کیا آڈیو لیک کرنے والے چہرے بے نقاب ہوں گے؟
عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ سربراہ تحریک انصاف نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس، گھر کی سیکیور لائن کس نے ٹیپ اور کس نے لیک کی؟ وزیراعظم کے فون کو ٹیپ کریں لیکن اس کو لیکن کرنا جرم ہے عدالت جا کر پتا چلاؤں گا کون سی ایجنسیز یہ کام کر رہی ہیں۔ عمران خان نے ایک اور بڑا انکشاف کیا انہوں نے کہا کہ چور مجھے گندا کرنے کے لیے ڈیپ فیک ویڈیوز تیار کر رہے ہیں، عمران خان نے کارکنوں سے کہا آپ سب تیاری کریں، کال میں زیادہ دیر نہیں ہے پوری تیاری کر رہا ہوں، چیلنج کرتا ہوں یہ جو مرضی کریں عوام کے انقلاب کو نہیں روک سکیں گے۔
دوسری طرف وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم آفس سائبر سیکیورٹی بریچ میں اپنی یا بیرون ملک کی کوئی ایجنسی ملوث نہیں ہے، اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ معاملہ افراد کی طرف جا رہا ہے۔ مریم اورنگزیب نے عمران خان کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان صبح شام جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بولنے کا سبق سکھاتا ہے عمران خان کہہ رہے ہیں وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیک کے خلاف میں عدالت جا رہا ہوں، عمران خان بتائیں کس منہ سے عدالت جا رہے ہیں، عدالت جانے کا کیا مقصد ہے، جے آئی ٹی بن چکی ہے، آپ نے وہاں پیش ہونا ہے۔
مریم اورنگزیب نے مزید کہا جب خود وزیراعظم تھے تو کہتے تھے کہ ریکارڈنگ ہونی چاہیے، عمران خان پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہے جو ریکارڈنگ کو جائز قرار دیتا ہے۔ ادھر آڈیو لیکس کی تحقیقات بھی جاری ہیں اور فون ہیکنگ میں ملوث دو افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے دونوں افراد وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی پر تعینات سٹاف سے رابطے میں تھے۔ آڈیو لیک کرنے والے چہرے بے نقاب ہوں گے یا نہیں؟ یاد رہے 24 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزرا اور مریم نواز کی گفتگو کی آڈیوز بھی منظر عام پر آئی تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یہ ایک اہم معاملہ اور سیکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 28 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس میں جس میں وفاقی وزرا کے علاوہ تینوں افواج اور حساس اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں اعلیٰ اختیارات آڈیو لیکس اسکینڈل کی تحقیقات کرے گی۔ 4 اکتوبر کو آڈیو لیکس کے معاملے پر 12 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی گئی جس میں آئی ایس آئی، آئی بی کے ڈائریکٹر جنرلز، وفاقی وزرا اور دیگر کو شامل کیا گیا۔
جو آڈیو لیکس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ پاکستانی سیاسی منظر نامے میں الزام برائے الزام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ کبھی حکومتی ارکان کیمروں کے سامنے آ کر مخالفین کے آڈیو کلپ چلا کر خود کو محب وطن ثابت کرتے ہیں تو کبھی حزب اختلاف اپنی توپوں سے مخالفین پر خوب برستی ہے۔ ایک طرف اکیلا عمران ہے تو دوسری طرف پوری 13 جماعتوں کی فوج۔
عمران خان بڑی بہادری سے اکیلے مقابلہ تو کر رہے ہیں لیکن شاید انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ ان کی بھی کچھ کمزوریاں حکومت کے ہاتھ لگ گئیں ہیں اب یہ کمزوریاں آڈیو لیکس ہوں، توشہ خانہ یا فارن فنڈنگ کا کیس۔ پس پردہ کچھ تو چل رہا ہے۔ عمران خان کئی بار کبھی دو ٹوک تو کبھی اشاروں کنایوں میں یہ اظہار کر چکے ہیں کہ انہیں ”مائنس“ کرنے کی سازش چل رہی ہے۔ ایک انٹرویو میں عمران خان نے تو یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ انہیں مروانے کی سازش بھی چل رہی ہے۔
عمران خان کا اضطراب بتاتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ کہیں ڈیل کی باتیں ہیں تو کہیں ڈھیل کا تاثر۔ اب اس پردہ داری کے پیچھے کوئی جبر ہے یا صبر یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ایک پیج کی بات پر فخر کرنے والے اب اسی پیج پر تلخی کی سیاہی سے الفاظ کی ضرب لگاتے نہیں تھک رہے۔ ملک میں جاری اس بے یقینی کا خاتمہ کیسے ہو گا۔ کیا آڈیو لیکس کا یہ سلسلہ رکے گے یا اس لیکس کے ”حمام“ میں اور بھی چہرے بے نقاب ہوں گے؟


