پاکستان کی درس گاہیں؟


پاکستان یونیورسٹی کے طلباء کی ’جعلی شادی‘ وائرل ہو گئی، نیٹیزنز تقسیم ہو گئے۔ پاکستان میں یونیورسٹی کے طلباء نے اپنی سالانہ جعلی شادی کی تقریب کا اہتمام کیا۔ دو سینئرز نے دولہا اور دلہن کا لباس زیب تن کیا، جبکہ دیگر نے مہمانوں اور خاندان کے کردار ادا کیا۔ اس تقریب کی ویڈیو نے کافی توجہ حاصل کی۔ پاکستان کی یونیورسٹی کے طلباء نے ایک جعلی شادی کا اہتمام کیا۔ دو سینئرز دولہا اور دلہن کی طرح ملبوس تھے۔ شادی کا تصور بہت سے لوگوں کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاہم، تقریب کے سلسلے میں کافی تہوار ہیں اور لوگ اس لطف کا تجربہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ ٹھیک ہے، جب کہ مؤخر الذکر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک گزرتا ہوا خیال رہا ہو گا، پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے طلباء صرف شادی میں خاندانی دباؤ اور وعدوں کے علاوہ باقی سب کچھ تجربہ کرنے کے لیے ’جعلی‘ شادیوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ تمام حاضرین نے اپنے کردار کے مطابق مناسب لباس پہن رکھے تھے۔ دولہا اور دلہن کا کردار دو بزرگوں نے ادا کیا۔

جعلی ’شادی‘ شان و شوکت کے ساتھ مکمل تھی اور اس میں سنگیت کا فنکشن بھی شامل تھا۔ ٹویٹر صارفین کے مطابق، طالب علموں نے اس تقریب کو ”بالی ووڈ ڈے“ کے طور پر منایا اور بالی ووڈ فلموں کے نامور کرداروں کی طرح لباس زیب تن کیا۔ دولہا اور دلہن کا کردار ادا کرنے کے لیے چنے گئے یہاں تک کہ مہمانوں کے طور پر کام کرنے والے طلباء کو بھی شادی کے لیے مناسب لباس پہنایا گیا تھا۔ لارڈ آیان کے نام سے ایک صارف نے اس واقعے کی ویڈیو ٹویٹر پر شیئر کی اور یہ فوراً وائرل ہو گئی۔ پوسٹ کے کیپشن میں پڑھا، ”لمز کی سالانہ جعلی شادی، جہاں دو سینئرز کو شادی کے لیے چنا جاتا ہے، بہت مزہ آتا ہے۔“

شیئر کیے جانے کے بعد سے، ویڈیو کو 5 لاکھ سے زیادہ ملاحظات اور تبصرے مل چکے ہیں۔ ویڈیو دیکھ کر ایک صارف نے لکھا، ”قسم سے، میں اب یہاں جانے کے لیے اور بھی اتاولا ہوں“ ۔

یہ سب چیزیں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ اگر پاکستانی یونیورسٹیز میں یہی سکھانا تھا تو کیوں آزادی حاصل کی، لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں ضائع کیوں کیں؟ وہیں رہتے انہی کی طرح زندگی گزارتے، کم از کم کوئی حسرت تو نہ رہتی۔

پاکستان گونگا تو نہیں ہے، اپنی زبان ہے، تہذیب ہے

لیکن ہم نے زبان انگریزوں کی لے رکھی ہے اور تہذیب ہندوؤں کی۔ کبھی ہم غلط انگریزی بول کے اپنا مذاق اڑانے کا سامان پیدا کرتے ہیں اور کبھی انڈین دھوتی اور شلوار قمیض پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے آئیڈیل انڈین اداکار اور اداکارائیں ہیں۔ مشہور کہاوت ہے : ”کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا“ ۔

جب آپ خود ہی پاکستان کی پہچان ختم کر رہے ہیں تو کسی اور سے کیا گلہ کریں گے۔ ہم خود تو کبھی کچھ اچھا ملک کے لیے کریں گے نہیں ہاں البتہ تنقید بہت اچھی کر لیتے ہیں۔ یہ ہماری اضافی خوبی ہے۔ ٹی وی ڈرامہ دیکھ لیا جائے یا انڈین ڈرامہ ایک ہی مرکزی خیال ہے ایک لڑکی ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے لڑکا سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے، لڑکی ہے دولت حاصل کرنے کے لیے عزت گروی رکھ دی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مقتدر اور علما لوگ اپنی رنجشیں چھوڑ کر اپنا کردار ادا کریں۔

ہمیں ضرورت ہے ایک ہونے کی کیونکہ نا صرف ہمارے مذہب کو خطرہ ہے بلکہ ہمارے وجود اور تہذیب کو بھی خطرہ ہے۔ کبھی جعلی شادی کروائی جاتی ہے اور کبھی بہن بھائی کو تعلقات بنانے پہ اکسایا جاتا ہے۔ صرف 23 مارچ کی چھٹی منا کر، 14 اگست پہ جھنڈیاں لگانے سے فرائض پورے نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات سے فرائض پورے ہوتے ہیں۔ پاکستانی درسگاہوں کو درسگاہیں ہی رہنے دیا جائے نہ کہ تہذیبی سرگرمیوں کی ترویج گاہیں۔

Facebook Comments HS