عوام بارے سوچنا گناہ نہیں ہے


وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ اک دم نہیں ہوتا

قابل اجمیری کا یہ شعر موجودہ پاکستانی صورتحال پر فٹ آتا ہے۔ آج ہم ہرطرف سے بحرانوں کی زد میں ہیں۔ سیاسی بحران، معاشی بحران، عدالتی بحران، آئینی بحران اکٹھے ہوچکے ہیں۔ ان تمام بحرانوں کے ذمہ دار بدستور پاکستان کو ۔ بنانا ریپبلک۔ بننے میں اگر کوئی کسر رہ گئی ہے تو وہ کسر بھی پوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج ملک جن حالات سے گزر رہا ہے اس کی وجہ ماضی قریب کی غلطیاں نہیں بلکہ برسوں کے وہ بلنڈرز ہیں جو اس ملک کے وسیع تر مفاد میں فخریہ انداز میں کیے گئے۔

لیکن ہم آج بھی ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔ ایک رسہ کشی کا ماحول ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ آئینی ادارے ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے حصے سے زیادہ حصہ چاہتا ہے۔ تقسیم در تقسیم کے ماحول میں عام پاکستانی کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ لیکن بے اختیار لوگ کسی با اختیار ادارے اور عہدیدار کی ترجیح میں ہی نہیں ہیں۔

پاکستان کے معاشی حالات اس قدر کیوں خراب ہوئے اور بہتری کا حل کیا ہے۔ اس کا حل تو خیر کسی کے پاس نہیں مگر جواب سب سیاسی جماعتوں کے پاس ہے کہ تمام تر خرابیوں کی ذمہ دار سابقہ حکومت تھی۔ ہم آئیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ عوام کو یہ میٹھی گولی دینے والی پی ڈی ایم حکومت بھی یہی کر رہی ہے کہ سارے مسئلے ہی عمران حکومت کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ مہنگائی کم ہونے کی بجائے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ معیشت آئی سی یو نکل کر ۔

وینٹی لیٹر۔ پر پہنچ چکی ہے۔ ڈالر اور آئی ایم ایف کو ڈھیر کرنے آئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج کل خود ڈھیر ہو چکے ہیں مگر ڈالر قابو آ رہا ہے نہ آئی ایم ایف مان رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کہیں یا حکومت کی بری پرفارمنس ایسے میں عوام کا کچومر ضرور نکل چکا ہے۔ حکومت پھر بھی عوام سے ہی مزید قربانیاں دینے کا اصرار کر رہی ہے مگر اپنی گورننس بہتر کرنے پر رتی برابر بھی توجہ نہیں۔

حکومت کی توجہ عوامی مسائل پر ہو بھی کیسے؟ کیونکہ حکومت کا مسئلہ عوام نہیں عمران خان ہے اور عمران خان اقتدار سے نکالے جانے پر ایسے بگڑے ہیں کہ کسی کے کہنے میں نہیں آ رہے۔ عمران خان ہر صورت الیکشن چاہتے ہیں مگر حکومت سیاسی وجوہات کی بنا پر یہ رسک لینے کو تیار نہیں۔ اس وجہ سے گزشتہ ایک سال سے ملک میں سیاسی سرکس جاری ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اس سیاسی عدم استحکام نے معاشی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ نون ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی۔ یہ تمام سیاسی جماعتیں نام تو ملک و قوم کا لیتی ہیں مگر سیاست مفادات کی کرتیں ہیں۔ جس وجہ سے ملک چاروں طرف سے بحرانوں کی زد میں ہے۔ اس سیاسی لڑائی میں آئین اور عدلیہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایسے میں یہ لوگ عوام کا کیسے سوچ سکتے ہیں؟

سوال میرا یہ ہے کہ اگر سیاستدان بھی عوام کا نہیں سوچیں گے تو کون سوچے گا؟ ملکی حالات اور عوام کی بے بسی پر سیاسی جماعتوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کے دکھوں کا مداوا کیسے ہو سکتا ہے۔

اس مہنگائی میں عوام کے دکھوں کا مداوا کیسے ہو سکتے ہیں؟ حکومت شہریوں کی کم از کم تنخواہ کے فارمولے میں بہتری لا سکتی ہے کہ مہنگائی کے تناسب سے عوام کو تنخواہ لازمی ملے۔ اس حوالے سے قانون لے کر آئے اور اس پر عمل درآمد بھی کروائے۔ جب ملک میں محنت کی مناسب اجرت ملے گی تو لوگ ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں سمندر میں جانیں نہیں دیں گے۔ کیونکہ ملک میں کاروباری طبقے کی نسبت۔ سیلری بیسڈ۔ لوگ زیادہ پریشان ہیں۔

جن کی بیٹھے بٹھائے تنخواہیں کم ہو گئی ہیں جبکہ خرچے کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک سال میں بڑھتی مہنگائی کا اثر یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک سال پہلے 50 ہزار روپے کمانے والے کی تنخواہ 15750 روپے کم ہو چکی ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے خط غربت کی لکیر سے نیچے جاتے لوگوں کو ریسکیو کر سکے۔ مارکیٹس میں حکومتی رٹ نہ ہونے سے ہر گھنٹے بعد چیزوں کا ریٹ بدل جاتا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہاں بھی خمیازہ عوام ہی بھگت رہی ہے۔ حکومت کو سوچنا چاہیے۔

ایسے میں سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ عوام کو صرف اپنی سیاست گرمانے کا ایندھن نہ بنائیں۔ الزامات در الزامات اور مقدمات در مقدمات کی بجائے حقیقی عوامی مسائل اور ملک میں ریفارمز لانے کی سیاست کریں کیونکہ آپ لوگوں کا اور آپ کی آئندہ سات نسلوں کا مقدر تو سنور چکا ہے۔ حکومت میں آنے کی باریاں ضرور لگائیں مگر ساتھ کچھ اس عوام کا بھی مقدر سنوار جائیں تاکہ لوگ آپ کے محلوں اور گریبانوں تک نہ پہنچیں۔ لہذا سیاست کے ساتھ اس ملک و قوم کی بہتری کا بھی سوچیں۔ ان کے بارے میں سوچنا گناہ نہیں ہے۔ کیونکہ مقبولیت سدا رہنی ہے نہ اقتدار کو دوام مل سکتا ہے۔ عوامی بہتری کی سیاست ہی آپ کا بیڑا پار لگا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS