لیڈر شپ: ایک احساس ذمہ داری


پختہ ارادہ اور جوش و جذبہ جب باہم مربوط ہوں تو انسان کو آگے بڑھنے اور خودی کی تلاش کرنے میں معاونت براہ راست ملتی ہے۔ اس قانون کے تحت کسی کو کوئی کامیابی کے راستے پر چلنے سے روک نہیں سکتا۔ وہی لمحہ جو اس راستے پر چلنے کے لئے حوصلہ دیتا ہے۔ خودی کا احساس، صحیح سمت کا انتخاب، آگے بڑھنے کا جذبہ اور دوسروں کے لئے مشعل راہ ثابت کر دیتا ہے۔ اسی صورت حال کے پیش نظر بہتر شخصیت، فن کا نکھار، اپنی پہچان اور دوسروں کو آگاہی دینے والے منظر عام پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ جو تحقیق کا لبادہ، سوچنے کی فکر اور انسانیت کو پلے باندھ کر دوسروں کے لئے راستہ ہموار کرنے میں مگن نظر آتے ہیں۔

اسی اعتبار سے محترم قاسم علی شاہ صاحب کی شخصیت ایک مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔

جنہوں نے پاکستان بھر کے لوگوں کو سمت زندگی کا تعین کروانے میں جاندار اور متحرک کردار ادا کیا ہے۔ 28 ستمبر 2022 کی دوپہر مجھے مسٹر ایاز مورس ( موٹیویشنل سپیکر ) جو کراچی سے تشریف لائے تھے ان کے ہمراہ قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دور میں محترم بھائی ایاز مورس ( موٹیویشنل سپیکر ) کا کردار بڑا ہی جاندار اور متحرک ملتا ہے۔ جو وہ آنے والی نسل کی آبیاری اور احساس انسانیت کا چمکتا ستارہ ہیں۔

آج کے زمانہ میں اندر کے فرعون اور موسٰی کا تعین کروانے میں مصروف عمل ملتے ہیں۔ یہی ان کا اعلی پن ہے کہ جب بھی لاہور آئے تو مجھے ملے بغیر نہ رہ سکے۔ لاہور کی فضاء ان دنوں آلودگی میں پہلے نمبر تھی لیکن ان کا جوش اور عزم کم نہ تھا۔ جب بھی ان کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع ملا، کسی نہ کسی انداز میں اچھوتا خیال دیا۔ اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ:

”ہر عمل کو سوچ سمجھ کرو کیونکہ ہر عمل کے اندر ہی اس کا انجام ہوتا ہے جس طرح بیج کے اندر درخت۔“

ان کے ہمراہ یوحنا آباد لاہور سے دوپہر 1 : 30 بجے وحدت روڈ لاہور قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن پہنچے۔ تو معلوم ہوا کہ شاہ صاحب ہمارے ہی انتظار میں بیٹھے ہیں۔ پرجوش انداز میں استقبال ہوا ملاقات میری تو پہلی دفعہ مگر ایسے کہ متعدد دفعہ مل چکا ہوں۔ اس کے پیچھے وہ بنیادی تحقیق تھی جس نے شور اور شعور کا فرق الگ الگ کر کے بیان کر دیا تھا یہی وہ اصل لیڈر شپ ہے۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے اگر کوئی حادثاتی طور پر دو چار کتابیں کیا پڑھ لیتا ہے وہ دوسروں کو آدمی یا انسان ہی نہیں سمجھتا۔

مگر کیا مجال اس شخصیت کے ماتھے پر بل نظر نہیں آئے بہرحال گفتگو کا آغاز ایک دوسرے کی خیر و عافیت سے ہوا اور دوسری بات کہ میرا کوئی باقاعدہ طور پر انٹرویو کرنے کا پروگرام بھی نہیں تھا۔ مگر آج کی حالت زار پر لب کشائی کرنے کا موقع ملا تو شاہ صاحب نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے قیمتی لمحات میں سے وقت مہیا کیا۔

بات معاشرے میں جو تعلیمی ادارے موجود ہیں شروع ہوئی کہ یہ صرف نمبر اور نمبر پر بات کرتے ہیں آخر کیا وجہ ہے اس کے باوجود وہ معیار اور نوجوانوں کے اندر وہ صلاحیت نہیں آ رہی؟

شاہ صاحب نے بڑے احترام سے اپنے دماغ کی پوٹلی کو کھولا تہہ در تہہ کلمات کی برسات ایک ترتیب اور متوازن انداز میں کرنا شروع کی، وہ کہتے ہیں :

”کسی کی قابلیت کو نمبروں سے نہیں جانچا سکتا۔ انسان کے اندر تقریباً نو طرح کی ذہانتیں موجود ہیں اس کے علاوہ برداشت اور روحانی ذہانت بھی موجود ہے جو وقت کے ساتھ ابھرتی ہے“

جب باتیں میں یہ سن رہا تو شاہ صاحب نے وہ اندرونی پرت ایک ایک کر کے کھول کر سامنے رکھ دیے۔ جس کا تعلق ابھی بھی ہمارے تعلیمی اور نصابی اداروں میں دور دور تک نظر نہیں آتا مزید وہ بیان کرتے ہیں کہ :

” ہر بندہ اپنی خوبی اور ٹیلنٹ پر کامیاب ہوتا ہے۔ یہ نمبروں والا ڈرامہ آج جو رچایا ہوا ہے کہ سب کو کامیاب کرنا ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا ظلم اور ستم ہے۔“

بات کھل کر سامنے آئی کہ صرف نمبروں کی بنیاد پر کامیابی کی ضمانت نہیں ہے کامیابی کی ضمانت اخلاقیات کے ساتھ ہیں اس وقت کے نظام تعلیم پر سوال پر جواب دیتے ہوئے شاہ فرماتے ہیں :

” ہمارا نظام تعلیم اور امتحانی نظام مکمل طور پر تباہی کی ایک تصویر ہے۔ اس میں رٹا، نمبر، جی۔ پی۔ اے چیک ہوتا ہے یہاں قابلیت نہیں۔ “

قومی زبان پر سوال کرتے ہوئے انھوں نے جواب دیا:

”کیا ہی اچھا ہو کہ قومی زبان کو تعلیم کا مرکزی کردار بنایا جائے چائنا، کوریا اور دیگر ممالک اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ اس لیے علم خود شناسی اور اخلاق و کردار کا نام ہے۔ علم سوچنے اور سمجھنے کا نام بھی ہے اور یہ مقامی زبان میں ہی ممکن ہے۔“

جب شاہ صاحب اس بات کا اظہار کر رہے تھے تو ساتھ ہی بیٹھی معزز شخصیت ایاز مورس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا تحقیقی نقطہ نظر پیش کیا اور بولے :

”میں اس بات کو تھوڑا سا اضافہ کر کے مزید جاندار کروں تو میرے نزدیک آج کے معجزے یہ نہیں کہ مردے زندہ کیے جائیں بلکہ معجزہ یہ ہے کہ زندہ کو زندگی کا راستہ دکھایا جائے۔“

جیسے ہی الفاظ مجسم ہو کر میرے کانوں میں پڑے تو شاہ صاحب کا لب و لہجہ مزید تشنگی کے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے بیان کرتا ہے :

” لیڈرشپ ایک رویے کا نام ہے لیڈر وہی ہوتا ہے جس کا عمل متاثر کرتا ہو اس کی سوچ کچھ کرنے کے لیے ابھارتی ہو۔ دیکھا دیکھی وہ تصور اور تسلسل چل پڑتا ہے۔ “

اس سے میرے سامنے یہ وضاحت آئی کہ ایک لیڈر خوف کی بنیاد پر نہیں ہوتا لوگوں کو خوف و ہراس کر کے نہیں چل سکتا یا لوگوں کی ضرورتوں کو دیکھ کر نہیں چل سکتا۔ حقیقی لیڈر وہ ہے جو لوگوں کو لکھنے، بولنے کے ساتھ ساتھ اپنے کردار اور لب و لہجہ سے متاثر کرے۔ ان کے اندر کچھ کر دینے کا جذبہ پیدا کرے لہذا سوچ، مزاج، کردار، لب و لہجہ اگر لیڈرشپ میں آئے گا تو وہ دوسروں کو مثبت انداز اور رویہ اپنانے پر مجبور کرے گا۔ ایاز مورس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے موجودہ نوجوان طبقہ پر بات کی۔ اس حوالے سے کردار اور لیڈرشپ کو سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کس طرح ہم ان کے ہاں اس ذمہ داری کو منتقل کر سکتے ہیں؟

قاسم علی شاہ صاحب نے بڑے ہی معتبر انداز میں اس بات کو سمجھاتے ہوئے کہا :

” اچھا ایاز یہ لیڈرشپ کے حوالے سے ہمارے ٹرینرز نے کچھ کام خراب کیا ہے۔ انھوں نے اس کو فکس کر دیا ہے کہ اس کے لیے جب تک آپ ہماری ٹریننگ نہیں لیں گے تب تک آپ لیڈر نہیں بن سکتے یہ غلط ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے لیڈرز کو دیکھ لیں کہیں پر بھی ایسا کچھ نہیں ہے۔“

اگر دیکھا جائے تو نوجوان طبقہ کسی بھی قوم، ریاست، معاشرہ اور مستقبل کا ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ شاہ صاحب کا انداز بیان پیڑ کی سر سبز ٹہنیوں کی طرح ہوا میں لہراتے ہوئے کچھ اشاروں، کنایوں میں محبوب کو من کی جھلک کا منظر دکھاتے ہوئے معلوم ہوتا ہے۔ لیڈرشپ کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ دو سے تین ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ ممکن ہے۔

”پہلی ایک پیدائشی وجہ ہے جو کائنات کا نظام چلانا ہے جو قدرت نے ایسے لوگ پیدائشی طور پر صلاحیتوں سے معمور پیدا کیے ہیں زمانے کی تقدیر ان کے ہاتھوں میں بدلتی ہے تحریر دلوں میں اتر جاتی ہے۔ دوسری وہ جو حالات پالش کر کے ان کو سامنے لاتا ہے جو مسلسل آگے بڑھنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں صرف یہی کہ انسان بڑا ہے۔ تیسرا وہ چھوٹے موٹے لیڈرشپ ہیں جو اداروں کی وساطت سے اس کام پر ہوتے ہیں۔“

ان ساری باتوں کے بعد شاہ صاحب نے ایک فقرہ میں اس بات کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ :
”جتنا بڑا لیڈر ہو گا اتنے ہی گلے شکوے کم کرے گا۔“

یہ بات تو واضح ہے کہ کسی بھی قسم کی لیڈر شپ کو پانے کے لیے تاثراتی ذرائع بڑے جاندار اور اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کتاب، کوئی فلم، گھر کا ماحول، استاد، کسی کا قول اور اس طرح کے کئی عناصر۔ اس لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ اکثر چھوٹی عمر میں ہی بڑے بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ صرف ان عناصر کی بدولت ہی ہوتا ہے۔ ان ساری چیزوں کو پانے کے لیے آپ کو کردار سازی کی ضرورت ہوگی جو دوسروں کو انسپائر کرنے کے لیے بے حد اہم ہیں۔ ہمارے آج کے ماحول اور معاشرے کو اسی بات کی بے حد ضرورت ہے۔ اسی بات کا اگر عملی مجسمہ آپ کے سامنے پیش کروں تو شاہ صاحب نے رخصت کرتے وقت مجھے اپنی کتاب ”راہ عزم میں“ بطور تحفہ پیش کی۔

Facebook Comments HS