آٹا سوا سو روپے کلو: مگر مزہ سیاست کھیلنے میں ہے
کراچی سے خبر آئی ہے کہ وہاں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2500 روپے کا فروخت ہو رہا ہے۔ رپورٹ کرنے والے صحافی کو شکوہ صرف یہ ہے کہ قیمت مقررہ نرخ سے ایک سو روپے زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔ اس دوران وزارت اقتصادی امور نے رپورٹ دی ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران پاکستان کو مختلف ذرائع سے 5 ارب ڈالر سے زائد قرض موصول ہوا۔ البتہ لاہور میں دو وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات سن کر یا پڑھ کر ہرگز اندازہ نہیں ہوتا کہ سیاست کھیلنے سے زیادہ ضروری اور دلچسپ کوئی دوسرا کام بھی ہو سکتا ہے۔
رانا ثنا اللہ اور سعد رفیق نے اس پریس کانفرنس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پرویز الہیٰ پنجاب اسمبلی میں اکثریت کھو چکے ہیں اور اسی ’خوف‘ میں اسمبلی توڑ کر خفت مٹانا چاہتے ہیں لیکن وفاق میں اقتدار پر قابض اتحادی پارٹیاں اس قدر جمہوری اور آئین پسند ہیں کہ وہ کسی ’ایرے غیرے‘ کو ایسی حرکت کی اجازت نہیں دے سکتیں۔ مبادا آئینی تقاضے پورے ہونے سے رہ گئے تو کیا ہو گا؟ اسی اندیشے کے پش نظر گورنر بلیغ الرحمان نے آئین و قانون کے عین مطابق پرویز الہیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ اسمبلی توڑنے کا خیال دل میں لانے سے پہلے اعتماد کا ووٹ لیں اور ثابت کریں کہ وہ واقعی ایوان کی اکثریت کے نمائندے ہیں۔
ان دونوں وزرا کو یہ پریشانی بھی لاحق ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے گورنر کا حکم معطل کر کے پرویز الہیٰ کو بطور وزیر اعلیٰ بحال کیا ہے جو گورنر کی آئین پسندی کے راستے میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ اسی لئے دونوں وفاقی وزرا نے امید کی ہے کہ اب عدالت عظمی اس معاملہ پر ازخود نوٹس لے اور پنجاب میں آئین کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔ جو ظاہر ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت کے نمائندوں کے خیال میں تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ممکن نہیں ہے۔
آئین کی دہائی دیتے ہوئے رانا ثنااللہ جو مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر بھی ہیں، نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ہم انتخابات سے نہیں بھاگتے۔ آئینی طریقہ کے مطابق پرویز الہیٰ اسمبلی توڑ دیں تو ہم پوری تیاری کے ساتھ انتخاب میں حصہ لیں گے۔ البتہ آئین کے شیدائی وزیر داخلہ نے یہ واضح کرنے کی کوشش نہیں کی کہ وفاقی حکومت کا پنجاب کی سیاست سے کیا لینا دینا ہے؟ ان معاملات سے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو نمٹنے دیں۔ یا پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عدالتوں یا حکمران جماعت کے ساتھ پنجہ آزمائی کرتے رہیں۔
وفاقی حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر کی صورت حال کو کنٹرول کرے یا عوام کی قوت خرید اور بڑھتے ہوئے افراط زر کے معاملہ کو سنبھالنے کی کوشش کرے۔ اس کے باوجود اگر وفاقی حکومت کے کچھ لوگوں کو پنجاب میں آئین کے ساتھ ہونے والی نام نہاد ’بدسلوکی‘ پر اس حد تک پریشانی لاحق ہے کہ چیف جسٹس سے سو موٹو نوٹس لینے کا تقاضا کیا جا رہا ہے تو کیا وجہ ہے کہ متعلقہ وزیر یا وفاقی حکومت اس حوالے سے پٹیشن دائر کر کے غیر آئینی صورت حال ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے؟ قول و فعل کا یہ تضاد حکومت کی ناکامی و پریشانی پر دلالت کرتا ہے لیکن وہ اس کا سارا بوجھ اور ذمہ داری سیاسی مخالفین کی طرف منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
وفاقی حکومت میں شامل جماعتیں اگر سیاسی ماحول میں تلخی اور شدت کم کر کے واقعی ملکی معیشت کی بہتری کے لئے یکسوئی سے کام کرنا چاہتی ہیں تو وہ موجودہ انتشار میں کم از کم خود حصہ ڈالنے سے گریز ضرور کر سکتی ہیں۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم سے لے کر اتحادی حکومت کے معمولی درجے کے نمائندوں کی گفتگو کا آغاز اور اختتام تمام مسائل کی جڑ عمران خان کے غیر جمہوری رویہ کے بیان سے ہوتا ہے۔ یا تو تحریک انصاف کے دور میں لئے گئے قرضوں میں اضافہ کا ذکر کر کے کہا جاتا ہے کہ عمران خان نئی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے معیشت میں بارودی سرنگیں لگا گئے تھے یا یہ قصہ سنایا جاتا ہے کہ عمران خان کی احتجاجی سیاست اور اب اسمبلیاں توڑ کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش سے ملکی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ گویا اگر معاملات خراب ہوتے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری تحریک انصاف اور عمران خان پر ڈالی جائے اور اگر امید کی معمولی کرن بھی دکھائی دے تو اس کا تمغہ اپنے سینے پر سجا لیا جائے۔ کیا کسی بھی دلیل سے اس رویہ کو درست قرار دیا جاسکتا ہے؟
بلاشبہ سیاسی انتشار اس وقت ملکی معیشت میں تعطل پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ عمران خان اس بحران کو کم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ اتحادی جماعتیں اپنی تمام تر توجہ ان امور پر مبذول کرنے پر تیار نہیں ہیں، جن کی درستی کے لئے تحریک عدم اعتماد کے ’آئینی طریقے‘ سے ایک کمزور اور شکست خوردہ حکومت ہٹا کر شہباز شریف کی قیادت میں تجربہ کار اور معیشت کے نبض شناس لوگوں پر مشتمل حکومت قائم کی گئی تھی۔
اقتدار میں آٹھ ماہ پورے کرنے کے بعد شہباز حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی ناکامیوں کی ساری ذمہ داری تحریک انصاف پر ڈال کر عوام کو روزانہ کی بنیاد پر پرانا راگ سناتی رہے۔ اب انہیں یہ جواب دینا چاہیے کہ موجودہ حکومت نے انتخابات کی بجائے عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار جھپٹنے کا جو اقدام کیا تھا، اس کے نتیجہ میں وہ پاکستانی عوام کو کیا سہولت دینے میں کامیاب ہوئے ہیں اور مستقبل کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ دوسروں کا حساب لینے والوں کو خود اپنی کارکردگی کا احوال صرف نعروں کی بجائے ٹھوس اعداد و شمار سے سامنے لانا چاہیے۔
عوام جن اعداد و شمار کے اثرات اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر رہے ہیں وہ ہر کس و ناکس کو از بر ہیں۔ ڈالر اڑھائی سو روپے کی حد چھو رہا ہے اور اسحاق ڈار کی زور زبردستی کی مالی پالیسی کی وجہ سے ڈالر کی سرکاری اور غیر سرکاری قدر میں فرق کی وجہ سے ترسیلات زر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ افراط زر کی شرح تیس فیصد سے بلند ہو چکی ہے اور آٹے جیسی بنیادی جنس کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ایسے میں سیاسی دنگل کی تفصیلات ازبر کروا کے نہ تو ملکی معیشت کے لئے کوئی خدمت سرانجام دی سکتی ہیں اور نہ ہی اس مقبولیت کو واپس جیتا جاسکتا ہے جسے کھونے کا غم اتحادی پارٹیوں کو مسلسل انتخابات سے گریز کی طرف مائل کر رہا ہے۔ گزشتہ روز ہی قومی اسمبلی میں کورم مکمل نہ ہونے کے باوجود ایک انتخابی قانون منظور کروا کے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات حسب پروگرام 31 دسمبر کو منعقد نہ ہو سکیں۔ عوام کا سامنا کرنے سے بھاگنے والی حکومت کے نمائندے آخر کس منہ سے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ عوامی حاکمیت چاہتے ہیں اور ملک میں آئینی بالادستی کے لئے کام کر رہے ہیں۔
عمران خان کی بیان بازی اور مہم جوئی نے ضرور مشکلات پیدا کی ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ان کی تقریر کا ایک ہی مسودہ ہے جو وہ ایک سال سے پورے تواتر سے دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات اور دیگر حکومتی نمائندوں کے بیانات بھی وہی منظر پیش نہیں کر رہے جو ریکارڈ پر سوئی اٹکنے سے کسی گلو کار کی آواز سے ابھرتا ہے۔ کہ ایک ہی لفظ بار بار سماعت سے ٹکراتا ہے اور کوئی معنی واضح نہیں ہو پاتے۔
سرکار کے نمائندوں سے یہ استفسار تو کیا جاسکتا ہے کہ آپ عمران خان کی جس پروپیگنڈا تکنیک کو غلط اور عوام دشمن قرار دیتے ہیں، اسے خود ہی کیوں آزمانے پر مصر ہیں؟ کیا بہتر نہیں ہو گا کہ آپ اپنی بات کریں، اپنی کامیابی و ناکامی کی تفصیل ایمانداری سے عوام کے گوش گزار کریں اور کام کرنے کا جو وقت ملا ہے، اسے پوری تندہی اور ایمانداری سے نتائج حاصل کرنے پر صرف کریں۔ وہ صلاحیتیں جو عمران خان کو نیچا دکھانے پر ضائع کی جا رہی ہیں، اگر انہیں عوام دوست منصوبوں کی کامیابی کے لئے استعمال کیا جاتا تو شاید بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے۔ یا پھر اتحادی جماعتیں بھی عوام کے اس یقین کو پختہ کرنا چاہتی ہیں کہ سیاست دانوں کو ایک دوسرے کی کردار کشی کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں آتا۔
رانا ثنا اللہ اور سعد رفیق نے پنجاب کی صورت حال پریس کانفرنس میں تفصیلی اظہار خیال کیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر دیگر حکومتی نمائندے و ترجمان بھی مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سیاسی صورت حال پر بلاغت و فصاحت کے موتی بکھیرتے رہتے ہیں۔ لیکن کبھی حکومت کے معاشی ترجمان، وزیر خزانہ یا وزیر تجارت تفصیل سے یہ نہیں بتاتے کہ موجودہ معاشی پریشانی کی کیا وجہ ہے اور حکومت اس سے کیسے نمٹے گی؟ جو معاملات حکومت کے بس میں نہیں، ان سے نگاہیں چرانے کی بجائے انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ کسے ذمہ دار سمجھیں۔
جس صراحت سے غیر اہم سیاسی امور پر وقت اور صلاحیت برباد کی جاتی ہے، اس کا عشر عشیر بھی یہ بتانے پر صرف کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ پاکستان کسی نہ کسی ذریعے سے ہر ماہ ایک ارب ڈالر کا نیا قرضہ وصول کر رہا ہے۔ اس کے باوجود ملک ڈیفالٹ ہونے کی باتیں زبان زد عام ہیں اور سرکاری خزانے میں محض 6 ارب ڈالر ہی بچے ہیں۔ اور مارکیٹ میں ڈالر کی مارا ماری کی وجہ سے معاشی بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر خزانہ کیوں قوم کو نہیں بتاتے کہ جو قرض لئے جا رہے ہیں، وہ کیوں ملکی ضرورتوں کے لئے پورے نہیں پڑتے۔ اور اگر نئے قرض، پرانے قرض چکانے پر صرف ہو رہے ہیں تو یہ سارے قرض چکانے کا اہتمام کیسے ہو گا؟ کون ہے جو ملکی معاشی پالیسی میں کوئی ایسی تبدیلی لانے کا حوصلہ کرے گا جو حقیقت پسندانہ بھی ہو اور ان معنوں میں عوام دوست بھی کہ کچھ تکلیف کے بعد عام شہری کو امید پیدا ہو کہ مشکل کے بعد اچھے دن آنے والے ہیں۔


