جنوبی ایشیائی معیشتوں کو ادارہ جاتی معیار اور مالی ترقی پر غور کرنا چاہیے؟


سبز ترقی کا مطلب معاشی ترقی کو فروغ دینا ہوتا ہے، جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قدرتی اثاثے اور وسائل ماحولیاتی خدمات فراہم کرتے ہیں، جن پر ہمارے فلاح و بہبود کا انحصار ہوتا ہے، سبز ترقی اقتصادی ترقی کی توسیع دیتی ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ معاشی ترقی ماحولیاتی تحفظ اور معاشرتی استحکام کے ساتھ گھرا تعلق رکھتی ہے۔ معاشی ترقی کے شواہد اور ترقی یافتہ ممالک کی ترقی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معاشی ترقی اور ماحولیاتی تباہی کا آپس میں گھرا تعلق ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی جستجو میں ہوتے ہیں وہ ماحولیاتی نقصانات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ جس سے ماحولیاتی تباہی کے اثرات پیدا ہوتے ہیں۔

جنوبی ایشیائی خطے میں ماحولیاتی تباہی کی اثرات سے پانی کی کمی اور ہوا کا گھٹاؤ ایک عام رجحان ہے

اور زراعت کے لئے استعمال ہونے والے پانی میں نمکیات میں اضافے سے تقریباً 90 ملین ایکڑ زمین متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں ریگستان کی وجہ سے ہوا کا گھٹاؤ سے بڑے پیمانے پر زمین کے تباہی کا سبب بنتا ہے۔ کاربن کے اخراج میں اضافہ، ، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سیلاب، خشک سالی، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے نمکیات کے اثرات اکثر جنوبی ایشیائی معیشتوں میں پائے گئے ہیں۔

بڑھتے ہوئی اقتصادی ترقی کے اثرات قومی معیشت اور ماحول کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی خطرات سے بچنے کے لئے پائیدار معاشی ترقی کی ضرورت پیدا ہوتی ہے، جو صرف پائیدار یا سبز معاشی ترقی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پائیدار معاشی ترقی نے دنیا کو ایک نیا تصور دیا ہے، یہ ایک ایسا معاشی ڈھانچہ ہے جسے اقوام متحدہ نے ”پائیدار ترقی“ پر اپنی ”ریو 20“ کانفرنس میں تجویز کیا ہے۔ سبز ترقی کا بنیادی مقصد اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہے، جیسے مختصر مدت میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے ساتھ ساتھ طویل عرصے میں قدرتی وسائل کی قربانی کے بغیر سبز ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ جی ڈی پی میں اضافے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے مطابق، پائیدار اقتصادی ترقی کا مطلب قدرتی اثاثوں کی قربانی دیے بغیر اعلی اقتصادی ترقی ہے، جس پر انسانی فلاح و بہبود کا انحصار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، 2012 میں ورلڈ بینک نے سبز ترقی کے حوالے سے جو بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے، اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ سبز ترقی قدرتی وسائل کے استعمال میں موثر ہے اور آلودگی کو کم سے کم کرتی ہے۔

لہذا، پائیدار معاشی ترقی، کم کاربن کے اخراج، میکرو اکنامک ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور معاشرتی شمولیت کے امتزاج پر مشتمل ہے، جو پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے فریم ورک کے اندر سبز ترقی کے تصور کو مربوط کرتی ہے۔ زیادہ تر ایس ڈی جیز سبز ترقی کے حصول سے منسلک ہیں۔

سبز ترقی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے

معاشی نظریہ کی بنیاد پر، مالی ترقی سبز معاشی ترقی میں اضافہ کرتی ہے، کیونکہ یہ صنعتوں کو جدید قسم کی مشینری تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے جو ماحول دوست ہوتی ہیں، اور ماحولیاتی تباہی میں کم اثرات ہوتے ہیں۔

بہت سے محققین کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی ہے۔ زیادہ تر موجودہ تحقیق کے مطابق، مالی ترقی اور ادارہ جاتی معیار کو معاشی ترقی کے تعین کنندگان کے طور پر شناخت کرتے ہیں، لیکن صرف چند ہی کاربن کے اخراج میں ادارہ جاتی معیار کے کردار پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مالی ترقی اقتصادی ترقی کو فروغ دیتی ہے، لیکن سبز اقتصادی ترقی میں اس کا کردار ابھی تک غیر واضح ہے۔

اس کے علاوہ، حکمرانی اقتصادی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ پائیدار اقتصادی ترقی اقوام متحدہ کے مقرر کردہ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ ویژن 2030۔

ادارہ جاتی معیار قانون سازی کو یقینی بناتا ہے جو معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، جو بالآخر پائیدار معاشی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ ترقی کے ابتدائی مراحل میں جنوبی ایشیائی ممالک کو پھلتی پھولتی معیشتیں سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک اپنی ترقی کے لیے زیادہ تر قدرتی وسائل کے استحصال پر انحصار کرتے ہیں،

لہذا ادارہ جاتی معیار، درست پالیسیاں اور ان کا نفاذ قدرتی سرمائے اور ماحول کو برقرار رکھنے اور ان کی معیشتوں کو پائیدار معاشی نمو کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس تحقیقی مضمون کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور برآمدات کو فروغ دے کر جنوبی ایشیائی معیشتوں کی مالی ترقی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مالی ترقی پائیدار معاشی ترقی کا ایک اہم فیصلہ جز ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ادارہ جاتی معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جو شفافیت، ادارہ جاتی معیار میں بہتری کی بنیاد اور جنوبی ایشیا کے خطے میں بدعنوانی کے خلاف جنگ کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہے۔

(مضمون نگار کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر تعلیم اور محقق ہیں۔ مضمون نگار مختلف تحقیقی جنرلز میں تحقیقی مقالے لکھتا رہا ہے۔)

Facebook Comments HS