ضمیر کا عالمی دن۔ 05 اپریل 2023


تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور انہیں عقل اور ضمیر جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ انسانی وقار اور حقوق میں سب برابر ہیں اس لیے انہیں نسل، جنس، زبان اور مذہب کی تفریق کے بغیر آپس میں بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔ یہ انسانی حقوق کی بے توقیری اور تحقیر ہے جو انتقام در انتقام کے نا ختم ہونے والے وحشیانہ مظالم کے سلسلے کی وجہ بنتی ہے۔

امن صرف اختلافات اور تنازعات کی عدم موجودگی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مثبت، متحرک اور شراکتی عمل ہے جو جمہوریت، انصاف اور سب کے لیے ترقی کے تصور کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایک پر امن معاشرے کی تشکیل کے لیے ایسے جامع تعلیمی اور سماجی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس میں باہمی اختلافات کا احترام کیا جائے۔ بات چیت اور مکالمے کی حوصلہ افزائی ہو اور تنازعات کو عدم تشدد کے ذریعے باہمی تعاون کی نئی راہوں میں تبدیل کیا جائے۔

آزادی رائے کی ضمانت ہمارا دین اسلام بھی دیتا ہے اور اسی طرح سے پاکستان اور بین الاقوامی قانون بھی اس کی ضمانت دیتے ہیں۔ تا ہم اس آزادی اظہار پر کچھ فطری اخلاقی حدود ہر حال میں قائم رہتے ہیں۔ آپ دوسروں کے نقطہ نظر پر تنقید تو کر سکتے ہیں مگر بہتان طرازی، بدزبانی اور اہانت کرنے کی کسی طور پر اجازت نہیں دی جا سکتی۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے اپنی ابتدائی تقریر میں واضح کر دیا تھا کہ اس ریاست میں ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے کی آزادی ہو گی۔ ریاست اپنے شہریوں کے درمیان عقیدے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرے گی۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 ( 1 ) ضمانت دیتا ہے کہ ”تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور سب یکساں طور پر قانونی تحفظ کے حقدار ہیں۔“ اسی طرح سے آرٹیکل 19 کے مطابق ”ہر شہری کو اظہار رائے اور صحافت کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ تاہم قانون کے مطابق یہ حق دین اسلام کی شان اور پاکستان کی سالمیت سے مشروط ہے۔“ آرٹیکل 20 کہتا ہے کہ۔ قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کے تابع، ہر شہری کو اپنے مذہب کا اعلان کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی منشور 1948 کے مطابق ہر انسان کو فکر، مذہب اور ضمیر کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ بین الاقوامی قانون جن بارہ بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرتا ہے اس میں بھی عقیدے کی آزادی اور اس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت شامل ہے۔

دنیا میں اس وقت ضمیر اور مذہب کی آزادی سے متعلق جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل صرف۔ ”علم“ میں ہے۔ ہمارے معاشروں میں جو چیز سب سے زیادہ کمزور ہو گئی ہے وہ علمی رویہ ہے۔ علمی رویے کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کے اندر سوالات پیدا ہونے دیں، ان کو سوال کرنے کا حق دیں۔ لوگ اپنا نقطہ نظر دوسروں کے سامنے شائستگی اور تہذیب سے پیش کریں۔ کوئی دوسروں پر اپنی رائے مسلط نہ کرے بلکہ انہیں سوچنے سمجھنے اور رد و قبول کا حق دے۔ اس طرح کا علمی کلچر جب پیدا ہو گا تو اس کے اثرات سیاست پر بھی ہوں گے اور ہماری تہذیب پر بھی ہوں گے۔

علم کا دروازہ صرف تنقید سے کھلتا ہے۔ بے رحمانہ تنقید۔ المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی اپنے خلاف تنقید سننے کے لیے تیار نہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ جس سماج اور معاشرے میں تنقید سننے کا حوصلہ نہ رہے تو وہ ایک ایسی مردہ اور بے ضمیر قوم بن جاتی ہے جس کی اصلاح کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ امن اور عدم تشدد کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے مختلف سرگرمیاں منعقد کراتا ہے اور اس میں حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی انجمنوں کے تعاون سے نوجوانوں، تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے حوالے سے متعدد عملی منصوبوں پر کام کر ہاً ہے۔

تاریخ انسانی میں ایسے ادوار گزرے ہیں جن میں مقتدر طبقہ اپنے شہریوں کی مذہبی آزادی کا احترام نہیں کرتے تھے اور انہیں مذہبی جبر کا شکار بناتے تھے مگر اب زمانہ بدل چکا ہے۔ مذہبی آزادی کو ایک قدر کی حیثیت سے مانا جا چکا ہے۔ دور جدید کے انسان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ایک ایسا سماج وجود میں لائے جس میں سب انسان کسی خوف کے بغیر عقیدے اور ضمیر کی آزادی سے لطف اندوز ہوں۔ یہ آپ کا حق ہے کہ آپ اپنے ضمیر کی آواز دوسروں کے ساتھ شیئر کریں مگر دوسروں کی رائے اور مذہب کا بھی احترام کریں۔ کسی کو بھی اس کے مذہب کی وجہ سے تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی حوالے سے امتیازی سلوک کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رکھیے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی اور باہمی احترام کے ساتھ مذہبی مکالمے کی روایت ایک صحت مند جمہوریت کی نشانی ہے۔

آنے والی نسلوں کو جنگوں کے عذاب سے بچانے کے لیے ہمیں ایک ایسے پر امن کلچر کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو ایسے اقدار، رویوں اور کردار کا غماز ہو جو آزادی، انصاف اور جمہوری اصولوں پر مبنی سماجی تعامل اور اشتراک عمل کی عکاسی کرتا ہو۔

Facebook Comments HS