سولہ دسمبر: یوم حزن و ملال

آج 16 دسمبر ہے، یوم حزن و ملال۔ اس سے جڑی یادیں ایسی ہیں جو کسی دن یا کسی لمحے یاد سے محو ہو ہی نہیں سکتی۔ پہلا واقعہ تب ہوا جب آزادی وطن کو محض 25 برس ہی بیت پائے تھے اور دوسرا واقعہ 2014 کو درپیش ہوا جب سفاک قاتلوں کا ایک انبوہ مکروہ معصوم بچوں کو شکار گاہ بناء کر بے شمار ماؤں اور پوری قوم کو حزن و ملال میں مبتلا کر گیا۔
برصغیر کے مسلمان تب سے ہی اپنے دشمنوں کی چارہ دستیوں کا شکار ہونا شروع ہو گئے جب سے انہوں نے اپنی جداگانہ شناخت کی تلاش شروع کی پھر تقسیم ہند کے موقع پہ جس بیدردی اور سفاکی سے انسانیت کی تذلیل کی گئی وہ بھی اپنی تاریخ رکھتی ہے مگر اس کو اسی پہ اکتفا نہ ہوا اور مسلسل اپنی دائمی ریشہ دوانیوں سے مشرقی پاکستان میں اپنا دام ہم رنگ زمین پھیلانے اور لوگوں کو ایک روشن تعبیر اور تابناک مستقبل کے سپنے دکھانے شروع کر دیے گئے۔
دھیرے دھیرے جب ذہن بدلنا شروع ہو گئے تو پھر یہ آزادی کے نام پہ جو گریہ زاری شروع کروائی گئی، ہماری سیاسی قیادت شاید ان مسائل کا صحیح ادراک نہ حاصل کر پائی اور یوں جو بات چیت اور سیاسی مفاہمت سے چیزیں درست کی جا سکتی تھیں وہ بات نہ کی جا سکی اور لامحالہ سارا ملبہ فوج پہ ڈال دیا گیا حالانکہ وہ اپنا عسکری کام پوری دل جمعی سے کر رہی تھی۔
نامساعد حالات کے باوجود بعض مجاہد بڑی پامردی سے آخر دم تک آمادۂ پیکار رہے مگر چشم فلک کو کچھ اور ہی منظور تھا اور یوں مشرقی بازو ایک پکے پھل کی مانند زمین بوس ہو گیا اور پھر باقی سب واقعات تو روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اب دشمنوں کو اس پہ قرار قلبی اور سکون دائمی نہ ہوا انہوں افغانستان کی سرزمین کو اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کی خاطر اپنا مسکن بنالیا اور یوں طالبان کے نام پہ اپنا مکروہ دھندا شروع کر دیا اور پھر پشاور اے پی ایس والا واقعہ منعقد کروایا اور یہ دوسرا دلخراش دن بھی دیکھنا پڑا۔ گاندھی کے قاتل گوڈسے کے ماننے والے اب پھر کسی اور نئی سازش میں مصروف ہیں اور وہ اب افغانستان کے مشرقی ایشیائی ریاستوں کو ساتھ ملا کر ایک نیا گٹھ بندن بنانے میں مصروف کار ہیں۔ ہمیں اپنے پڑوسیوں کی باریک چالوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
ورنہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

