خفیہ ملاقاتیں ناکام، خونی لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان


28 اکتوبر 2022 کی شام سے سست روی سے چلنے والا ”پر امن لانگ مارچ“ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد تاحال گوجرانوالہ سے آگے نہیں بڑھ پایا کہ گولی چل جانے سے ”خونی مارچ“ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس واقعہ میں زخمی ہونے کے بعد عمران خان نے ”صحت یاب“ ہونے تک لانگ مارچ روک دیا تھا۔ بظاہر عمران خان کا یہ فیصلہ ان کے زخمی ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے لیکن ”دانندگان راز“ کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ عمران خان کی الزام تراشی کی سیاست ان کے گلے پڑ گئی ہے۔ عمران خان نے منگل ( 8 نومبر 2022 ) کو دوبارہ وزیر آباد سے تحریک انصاف کا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

شوکت خانم اسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے وزیر آباد میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی صاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں ہماری حکومت ہے لیکن تین دن ہو گئے ایف آئی آر نہیں درج کروا پا رہے، میں ملک کا سابق وزیراعظم ہوں مگر ایک ایف آئی آر درج نہیں کروا پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ جہاں رکا تھا۔ وہیں سے دوبارہ شروع ہو گا۔ مارچ کے شرکا سے ہر روز خطاب کروں گا جب مارچ 10 سے 15 روز میں راولپنڈی پہنچے گا تو خود آؤں گا اور لانگ مارچ کو لیڈ کروں گا۔ ”۔ اس کا مطلب یہ عمران خان آئندہ 10، 15 روز منظر عام پر نہیں آئیں گے اور وڈیو لنک پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کریں گے۔ عمران خان کا کہنا ہے میرے خلاف منظم مہم چلائی گئی۔ سب کچھ اسکرپٹ کے تحت کیا گیا۔ بندوق چلانے والے کا انٹرویو لیک کیا گیا۔ پولیس کہتی ہے کہ اس پر پیچھے سے دباؤ تھا۔ عمران خان کا کہنا ہے اگر سائفر ڈرامہ تھا تو اس کی تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں، یہ لوگ سائفر کی تحقیقات سے کیوں ڈرے ہوئے ہیں۔

عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ وہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر شفٹ ہو گئے ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کے زخموں کی نوعیت شدید نہیں ہے۔ اس لئے اپنے گھر چلے گئے ہیں لیکن کسی سرکاری ہسپتال میں جا کر اپنی میڈیکل رپورٹ نہیں بنوائی۔ دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے گوجرانوالہ میں پیش آنے والے واقعہ اور ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے کے لئے فل کورٹ کمشن بنانے کی استدعا کی ہے اور کہا کہ اگر عمران خان کا کوئی الزام ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔ پمرا نے عمران خان کے بیانات اور تقاریر دکھانے پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن اگلے روز وفاقی حکومت نے پیمرا کی سیکشن 5 کے تحت پابندی اٹھا لی ہے۔

عمران خان کے طرز عمل کی وجہ سے ان کو پال پوس کر جوان کرنے والوں کی جانب سخت گیری سے نمٹا جا رہا ہے۔ عمران خان کی جانب سے مسلح افواج کے ایک شاندار کیریر کے مالک افسر پر کیچڑ اچھالنے اور پشاور اور لاہور میں کو کمانڈر کی رہائش کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی غنڈہ گردی کا فوج نے سخت نوٹس لیا ہے۔ فوج کے دو جرنیلوں کی پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کے دعوؤں پر آئی ایس پی آر کا تازہ رد عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوج کا ادارہ الزام تراشی پر مزید خاموش نہیں رہے گا۔

آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا ہے کہ ”اگر مفاد پرستوں کی جانب سے فضول الزامات کے ذریعے اس کے عہدے، فائل کی عزت، حفاظت اور وقار کو داغدار کیا جا رہا ہے تو یہ ادارہ شدت سے اپنے افسروں اور سپاہیوں کی حفاظت کرے گا۔ کسی کو بھی ادارے یا اس کے سپاہیوں کی بے عزتی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“ آئی ایس پی آر کا یہ اعلامیہ ان منہ زور عناصر کے لیے ”شٹ اپ کال“ ہے جنہوں نے فوج کے ادارے پر تنقید کو اپنا وتیرہ بنا لیا ہے۔

جیسا کہ سب کو معلوم ہے عمران خان کی قیادت میں شروع ہونے والا لانگ مارچ ”چیونٹی“ کی رفتار سے چل رہا تھا۔ روزانہ چند کلو میٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد لانگ مارچ ختم کر دیا جاتا تھا پھر اگلے روز وہیں سے جلوس اگلی منزل کی رواں دواں ہوجاتا تھا۔ اس طرح ہر روز تازہ دم ”نفری“ لانگ مارچ کا حصہ بن جاتی تاحال ”کپتان“ کا لانگ مارچ جگہ جگہ ”پڑاؤ“ ڈال کر جلسہ جلسہ کا کھیل رہا تھا جس رفتار سے جلوس منزل کی جانب بڑھ رہا تھا اس سے تو یہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ عمران خان نومبر کے اواخر میں ( نئے آرمی چیف کی تقرری کی تقرری عمل میں آنے کے موقع پر ) اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔

اب تو انہوں نے اپنا روٹ تبدیل کر کے جی ایچ کیو کے سامنے سے گزرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ معلوم نہیں ابھی تک وہ اپنے اس اعلان پر قائم ہیں کہ نہیں عمران خان دانستہ اپنی منزل کی جانب سست روی سے بڑھ رہے تھے اور راولپنڈی سے کسی ”اچھے“ پیغام کے منتظر تھے جب انہیں شٹ اپ کال ملی تو پھر گوجرانوالہ کے واقعہ کی آڑ لے کر عارضی طور پر لانگ مارچ روک دیا جب انہیں اسٹیبلشمنٹ کوئی ”پیغام“ دینا مقصود ہو یا دھمکی تو وہ اس کے لئے لانگ مارچ کے دوران جلسوں کا انتخاب کر رہے تھے۔

ان کے لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد کے بارے میں مختلف اطلاعات ہیں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ سر دست لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد چند ہزار ہی تھی جب کہ میاں نواز شریف نے یہ تعداد تو 2 ہزار بتا کر عمران خان کو ”انڈر ایسٹیمیٹ“ کیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کے ساتھ دس پندرہ ہزار کا جلوس چل رہا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی مخلوط حکومت قائم ہونے کی وجہ سے اسے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔

یہ عجب لانگ مارچ تھا۔ عمران خان رات کو لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کر کے زمان پارک لاہور چلے جاتے جب کہ لانگ مارچ کے شرکا اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہے۔ لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہی لیکن لاہور سے چلنے لوگوں نے انہیں راوی کے پل پر ہی خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ فیصل واوڈا نے پارٹی کی پالیسی لائن سے ”بغاوت“ کرتے ہوئے پہلے ہی لانگ مارچ کے خونی ہونے کے خدشے کا اظہار کر دیا تھا۔ یہ مارچ اب تک 4، 5 جانیں لے چکا تھا۔

3 نومبر 2022 کو گوجرانوالہ میں ایک جنونی شخص کی فائرنگ سے جہاں عمران خان زخمی ہوئے ہیں، وہاں ایک شخص ہلاک اور تین چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند تو کیں لیکن احتجاج میں مایوس کن حاضری دیکھنے میں آئی۔ لاہور اور پشاور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریڈ لائن کراس کی اور بدمعاشی کی انتہا کر دی۔ پی ٹی آئی نے پورے ملک میں احتجاج کی کال دی

چونکہ پنجاب اور کے پی کے میں عمران خان کی حکومتیں ہیں لہذا پی ٹی آئی کے کارکن بلا روک ٹوک احتجاج کر رہے ہیں۔ بعض مقامات پر پی ٹی آئی کارکنوں نے حساس مقامات کے باہر بھی نعرے بازی کی ہے۔ ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور اس نے اعتراف جرم کر لیا ہے جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے ملزم کا بیان وائرل ہونے پر پورا تھانہ ہی معطل کر دیا ہے۔ تاہم عمران خان نے اس واقعہ کا ذمہ دار وزیر اعظم، وفاقی وزیر داخلہ اور ایک ادارے کے افسر کو قرار دیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے آئی جی پنجاب کو عمران خان کے لانگ مارچ پر حملے کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کردی ہے لیکن تاحال انہوں نے عمران کی فرمائش پر قانونی رکاوٹوں کا بہانہ بنا کر ایف آئی درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان پر قاتلانہ حملے پر پنجاب حکومت سے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوسناک واقعے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر دفاع اور مسلم لیگ ( ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اقتدار کے لیے نیا بیانیہ آ گیا۔ بیرونی سازش اور حقیقی آزادی کدھر گئی؟

دوسری طرف سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست زیر سماعت ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے 25 مئی 2022 کو عدالتی حکم عدولی کا سخت نوٹس لیا ہے اور کہا کہ 10 ہزار بندے لا کر 2 لاکھ لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالتی حکم کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اگرچہ عمران خان نے ریڈ زون میں نہ جانے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن حکومت ان کے اعلان پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔

اس دوران گوجرانوالہ کے واقعہ نے عمران خان لانگ مارچ غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ حکومت اور عمران خان کے درمیان کشیدگی کے باوجود اسلام آباد میں ”خفیہ ملاقاتوں“ کی باز گشت سنی گئی۔ یہ ملاقاتیں ناکام ہو گئیں۔ حکومت عمران خان کو اسلام آباد میں داخلے پر فری ہینڈ نہیں دینا چاہتی۔ عمران خان بھی جلسوں میں بار بار کہہ رہے ہیں۔ ”6 ماہ سے انقلاب دیکھ رہا ہوں سوال یہ ہے کہ یہ بیلٹ سے آئے گا یا خونریزی سے“ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ ”مارشل لا لگانا ہے تو لگائیں مجھے کیا ڈرا رہے ہیں؟“

بات یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ عمران خان نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ ”لانگ مارچ اسلام آباد جا کر ختم نہیں ہو گا بلکہ تحریک 10 ماہ تک چلتی رہے گی۔ گویا عمران لانگ مارچ کی ناکامی کے باوجود آئندہ انتخابات تک اپنے کارکنوں کا خون گرم کرنے کے لئے“ حالت جنگ ”میں رہنا چاہتے ہیں۔ سیاسی لحاظ سے ایک جماعت کو مسلسل 10 مہینے تک سڑکوں پر مومینٹم برقرار رکھنا ممکن نہیں بلکہ اس دوران ان کے کارکن ایک ہی راگ سن سن کر کر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران لانگ مارچ کا مومینٹم برقرار رکھتے ہیں یا لانگ مارچ ”ٹائیں ٹائیں“ فش ہو جاتا ہے۔ اس سوال کا جواب آئندہ چند دنوں میں مل جائے گا۔ عمران خان کو اس بات کا علم ہے کہ وہ غصے کے بڑے ”ڈاہڈے“ تو رانا ثنا اللہ خان بھی غصے کا بڑا ”ڈاہڈا“ ہے۔ وہ بڑے دنوں سے ان کے اسلام آباد میں داخلے کے منتظر ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments