سانگھڑ میں دیا بھیل کا سر دھڑ سے الگ کرنے کے الزام میں ’جادوگروں‘ سمیت چار گرفتار


دیا بھیل
نوٹ: اس تحریر کے بعض حصے قارئین کے لیے پریشان کن ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں دیا بھیل نامی خاتون کے قتل کے الزام میں پولیس کے مطابق دو جادوگروں سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر کے اواخر میں دائر کیے گئے اس مقدمے کے مطابق دیا بھیل کو قتل کر کے ان کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا اور چہرے کی کھال سمیت چھاتی بھی کاٹی گئی۔

ایس ایس پی سانگھڑ بشیر بروھی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے تحقیقات کے دوران 100 کے قریب افراد کو شامل تفتیش کیا، 42 افراد کے ڈی این اے کے نمونے لیے اور جیو فینسنگ کی تھی۔

ان کے مطابق ان اقدامات کی مدد سے بھوپو (جادوگر) روپو بھیل، بھوپو لونیو بھیل، ساجن بھیل اور مقتولہ دیا بھیل کے بھائی دیا رام کو گرفتار کیا گیا اور ملزمان کی جانب سے جُرم کا اعترافی بیان بھی دیا گیا ہے۔

’سرسوں کے کھیت سے لاش ملی‘

دیا بھیل کے قتل کا واقعہ 27 دسمبر کو صوبائی دارالحکومت کراچی سے تقریباً 250 کلومیٹر دور واقعہ وسطی سندھ کے ضلع سانگھڑ کے علاقے سنجھورو میں ہوا۔

40 سال کی دیا بھیل بیوہ تھیں اور ان کے بیٹے سومر چند بھیل کسان ہیں۔

سومر چند بھیل کا کہنا ہے کہ منگل کی دوپہر ان کی والدہ اپنی بیٹی کے ساتھ گنے کے کھیت سے گھاس لانے گئی تھیں اور چار بجے کے قریب والدہ نے گھاس کی ایک پوٹلی بیٹی کو دی اور اس کو نہر پار کر کے گھر چلنے کو کہا اور بتایا کہ وہ دوسری پوٹلی لے کر آ رہی ہیں۔

سومر چند کے مطابق جب وہ گھر پہنچے تو چھوٹی بہن نے بتایا کہ والدہ ابھی تک واپس نہیں آئیں جس کے بعد وہ دیگر رشتے داروں کے ہمراہ والدہ کی تلاش میں گنے کے کھیت میں گئے۔ وہ وہاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے سرسوں کے کھیت میں چلے آئے جہاں دیکھا کہ سرسوں کی کچھ شاخیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میری والدہ کی لاش کروٹ میں پڑی ہوئی تھی۔ قریب جا کر دیکھا تو گردن کو سر سے الگ کردیا گیا تھا۔ چھاتی اور چہرے سے بھی کھال کو کھرچ کر اتارا گیا تھا۔ ہم نے پولیس کو اطلاع دی جو آکر لاش لے گئی۔‘

دیا بھیل کا پوسٹ مارٹم سنجھورو ہسپتال میں کیا گیا۔ محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق سر اور دھڑ بالکل الگ الگ لائے گئے تھے، کھوپڑی پر ماس نہیں تھا، ناک کان وغیرہ بھی کٹے ہوئے تھے جبکہ چھاتی سے پستان بھی کاٹ دیے گئے تھے۔ یہ اعضا ابھی تک پولیس کو نہیں ملے ہیں۔

سندھ پولیس

’ملزم بیان بدلتا رہا، اس پر شبہ ہوا‘

سانگھڑ پولیس کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے قتل کے اس مقدمے کو 10 روز کے اندر اندر حل کیا اور ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

ایس ایس پی بشیر بروھی نے بی بی سی کو بتایا کہ بھوپا روپو بھیل بار بار اپنے بیانات تبدیل کر رہا تھا۔ ’واقعے والے روز اس کا نمبر بھی بند تھا، اس کا بھی کوئی خاطر خواہ جواب اس کے پاس نہیں تھا۔‘

لہذا انھوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد اس کو رہا کر دیا تھا۔ ’لوگوں کے بیانات میں اس کی جائے وقوعہ کے پاس موجودگی کا علم ہوا جس کے بعد دوبارہ اس کو گرفتار کیا گیا اور اس نے تسلیم کیا کہ اس نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ یہ قتل کیا ہے۔‘

بشیر بروھی نے کہا کہ ’ہم اس کو جائے وقوعہ پر لے گئے اور اس سے پوچھا کہ واردات کیسے ہوئی۔ اس کے بعد اس کی نشاندہی پر چھری اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا اور اسی کی نشاندہی پر مزید ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔‘

سانگھڑ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم روپو بھیل کی مقتولہ سے دوستی تھی۔ جب ان کے شوہر کی وفات ہوئی تو مقامی لوگوں نے شبہ ظاہر کیا کہ انھوں نے ’جادو ٹونا کر کے انھیں قتل کیا ہے اور دباؤ میں گاؤں چھوڑ کر وہاں سے جا چکے ہیں۔‘ تاہم پولیس کے مطابق روپو بھیل کا مقتولہ کے بھائی دیا رام سے رابطہ برقرار رہا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے اعترافی بیان میں کہا کہ انھیں دیا کی دوسروں کے ساتھ بھی دوستی کا پتہ چلا اور انھوں نے انھیں روکا لیکن وہ نہ مانیں جس کے بعد انھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا جس میں دیا کے بھائی نے ان کا ساتھ دیا۔

تاہم دیا بھیل کے چہرے اور جسم سے اتاری گئی کھال پولیس کو نہیں مل سکی۔

ایس ایس پی سانگھڑ بشیر بروھی کے مطابق ملزمان نے مقتولہ کے چہرے اور جسم کے دیگر اعضا کی کھال اتار کر اسے چھپا دیا کیونکہ ان کے لیے یہ قیمتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان جادوگروں کی سوچ کے مطابق جو منفی جادو ہے جس میں کسی کی زندگی کو نقصان پہنچانا ہے اس میں انسانی کھال استعمال ہوتی ہے۔ اسی لیے انھوں نے اسے الگ کیا اور سوچا بعد میں آکر لے جائیں گے۔ دوسرے روز وہ آئے لیکن کھال نہیں تھی تاہم بھوپو کی نشاندہی پر سر کے بال ملے ہیں۔ خدشہ ہے کہ کھال جانور کھا گئے ہوں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’دو جادوگر‘ اور دیگر عوامل جو پاکستان میں لانگ مارچز اور دھرنوں کی کامیابی یقینی بناتے ہیں

’جناح پور‘ کے مبینہ نقشوں کی برآمدگی سازش یا مفروضہ: وہ ’بھوت‘ جس نے آج تک پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑا

https://twitter.com/SurendarValasai/status/1611731295452762113

’مودی سرکار وہاں اقلیتوں کو تحفظ دے یہاں وہ محفوظ ہیں‘

دیا بھیل کے قتل پر انڈین حکام کی جانب سے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس بارے میں رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ان کے پاس اس کیس کے بارے میں کوئی خاص تفصیلات نہیں ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو اپنی اقلیتوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کی سلامتی اور بہبود کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔‘

ادھر سندھ میں وزارت انسانی حقوق کے مشیر سریندر ولاسائی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انڈیا کی حکومتی اور پروپیگنڈا مشینری سرگرم ہوگئی پہ اور انھوں نے ادھم مچھایا کہ اقلیتوں کے ساتھ پاکستان میں بہت بڑا ظلم ہو رہا ہے۔

’اب جب یہ تحقیقات مکمل ہوئی تو معلوم ہوا کہ دیا بھیل کے گھر کے لوگوں نے ہی یہ حرکت کی ہے اور کالے جادو کی روایات کی پیروی کی گئی تاکہ لوگوں میں خوف پیدا کر کے انھیں کنٹرول کیا جاسکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مودی سرکار کو چاہیے کہ جو وہاں اقلیتیں ہیں، مسلمان ہیں، مسیحی ہیں، دلت ہیں، ان کو تحفظ فراہم کریں، بجائے اس کے کہ ہمارے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کریں۔ ہمیں ہاں اقلیتیں ہندوستان سے زیادہ محفوظ ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27680 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments