ریاست اور سیاست کا ٹکراؤ


پاکستان کی معیشت کی حالت انتہائی مخدوش ہے، اپریل میں اقتدار میں آنے والی حکومت کے دور کے 6 ماہ میں حالات کا جائزہ لیں تو سب سے بڑا مسئلہ ہے سمت کے تعین کا کیونکہ اس وقت پوری دنیا کے حالات دگرگوں ہیں، پوری دنیا معاشی ابتری سے دوچار ہے لیکن ہمارے مسائل اس سے کئی گنا زیادہ بن گئے ہیں جس کے لئے ہم خود بھی قصوروار ہیں اور ایسے حالات میں سونے پر سہاگہ کہ حال ہی میں سیلاب نے پاکستان گرتی پڑتی معیشت پر ناقابل برداشت ضرب لگادی ہے۔

سیلاب کے بعد اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان نے 30 بلین ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے اور ان چیزوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ہمیں ان حالات میں حکومت سے کوئی زیادہ توقعات بھی نہیں رکھنی چاہئیں مگر ہم اپنے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے شکایت میں حق بجانب ہیں کہ سیاسی عدم استحکام بتدریج جاری ہے اور سیاستدانوں کو ان مخدوش حالات کا ادراک نہیں ہو رہا۔

گو کہ عمران خان کا شمار ملک کے اولین لیڈران میں ہوتا ہے لیکن ایک سابق وزیراعظم اور پارٹی سربراہ کے طور پر یقیناً انہیں اس بات کا احساس ہو گا کہ لانگ مارچ اور احتجاج کی سیاست کی وجہ سے پاکستان کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ رواں ماہ سعودی حکمران شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان آنے کا پروگرام رکھتے ہیں لیکن اگر احتجاج کی وجہ سے ان کا دورہ منسوخ یا معدوم ہوجاتا ہے تو اس سے پاکستان کو معروضاتی حالات کے تحت ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے جو ہماری پہلے سے خراب معاشی حالت کو مزید بگاڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان اس وقت تقریباً 267 بلین ڈالرز کے اندرونی و بیرونی قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے، ایسے حالات میں ان دوستوں جن سے ہمیں قرضوں میں ریلیف کی امید ہے ان کے دورہ پر اگر کوئی بدمزگی ہوتی ہے تو پاکستان اس کی زد میں آ کر مزید پریشانیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔

چین اور سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کی ہر مشکل میں چٹان کی طرح کھڑے ہوتے ہیں اور موجودہ بین الاقوامی سیاسی اور جغرافیائی حالات کے تناظر میں بھی پاکستان یقیناً ایک مسلمہ اہمیت اختیار کرچکا ہے لیکن اگر ہم ہوا کے رخ کو نہ پہچان سکے اور ملک میں جاری عدم استحکام کو ختم کرنے کے لئے مل کر نہ بیٹھ سکے تو ہمیں ناقابل تلافی نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر آنے اور جانے کا سلسلہ پاکستان کے حالت سنورنے میں کبھی مدد گار ثابت نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے لیکن اس وقت جانی اور ان جانی قوتوں کے کندھے استعمال کرنے کا وقت شاید اختتام پذیر ہوتا نظر آ رہا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ رواں سال بہت کچھ ہونے والا ہے اور نئے سال کا سورج امید ہے کہ پاکستان کے لئے روشنی کی نئی کرن لے کر ابھرے گا۔

یہ ٹھیک ہے کہ احتجاج سب کا جمہوری حق ہے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ لانگ مارچ میں عمران خان زخمی ہوئے، ایک کارکن کی جان گئی لیکن اس غریب کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔

بقول شاعر
اے رہبر ملک و قوم بتا
آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا
کچھ ہم بھی سنیں، ہم کو بھی بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
ہماری دعا ہے کہ حالات پر امن رہیں اور جمہوری مقاصد کو جمہوری انداز میں ہی حاصل کیا جائے تو بہتر ہے۔

بنگلہ دیش جیسے ممالک میں بھی جب اہم شخصیات دورہ کرتی ہیں تو ذاتی اور گروہی معاملات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور ایسے دوروں کو کامیاب بنایا جاتا ہے، بنگلہ دیشی قوم اس حد تک باشعور ہو چکی ہے کہ بندرگاہ کو جانے والے ایکسپورٹ کے مال سے لدے ٹرکوں کو لاکھوں کے مجمعوں میں بھی باحفاظت گزارا جاتا ہے تاکہ ان کے ملک میں معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔

پاکستان میں جاری حالات اور مسائل سے کسی جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ ریاست کا نقصان ہو رہا ہے، اس لئے ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں اور جس طرح کے حالات آگے نظر آرہے ہیں اس میں گورنر راج اور دیگر سخت اقدامات بھی بعید ازقیاس نہیں ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر جمیل احمد خان کی دیگر تحریریں

ڈاکٹر جمیل احمد خان

سابق سفیر، سینئر تجزیہ کار، ماہر بین الاقوامی امور

dr-jamil-ahmed-khan has 2 posts and counting.See all posts by dr-jamil-ahmed-khan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments