کلرک سے جج تک


ایک بات کی سمجھ آج تک نہیں آ سکی اور وہ ہمارے تعلیمی ادارے اور ان کا باطنی اور ظاہری کردار کا سرعام تضاد ہے۔ جب سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے سر اٹھانے کا کام شروع کیا ہے بجائے علمی اور تعلیمی ترقی ہو صرف بیڑا غرق ہونے کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ جب کسی قوم اور ریاست میں اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے تو پھر بے غیرتی، ہڈ حرامی اور لاتعلقی جیسے سنگین جرائم جنم لے کر اس قوم کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ جو مسلسل تنزلی، بربادی، بے ایمانی اور نت نئے بہانے بنانے میں ماہر نسل تیار کر کے نکا لتے ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں مقابلہ بازی اور ٹھگ بازی کا بازار گرم ہو کر ایک دوسرے کو لائق اور نالائق کہنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے۔

لائق بچے صرف اپنی انا، ہٹ دھرمی اور دوسروں کو حقیر دیکھنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کرتے۔ بجائے دوسروں کو ساتھ لے کر چلیں صرف اپنے آپ کو ماہر اور دوسروں کے حقوق کو سلب کرتے نظر آتے ہیں۔ نالائق تو پہلے ہی نالائق ہوتے ہیں ان کو یہ لقب دے کر مزید خراب کر دیا جاتا ہے مطلب دونوں طرح سے نتیجہ ناکامی ہی نکلتا ہے۔ مطلب تو صاف ہے جب اس جیسی نسل کو مزید آبیاری کرنے والے ملیں ان کا حوصلہ اور ہمت دگنی ہو جاتی ہے۔ تب وہ عملی زندگی میں قدم رکھ کر بجائے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں اور خوف خدا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اتحاد اور یگانگت کا بول بالا بلند کریں وہ مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ تو پھر جاہل اور مذہبی رسومات کے پجاری ظاہری ملیں گے۔ پھر یہی لوگ رشوت کو ”چائے پانی“ اور ”ذاتی حصہ“ تصور کر کے بے ضمیری کو پروان چڑھاتے ملتے ہیں۔ سرکاری دفاتر کی بات ہوئی یا اعلیٰ عدالتوں کی، پڑھے لکھے جاہل ہی ملیں گے۔ اس موضوع کے انتخاب پر میں نے کئی دفعہ سوچا کہ کس طرح بیان کروں؟

ان چیزوں اور ثبوتوں کو کیسے پیش کروں؟ جس طرف بھی نگاہ کی تو صرف ایک ہی بات منظرعام پر ملتی ہے اور وہ قانون اور علم کا مذاق۔ جب اس طرح کے جاہل اور پڑھے لکھے پیدا ہوں تو مزید جاہلیت کو تقویت ملتی ہے۔ تو اسی اعتبار سے غلام عباس افسانہ ”جواری“ میں لکھتے ہیں :

” نکو نے یکبارگی زور کا قہقہہ لگایا۔ اتنے زور کا کہ وہ ہنستے ہنستے دوہرا ہو گیا کیوں دیکھا اس نے کہا! نہ چلان، نہ مقدمہ، نہ قید، نہ جرمانہ میں کہتا تھا اسے مذاق ہی سمجھو!“

اس افسانے کی روشنی میں ہر بات موجودہ حالات کو صرف مذاق ہی قرار دیتی معلوم ہو رہی ہے۔ چاہے وہ ”کلرک“ کی کرسی پر بیٹھا ہے یا ”جج“ کی کرسی پر۔ وہ اپنی حماقت اور نالائقی کو چھپانے کے لئے ہڈ حرامی، چاپلوسی، غلط کو بھی درست اور ہر بات کو مذاق میں لے کر دوسروں کے حقوق اور عزت کا جنازہ نکالنے میں مگن ہیں۔ جب بنیادی جڑیں قدروقیمت کھو دیں، جیتے جی مار کر بے غیرتی کا لبادہ پہن لیں پھر چلتے پھرتے راکھ کے ڈھیر ہیں

اس ساری صورتحال کو سمجھنے کے لئے تمدن کے پجاریوں کی دگرگوں کو واضح کرنے کی کوشش کروں تو یہ قوم روایات میں کھو کر بھی بے نصیبی کا عالم اپنے ہم پلا کر کے عجم کے خیالوں میں مگن ہے۔ جو اچھلنے، پھسلنے اور الجھنے میں ماہر ہے۔

وہی تماشا اور مداری گر کا بازار گرم ہے، یہی کلام خطیب کا دادا ہے۔ سارا قصور وار یہ کالا لبادہ ہے۔ ان کی نگاہوں میں الجھا ہوا اندھیرا ہے۔ یہ وہی دیرینہ بیماری جو ابھی تک لاعلاج ہے۔ انسانیت کے نام پر بڑا داغ ہے، یہ بات تب مجھے سمجھ آئی جب 11 اپریل 2014 کو عملی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے اس معاشرے کے معروف اور مشہور ادارے کا حصہ بنا۔

یہ قدرت کا فیصلہ تھا کہ اس نے اس قوم کی رگوں میں چھپی ہوئی اصلیت دکھانی تھی جس نے نسل انسانی کی جڑوں کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ میں نے متعدد دفعہ تھری پیس اور کاٹن کے مہنگے کپڑوں میں اس مخلوق کو دیکھا جو ایک کپ چائے کے عوض کتاب مقدس پر ہاتھ رکھ کر اپنا ضمیر اور ایمان فخر سے فروخت کرتے دکھائی دیے ہیں۔ غلام عباس اپنے افسانوں ”بہروپیا“ میں ان کی حقیقت کو واضح کرتے ہیں :

” بہروپیوں کا کمال تو بس اسی میں ہے کہ ایسا سوانگ رچائیں کے لوگ دھوکہ کھا جائیں اور سچ سمجھنے لگیں۔“

Facebook Comments HS