برطانیہ کے وزیرِ خزانہ کوازی کوارٹینگ کو برطرف کر دیا گیا


کواسی کوارٹینگ
برطانیہ کے وزیرِ خزانہ کوازی کوارٹینگ نے تصدیق کی ہے کہ انھیں ان کی مرضی کے خلاف وزیرِ اعظم لز ٹرس نے اپنی کابینہ سے برطرف کر دیا ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ تصدیق کی کہ انھیں یہ عہدے چھوڑنے کا کہا گیا۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق برطانیہ کی وزیراعظم لز ٹرس پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے وزیراعظم آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں گی۔

جب یہ خبر سامنے آئی کہ اب کوازی چانسلر یعنی وزیرِ خزانہ نہیں رہے تو گزشتہ آدھے گھنٹے میں پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم لز ٹرس کے بہت اہم اور کلیدی کابینہ کے رکن اور اطلاعات کے مطابق گرینچ میں ان کے پڑوسی ہیں جو چند ہفتوں میں ہی ان کی ٹیم سے باہر ہو گئے ہیں۔

بی بی سی کے سیاسی امور کے ایڈیٹر کرس مورس کے تجزیے کے مطابق سیاسی رپورٹنگ میں برتری کا پہلو نمایاں ہوتا ہے لیکن یہ واقعی بہت حیران کن ہے۔

لز ٹرس اور کوازی کوارٹینگ پرانے دوست ہیں، اور کنزرویٹو پارٹی کے ایک ہی ونگ سے ہیں۔ انھوں نے پالیسی کے حوالے سے جو کوشش کی ہے وہ سیاست پر ان کے نقطہ نظر کا مرکز ہے۔

مگر اب وزیرخزانہ 40 دن کے کم عرصے میں ہی سارے منظر نامے سے باہر ہو گئے ہیں۔

ڈاؤننگ سٹریٹ میں ایک نیوز کانفرنس میں مالی عدم استحکام پر بات ہونے کے امکانات ہیں مگر اس وقت برطانیہ کے پاس خزانے کا چانسلر نہیں ہے۔

وزیر اعظم اس وقت تک سوالات کا سامنا نہیں کرنا چاہیں گے جب تک وہ اس بات کا جواب نہ دے دیں کہ وزارت خزانہ کون چلاتا ہے۔

پارٹی میں کچھ لوگ یہ بحث کر رہے ہیں کہ مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے اسے ایک نئے چانسلر میں جس چیز کی تلاش کرنی چاہیے وہ ان کی ساکھ ہے۔

کنزرویٹو بینچوں پر دو ارکان، رشی سونک اور ساجد جاوید ہیں جو وزیرِ خزانہ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

https://twitter.com/KwasiKwarteng/status/1580892129630777346?s=20&t=C7vgsnAgNDWTWOHt7Hj5Qw

کوازی کوارٹینگ کے سیاسی کرئیر کا ایک سرسری جائزہ یہ ہے:

لز ٹرس کی طرح ’کلاس آف 2010 کے ایک رکن، سپیلتھورن، سرے سے رکن منتخب ہوئے، جب اُس برس عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے اقتدار حاصل کیا۔

کوازی نے سنہ 2016 میں یورپی یونین سے نکلنے کی تحریک کی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس جنھیں بچپن سے ہار پسند نہیں

ساجد جاوید مستعفی، رشی سونک برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ

برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب صرف ایک لاکھ 60 ہزار افراد ہی کیوں کریں گے؟

کوازی بورس جانسن کی حکومت میں بزنس سیکرٹری بنے، جسے بورس جانسن کی حمایت کے بدلے ملنے والی نوازشات کے طور پر دیکھا گیا۔

لز ٹرس کی سنہ 2022 کی اپنی لیڈرشپ مہم کی حمایت کی اور وزیر خزانہ بنائے جانے سے پہلے انھیں وزیر اعظم کی سیاسی روح کے طور پر بیان کیا گیا۔

23 ستمبر کو ایک منی بجٹ پیش کیا جس میں 45 بلین پاؤنڈز ٹیکس میں کٹوتیوں کا وعدہ کیا گیا، قرضوں کے ذریعے فنڈز فراہم کیے گئے، جس کے بعد مارکیٹ میں افراتفری اور بینک آف انگلینڈ کی مداخلت عمل میں آئی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp