دعائیں، قدرت اور کرکٹ کے انوکھے فینز: ’میں پیشگوئی کرتی ہوں پاکستان یہ ورلڈ کپ جیتے گا‘


پرتھ کے آپٹس کرکٹ سٹیڈیم سے نکلتے ہوئے گیٹ پر موجود ایک آسٹریلوی نژاد گارڈ نے ہماری جانب دیکھ کر کہا ’آپ لوگوں کو یہ میچ نہیں ہارنا چاہیے تھا۔‘

وہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں زمبابوے کے ہاتھوں پاکستان کی ایک رن سے شکست کے بارے میں بات کر رہے تھے اور ان کے تاثرات سے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ انھیں بھی اکثر پاکستانی مداحوں اور صحافیوں کے طرح یہ یقین ہو چلا تھا کہ پاکستان اب سیمی فائنل میں پہنچنے میں ناکام رہے گا۔

صورتحال تھی بھی کچھ ایسی ہی۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم نے اس ٹورنامنٹ کا بہترین آغاز کیا تھا اور آسٹریلیا کی کنڈیشنز بھی ان کے لیے گھر جیسی تھیں۔ ایسے میں جنوبی افریقہ اور انڈیا دونوں ہی اس گروپ سے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

لیکن جب ہم سٹیڈیم سے باہر نکل کر پاکستانی مداحوں سے بات کرنے لگے تو پہلے کیمرے پر تو انھوں نے برہمی کا اظہار کیا، لیکن جب کیمرا بند ہوا تو ان میں سے ایک نے کہا ’ٹیم تو اپنی ہے سر، ظاہر ہے بوائز کو سپورٹ تو کریں گے۔‘

دو روز بعد جب نیدرلینڈز کے میچ سے قبل پاکستان ٹیم کا پریکٹس سیشن آپٹس سٹیڈیم سے واکا شفٹ کر دیا گیا تو انڈیا کی پریکٹس دیکھنے کے لیے بھی یہاں دو پاکستانی دوست موجود تھے۔

سمیع اور شاز، یہاں پڑھائی کے علاوہ نوکری بھی کرتے ہیں اور اگلے روز دونوں میچ اس امید پر دیکھنا چاہتے تھے کہ انڈیا کی جنوبی افریقہ پر جیت پاکستان کی راہیں ہموار کر دے گی۔

تاہم ایسا نہ ہو پایا اور پرتھ کی پچ پر انڈین بلے باز جنوبی افریقی اٹیک کا مقابلہ نہ کر پائے۔ میچ کے بعد کہیں ڈھکے چھپے الفاظ میں پاکستانی مداحوں کو انڈیا سے شکوہ تھا کہ وہ یہ میچ کیوں ہارے اور کچھ نے تو یہ الزام بھی لگایا کہ انڈیا نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔

اس کے بعد اصولاً امید ختم ہو جانی چاہیے تھی کیونکہ جب تک پاکستانی ٹیم سڈنی پہنچی تو صورتحال معجزوں، بارش کی دعاؤں اور’قدرت‘ پر منحصر تھی۔

تاہم یہی چیز شاید پاکستانی ٹیم اور اس کے فینز کو دوسری ٹیموں سے مختلف بناتی ہے۔ پاکستانی مداح آخری وقت تک امید نہیں چھوڑتے اور ٹورنامنٹس میں کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان کی اگلے مرحلے تک رسائی کی سکیمز بناتے رہتے ہیں۔

سڈنی میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔ پاکستان کے جنوبی افریقہ کے میچ سے ایک روز قبل ایک ایسے ہی پاکستانیوں کے اکثریتی علاقے آبرن میں جانا ہوا تو ایک شیشہ کیفے کے باہر لوگوں کا ہجوم موجود تھا۔

آبرن

وہاں جا کر معلوم ہوا کہ یہ تمام لوگ انڈیا اور بنگلہ دیش کا میچ انتہائی انہماک سے دیکھ رہے تھے کیونکہ اگر بنگلہ دیش یہ میچ جیت جاتا تو پاکستان کی سیمی فائنل کی راہ ہموار ہو جاتی۔ یہ منظر دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی اور ان انوکھے فینز پر رشک بھی آیا۔

بنگلہ دیش بھی یہ میچ جیتنے میں ناکام رہا، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کے لیے صورتحال مشکل تر ہونے لگی۔

تاہم جنوبی افریقہ سے میچ کے روز جب ہم سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پہنچے تو کم از کم تماشائیوں خصوصاً پاکستانی شائقین کی قطاریں دیکھ کر ایسا محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ پاکستان کی اس ٹورنامنٹ میں کارکردگی اب تک ناقص رہی ہے۔

میچ شروع ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک سٹیڈیم کے باہر شائقین کی قطاریں لگی رہیں جن میں سے اکثر پاکستانی مداح تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ پاکستان کا ’ہوم گیم‘ ہے۔

سڈنی

سڈنی میں اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی فینز کی موجودگی کا اثر تھا یا کچھ اور لیکن شاداب خان اور افتخار احمد کی جارحانہ بیٹنگ اور پھر پاکستان کی بہترین بولنگ کے باعث جنوبی افریقہ بھاری شکست سے دوچار ہوا۔

اس فتح کے بعد احساس ہوا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستانی ٹیم کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، اعداد و شمار کے ذریعے ان کی کمزوری بتا سکتے ہیں یا کسی ایک پیٹرن کے مطابق پیشگوئی کر سکتے ہیں تو یہ ٹیم آپ کو اچانک حیران کر دیتی ہے۔

تاہم پھر بھی میچ کے بعد بات کرنے والے پاکستانی شائقین میں سے اکثریت کو یقین تھا کہ پاکستان سیمی فائنل کھیلے گا، اس کی وجہ کیا تھی، یہ بتانے سے بظاہر ہر کوئی قاصر تھا۔

ہمارا اگلا پڑاؤ ایڈیلیڈ میں تھا جہاں پہنچنے پر بارش سے جڑی امیدوں اور توقعات کو ایئرپورٹ سے ہوٹل چھوڑنے والے ڈرائیور نے ہی توڑ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ایڈیلیڈ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری تھا لیکن گذشتہ چند روز سے یہاں سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور اتوار کو موسم گرم رہنے کے امکان ہیں۔

پاکستان کی ایڈیلیڈ میں پریکٹس منسوخ کر دی گئی تھی۔ اب میچ سے پہلے پاکستانی شائقین کے دلوں کا حال جاننے کا کوئی اور طریقہ نہیں تھا، لیکن اچھے خاصے دیوانے فینز کو دل ہی دل میں معلوم تھا کہ نیدرلینڈز کی جنوبی افریقہ کو شکست دینے کی امید رکھنا، کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔

اتوار کے روز پاکستانی فینز نیدرلینڈز کو سپورٹ کرنے کے لیے بھی گراؤنڈ میں موجود تھے۔ اکثر ایسے تھے جنھیں گراؤنڈ میں پہنچنے سے پہلے نیدرلینڈز کی فتح کے بارے میں علم ہوا اور انھوں نے سڈنی کے لیے بذریعہ روڈ سفر کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان سیمی فائنل میں، ’نیدرلینڈز کی پوری ٹیم کو پی ایس ایل کا کنٹریکٹ دو بھائی‘

وہ کیچ جو پاکستان کو سیمی فائنل تک لے گیا، سمیع چوہدری کا کالم

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان بنگلہ دیش کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا، ہالینڈ نے کام دکھا دیا

پاکستان

یہاں کئی ایسے مداح بھی موجود تھے جو ورلڈکپ میں پاکستان کے تمام میچ دیکھنے دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے تھے۔

ان میں سے ایک جوڑا بریحہ جعفری اور سیف ملک کا بھی تھا جو دبئی سے آسٹریلیا خصوصاً پاکستان کے میچ دیکھنے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

بریحہ کے شوہر کو تو باآسانی ویزا مل گیا تھا لیکن بریحہ کا ویزا انھیں پاکستان انڈیا میچ سے صرف دو روز قبل موصول ہوا اور یہ دونوں اپنی بیٹی مائل کے ساتھ گذشتہ ماہ آسٹریلیا پہنچے تھے۔

سیف نے بتایا کہ ’بریحہ ہمیں دو دن سے کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کے ساتھ جو کر دیا ہے، وہ نیدرلینڈز کے خلاف ہار جائیں گے۔‘ اس پر بریحہ نے کہا کہ ’میں پیشگوئی کرتی ہوں کہ پاکستان یہ ورلڈ کپ بھی جیتے گا۔‘

سیف کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا کے فین پوری دنیا میں اپنی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں تو ہم کیوں ایسا نہیں کر سکتے۔ مجھے پتا ہے کہ ہر کسی کے پاس اس کی استطاعت نہیں، ہم بھی بہت مشکل سے انتظامات کرتے ہیں، لیکن پاکستان کے لیے۔۔۔ دل نہیں مانتا اگر ہم نہ آتے تو۔‘

ایک پاکستانی مداح نے بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی جیت کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی ٹیم کے لیے ناممکن کبھی بھی ناممکن نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کر کے جیت جائیں گے۔‘

یہ قدرت کا کمال تھا یا 92 کے ورلڈکپ کا ری پلے؟ جو بھی ہے لیکن پاکستانی فینز کی اس ٹیم کے لیے مشکل وقت میں بھی بھرپور سپورٹ انھیں کسی بھی اور ٹیم کے فینز سے منفرد بناتی ہے۔

ایڈیلیڈ میں فینز سے بات کر کے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ 9 تاریخ کو ایک بار پھر سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کا سیمی فائنل پاکستان کے لیے ہوم گیم ثابت ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26838 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments