تاجر کا معاشی قتل
یونیورسٹی میں ”ڈاکومنٹری“ کے مضمون میں، ایک کلاس گروپ نے ”نشہ کے عادی افراد“ پر ایک ڈاکومنٹری بنائی۔ اس ڈاکومنٹری کو دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ انسداد منشیات کا سرکاری ادارے یا دیگر این جی اوز، نشے کے عادی افراد تک خود بھی تھوڑی بہت منشیات پہنچاتے ہیں۔ سننے میں یہ بات کتنی تعجب خیز ہے مگر اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایک دم نشہ چھوڑنے سے اس کی جان جانے کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ انسداد منشیات کا مقصد، منشیات کا انسداد ہے نہ کہ انسان کا۔
خیر اس بات کا ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں حکمرانوں کو ملک، یورپ بنانے کی کچھ زیادہ ہی جلدی ہے۔ ایک طرف مہنگائی ہے کہ آسمان سے باتیں کر رہی، دوسری طرف ان کے مارکیٹ جلدی بند کرنے کا فیصلہ۔ تاجر جو ابھی تک کرونا کی وجہ سے آئی مالی مشکلات سے نہیں نکلا اس پر آئے روز نیا بم گرا دیتے۔ آج کل کہتے ہیں کہ دنیا میں سوائے چند ملکوں کے سب سورج کی روشنی میں کام کرتے ہیں۔ یقیناً آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، کرتے ہوں گے۔
مگر یہاں کئی دہائیوں سے یہ ایک مزاج بن چکا ہے، اس کو یک دم طاقت سے ختم نہ کیا جائے۔ یقیناً یورپ وغیرہ کے بازار جلدی بند ہو جاتے ہوں گے۔ حکومتیں اپنی نا اہلی کا بوجھ عوام پر نہ ڈالیں۔ بجلی مہنگی ہے، تیل مہنگا ہے، بجلی کا شاٹ فال ہے یا ڈالرز کی کمی ہے تو اللہ کے بندوں اس کے کئی اور طریقے بھی ہوں گے۔ یورپ کا بہانہ بنا کر تاجر کا معاشی قتل نہ کیا جائے۔ یہاں چھوٹے تاجر (پرچون فروش) کے کاروبار میں رات کی دکانداری کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں کھانے پینے کی دکانیں یا سٹالز ہیں۔ جن سے کئی کروڑوں افراد کے پیٹ جڑے ہیں، بہت متاثر ہوتے ہیں۔ ملک میں پہلے ہی مہنگائی نے جان لی ہوئی ہے، ایسے فیصلے بے روزگاری میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ دن بہ دن سٹریٹ کرائمز میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ٹھیک ہے، کہ بازاروں کو جلدی بند ہونا چاہیے۔ مگر اس طرح نہ کریں۔ کوئی ٹائم فریم بنائیں، دس سالہ منصوبہ بنائیں، کہ ہم نے پوری رات کھلی رہنے والی دکانوں کو اتنے بجے تک لانا ہے۔ ہر چھ ماہ یا سال بعد جتنا طے کریں اتنا ٹائم کم کرتے رہیں۔
ہول سیل مارکیٹیں زیادہ تر مغرب کے بعد سے بند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ریٹیلر یا چھوٹا دکاندار غریب آدمی ہوتا ہے، اس پر رحم کریں۔
کل ہی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے بیان دیا کہ کئی سو ارب کی بجلی چوری ہوتی ہے، اگر وہ نہ ہو تو ہم 300 یونٹس تک بجلی فری دیں۔ اب ان چیزوں کو کنٹرول کرنے کی بجائے عوام کو یورپ کی بتی کے پیچھے لگانا، بھلا انصاف ہے؟
ایسے فیصلے جہاں دکانداروں کے لئے مشکل پیدا کرتے ہیں، وہی کئی سرکاری ملازموں کی ہر رات کو ”چاندنی رات“ بنا دیتے۔ کیا یورپ میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے؟ یہاں جس کا جو دل کرتا وہ دام لگا دیتا، یورپ کی مثال دیں مگر خود بھی دیکھیں کہ کیا وہاں کا پرائس کنٹرول سسٹم بھی کیا ایسا ہی ہے؟


