ہمالیہ کا وہ قصبہ جو آہستہ آہستہ زمین میں دھنستا جا رہا ہے


دو جنوری کو علی الصبح پرکاش بھوتیال کی آنکھ اپنے گھر میں ایک دھماکے کے ساتھ کُھلی۔ اُنھوں نے لائٹ جلائی تو دیکھا کہ ان کے نئے تعمیر شدہ دو منزلہ مکان کے 11 میں سے نو کمروں کی اینٹوں سے بنی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

پرکاش کے تمام گھر والے گھبرا کر ان دو کمروں میں منتقل ہو گئے جن میں معمولی کریک آئے ہیں۔

52 سالہ پرکاش اور ان کا 11 افراد پر مشتمل خاندان شمالی انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ کے ایک چھوٹے سے ہمالیائی پہاڑی شہر جوشی مٹھ میں رہتا ہے۔ 

پرکاش بھوتیال کہتے ہیں، ’ہم دیر تک جاگتے رہتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی آواز بھی خوف و ہراس پیدا کر دیتی ہے۔ ہم پوری تیاری کے ساتھ بستر پر جاتے ہیں تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً باہر نکل سکیں۔‘ 

لیکن باہر بھی چیزیں اتنی محفوظ نہیں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جوشی مٹھ میں زمین آہستہ آہستہ دھنس رہی ہے۔ جوشی مٹھ 20 ہزار افراد پر مشتمل ایک قصبہ ہے جو ایک پہاڑی کے کنارے آباد ہے جہاں دو وادیاں 6,151 فٹ کی بلندی پر آپس میں ملتی ہیں۔ 

تقریباً ساڑھے چار ہزار عمارتوں میں سے 670 سے زیادہ میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جس میں ایک مقامی مندر اور ایک رسیوں سے بنا پُل بھی شامل ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جو حکام کے مطابق 350 میٹر چوڑا ہے، فٹ پاتھوں اور گلیوں میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں، دو ہوٹل اب ایک دوسرے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پانی کھیتوں سے باہر اُبل رہا ہے جس کی وجہ واضح نہیں ہے۔ 

جوشی مٹھ

جوشی مٹھ خود نازک ارضیاتی حالات میں وجود میں آیا تھا

قصبے میں تقریباً 80 خاندانوں کو ان کے گھروں سے سکولوں اور ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں پہنچ چکی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی تیاری بھی ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کہتے ہیں، ’ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی زندگی بچانا ہے۔‘ 

لیکن لوگ یہاں کن حالات میں رہ رہے ہیں یہ دیکھنا بہت دردناک ہے۔

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے 52 سالہ درگا پرساد سکلانی کے تین کمروں والے گھر کی دیواروں اور فرش پر دراڑیں پڑنے کے بعد حکام نے ان کے 14 افراد پر مشتمل خاندان کو مقامی ہوٹل میں منتقل کر دیا ہے۔

لیکن دن کے وقت سکلانی اپنے زمین میں دھنستے ہوئے گھر واپس جاتے ہیں، جہاں وہ کھانا پکاتے ہیں اور صحن میں اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالتے ہیں، ان کے گھر کا صحن دو فٹ سے زیادہ نیچے آ چکا ہے۔ 

مایوس ہو کر اُنھوں نے دیواروں کے ساتھ لکڑیاں لگا دی ہیں تاکہ اُنھیں گرنے سے روکا جا سکے۔ سکلانی کی اہلیہ کی حال ہی میں ایک مقامی کلینک میں سرجری ہوئی تھی، اور نہیں معلوم کہ وہ ہوٹل کے تنگ کمرے میں کیسے صحتیاب ہوں گی۔

اِسی خاندان کی ایک رکن نیہا سکلانی کہتی ہیں، ’ہم اپنے گھر کو آہستہ آہستہ دفن ہوتے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دراڑیں وسیع ہوتی جارہی ہیں۔ یہ ایک خوفناک منظر ہے۔‘ 

اس صورتِ حال سے کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ جوشی مٹھ خود نازک ارضیاتی حالات میں وجود میں آیا تھا۔ یہ قصبہ جو ایک پہاڑی کی درمیانی ڈھلوان پر واقع ہے، تقریباً ایک صدی پہلے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے پر تعمیر کیا گیا تھا، اور یہ زلزلے کے شکار علاقے میں واقع ہے۔

یہاں کی زمین مختلف وجوہات کی بناء پر دھنسنا شروع کر سکتی ہے۔ ان میں زمین کی پرت کی حرکت (اس کی چٹان کا پتلا بیرونی خول) یا زلزلہ، یا پھر ایک بڑا سوراخ، زمین کی سطح کی تہہ کے گرنے کی وجہ سے زمین میں ایک دباؤ یا سوراخ اس وقت ہو سکتا ہے جب زیر زمین بہنے والا پانی سطح کے نیچے پتھروں کو ختم کرتا ہے۔

لیکن زمین انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی دھنس سکتی ہے جیسے زیر زمین موجود پانی کا زیادہ نکالنا اور آبی ذخائر کی نکاسی، جس کے بارے میں ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ دنیا کے کسی بھی شہر کے مقابلے میں تیزی سے ڈوب رہا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دنیا بھر میں 80 فیصد سے زیادہ زمین دھنسنے کی وجہ زمینی پانی کا ضرورت سے زیادہ اخراج ہے۔

لگتا ہے کہ جوشی مٹھ کی پریشانیوں کی وجہ بھی انسانی سرگرمیاں ہیں۔ بچھلی کئی دہائیوں میں کاشتکاری کے لیے زمین کے نیچے سے بہت سا پانی نکالا گیا ہے، جس سے ریت اور پتھر نازک ہو رہے ہیں۔ 

مٹی دھنسنے کے ساتھ یہ قصبہ آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے۔ ماہر ارضیات ڈی پی ڈوبھال کہتے ہیں، ’صورتحال تشویشناک ہے‘۔ 

سنہ 1976 کے اوائل میں ایک سرکاری مطالعے میں خبردار کیا گیا تھا کہ جوشی مٹھ دھنس رہا ہے اور اس علاقے میں بھاری تعمیراتی کاموں پر پابندی کی سفارش کی گئی۔ 

اس مطالعے میں نشاندہی کی گئی تھی کہ نکاسی آب کی مناسب سہولیات کا فقدان لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن رہا ہے اور جوشی مٹھ رہائش کے لیے موزوں نہیں ہے۔‘

جوشی مٹھ

گھروں کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں

لیکن اس انتباہ پر توجہ نہیں دی گئی۔ کئی دہائیوں کے دوران یہ جگہ لاکھوں زائرین اور سیاحوں کے لیے ایک مصروف گیٹ وے میں بن گیا یاتری تقریباً 45 کلومیٹر دور ہندو مندر بدری ناتھ کے لیے جاتے ہوئے یہاں رکتے تھے۔ سیاح اس خطے میں ٹریک کرتے ہیں، چڑھائی کرتے ہیں اور سکیئنگ کرتے ہیں۔ یہاں بے شمار ہوٹل، قیام گاہیں اور کھانے پینے کی جگہیں ہیں۔

ماہرین ارضیات ایم پی ایس بشت اور پیوش روتیلا کے مطابق شہر کے اردگرد متعدد ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ بھی بنائے جا رہے ہیں۔ علاقے سے رابطے کو بہتر بنانے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سڑکیں بچھائی گئی ہیں اور سرنگیں کھودی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تپوون وشنوگڈ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ایک بڑی تشویش کی وجہ ہے جس کی سرنگ ارضیاتی طور پر نازک علاقے جوشی مٹھ کے نیچے سے گزرتی ہے۔

ماہرین ارضیات نے نوٹ کیا کہ دسمبر 2009 میں پروجیکٹ کے لیے بورنگ آلات نے جوشی مٹھ میں ایک چٹان کی پانی والی تہہ کو پنکچر کر دیا تھا جس کے نتیجے میں روزانہ تقریباً سات کروڑ لیٹر زمینی پانی کا اخراج ہوتا رہا (جب تک اس کی مرمت نہیں کی گئی) جو کہ 30 لاکھ لوگوں کے لیے کافی ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ 2021 میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے منسلک دو سرنگوں میں سے ایک اتراکھنڈ میں ایک بڑے سیلاب کے بعد بند ہو گئی تھی، جس میں 200 سے زیادہ لوگ ہلاک اور لاپتہ ہو گئے تھے۔

ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اپنی وادیوں، گھاٹیوں، پہاڑیوں اور دریاؤں والی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں واقع جوشی مٹھ ایک ’نازک منظر‘ پیش کرتا ہے۔ ریاست میں قدرتی آفات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 1880 اور 1999 کے درمیان زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے صرف پانچ واقعات میں 1300 سے زیادہ لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ 

سنہ 2010 سے 2020 کے درمیان اس طرح کے شدید موسمی واقعات میں 1312 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 400 دیہات کو رہائش کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ 

ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک اہلکار سشیل کھنڈوری کی ایک تحقیق کے مطابق، صرف 2021 میں اتراکھنڈ میں لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور برفانی تودے گرنے سے 300 سے زیادہ جانیں گئیں۔ 

کھنڈوری نے کہا کہ ’یہ بنیادی طور پر موسمی نظام میں تبدیلیوں اور بارش کے غیر معمولی پیٹرن کے ساتھ ان علاقوں میں اندھا دھند انسانی اقدامات کے کے سبب ہو رہا ہے۔‘ 

آج جوشی مٹھ کے باشندے بے گھر ہیں۔ ان کے گھروں کو زمین نگلنے میں کتنا وقت لے گی؟ کوئی نہیں جانتا۔ سبسائیڈنس بہرحال ایک سست عمل ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ کتنی دہائیوں سے مٹی کتنے انچ یا فٹ ڈوب رہی ہے۔ اس بارے میں کوئی مطالعہ نہیں ہے کہ وقت کے ساتھ یہ قصبہ کتنا ڈوب سکتا ہے۔

اس سے بھی اہم بات یہ کہ  کیا جوشی مٹھ کو بچایا جا سکتا ہے؟ ایک مقامی کارکن اتُل ستی نے ایک اعلیٰ سینئر اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اگر ڈوبنے کا سلسلہ جاری رہا تو شہر میں رہنے والے 40 فیصد لوگوں کو وہاں سے نکالنا پڑے گا۔ اگر یہ سچ ہے تو باقی شہر کو بچانا بہت مشکل ہو گا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27680 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments