ملکی ترقی کا راز
جن ممالک میں ایک مستحکم جمہوری ماحول ہے وہ ترقی کے سفر پہ آج بگٹٹ رواں دواں نظر آتے ہیں اور جہاں غیر جمہوری ماحول ہے یا زیادہ تر رہا ہے وہ شاہراہ تنزلی پہ کشاں کشاں محو سفر ہیں گویا ہنوز دلی دور است۔
جمہوری ماحول میں انسانوں کو شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی حاصل ہوتی ہے، جو اب دیہی کا اعلیٰ و ارفع نظام ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے جہاں کارہائے مملکت جبری و فسطائی ہتھکنڈے آزمائے جائیں وہاں جبر و قہر کے نتیجے میں صرف جی حضوری والے غلام پیدا ہوتے ہیں وہ مجبور محض ہی ہوسکتے ہیں، خودداری اور عزت نفس سے محروم۔ شخصی آزادی کس قدر اہم ترین ضرورت ہے اس کا ادراک ہمارے خطے کے لوگوں سے زیادہ کس کو ہو گا۔ پچھلے پچاس ساٹھ برس کا تجربہ تو یہی سبق دیتا ہے۔ وینزویلا، ہیٹی، نائجیریا، شام، مصر، لیبیا، عراق، سوڈان، برما، میانمار اور پاکستان۔
جبر و فسطائیت کا ماحول سوچ و سمجھ و ملی حمیت کو کچل کر رکھ دیتا ہے، ادارے کھوکھلے اور بے راہروی کا شکار ہو جاتے ہیں، بے روزگاری بیشمار عوارض کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ معاشرہ ہیجان میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اخلاق باختگی عام ہو جاتی ہے۔ آپ کے ملک کی شناخت ایک خوددار اور معتبر ملک کے بجائے ایک سوالی اور منگتے کی سی ہوجاتی ہے۔ آپ کے ذہین و فطین لوگ بیرون ملک پناہی کی خاطر مختلف رنگوں میں نقل مکانی کر کے جا بستے ہیں جس سے قابل و ہنرمند افراد کی ملک میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ عالمی سطح پہ آپ کے پاسپورٹ کی کوئی آبرو نہیں رہ جاتی۔ باہمی سر پھٹول سے ممالک کمزور و ناتواں ہو جاتے ہیں۔ اور بالآخر اکثر ممالک میں اقوام متحدہ کو امن کے فرائض سر انجام دینا پڑتے ہیں۔
اس کے برعکس جہاں جمہوری ادارے تسلسل کے ساتھ کام کر رہے ہیں وہاں صحت افزا ماحول دستیاب ہے اسی لیے وہ ترقی کرتے ہیں۔
آج کا دن بھی ہمارے ہاں ایک سیاہ دن کی مانند ہی سمجھا جاتا ہے جہاں ایک شب خون کے ذریعے ملک کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا ہے۔
اس کی پرچھائیاں آج بھی ہمارا منہ چڑا رہی ہیں۔


