش فرمائی کہ یہ کوئی خامی نہیں بلکہ ایسا کرنا اچھی واسکٹ سلوانے کےلئے لازمی ہے۔ دوران بیان فضائلِ انھوں نے واسکٹ کو الٹ دیا تو فخریہ انداز میں فرمایا کہ "حاجی صاحب یہ تو ہماری سلائی کردہ ہے ہی نہیں، یہ تو کسی اور جگہ سے بنوائی گئی ہے، ہم کیسے اتنی بڑی غلطی کرسکتے ہیں۔۔ ہماری سلائی پوری صفائی،ستھرائی اور سلیقے سے ہوتی ہے”
ہم نے مزید کچھ کہنے سے احتراز کیا البتہ ان کی پھیکی مسکان قابل دید تھی۔۔
توجہ دلانا یہ مقصود تھی کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی غلطی کو مان لینے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اس کی ہزار تاویلات ہوتی ہیں اور بڑے دلائل کے ساتھ اس کی صفائیاں پیش کی جاتی ہیں اور زور دار انداز سے اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔۔ مسائل کا پیدا ہونا، معاملات کا بگڑ جانا اور جھگڑوں کا صدور اسی وجہ سے یقینی ہو جاتا ہے۔
غلطی کا احساس ہوتے ہی اسے تسلیم کرنا، اس کی تلافی کرنا، معذرت کرنا، اس سے سیکھنا اور آئندہ نہ دھرانے کا عزم کرنا ایک اچھے انسان کی خوبی اور دراصل مومن کا بہترین وصف ہے۔
کیا خوب فرمایا گیا ہے کہ غلطی پر ڈٹ جانا شیطان کا وصف ہے اور جنت سے نکال دئیے جانے کا سبب بھی، جبکہ غلطی کو مان کر اس پر اظہارِ ندامت ، رجوع ، استغفار اور سدھار کا عزم انسان کو محبوب ہی نہیں بناتا بلکہ اسے دوسروں کو بھی جنت کی راہ دکھانے کےلئے راہبر بنا دیتا ہے۔۔
جو لوگ غلطی مان لینے کےلئے چند ہی لمحوں کی ہمت نہیں رکھتے وہ غلطیوں سے پیدا شدہ مسائل کو سلجھانے میں برسا برس لگا دیتے ہیں۔
غلطی تسلیم کرنے سے انسان کے قد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ یہ عمل اس کی رفعتِ عظمت کا موجب ہے۔
Facebook Comments HS

