چیف جسٹس استعفیٰ دے کر سپریم کورٹ کی عزت بچا لیں


سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حسب توقع حکومت کی خواہش اور الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف پنجاب میں فوری انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ وہی ہے جس کے بارے میں الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر گزشتہ روز کی عدالتی کارروائی کے دوران تکرار کرتے رہے تھے۔ یعنی بنچ ایک خاص زاویہ سے حالات کو دیکھتے ہوئے حکم دینے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ اگر کسی عدالتی بنچ کے بارے میں ایسا تاثر موجود ہو اور وہ اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش بھی نہ کرے تو اسے کسی بھی عدالتی نظام کی کمزوری اور ناکامی کہا جائے گا۔

تحریک انصاف اور اس کے حامی عناصر بلاشبہ اس فیصلہ کو اپنی کامیابی کی بجائے آئین کی کامیابی اور نظریہ ضرورت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ اس رائے کے مطابق عدالت نے تمام تر دباؤ کے باوجود آئینی شرط کے مطابق اسمبلی ٹوٹنے کے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے اصول کو نافذ کر کے درحقیقت آئین سے اجتناب کرنے کا ہر راستہ بند کر دیا ہے۔ سیاسی جوش میں قانون و آئین کو یک طرفہ طور سے سمجھتے ہوئے ضرور یہ رائے دی جا سکتی ہے اور تحریک انصاف کو اس کامیابی پر خوش بھی ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کو انتخابات کے انعقاد کی جد و جہد میں یہ پہلی بڑی کامیابی ملی ہے۔ اسے سیاسی کامیابی تو کہا جاسکتا لیکن اسے آئین کی بالادستی کا نام دینا بہت مشکل ہے۔ خاص طور سے جب ملک میں سیاسی تقسیم کا یہ عالم ہو کہ ایک ہی آئین کو سمجھنے کے لئے مختلف پیمانے استعمال کیے جا رہے ہوں اور متضاد رائے سامنے آتی ہو۔ تحریک انصاف البتہ اس کامیابی کے لیے یوں مبارک باد کی مستحق نہیں ہو سکتی کہ اس نے یہ کامیابی ملک کی اعلی ترین عدالت کے وقار و اعتبار کی قیمت پر حاصل کی ہے۔

اسی لیے گزارش کی جاتی رہی ہے کہ سیاسی معاملات طے کرنے کے لیے عدالتوں کو استعمال نہ کیا جائے بلکہ سیاسی مکالمہ کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے جو کسی بھی جمہوری عمل میں سب سے موثر اور قابل قبول طریقہ ہو سکتا ہے۔ عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی صورت میں سیاسی رائے کی بنیاد پر ہی فیصلے آئیں گے۔ اس طرح ملک کے نظام عدل پر اعتبار متزلزل ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے اگرچہ متفقہ فیصلہ جاری کیا ہے لیکن اس کی وجہ سے نہ تو ملک میں سیاسی ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہونے کا امکان ہے اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ میں یک جہتی دیکھنے میں آئے گی۔ چیف جسٹس نے آئین کا نام لیتے ہوئے خود کو تمام امور میں مختار کل کی حیثیت دے رکھی ہے۔ موجودہ فیصلہ کسی عدالت کے ججوں کے فیصلہ کی بجائے ایک سخت گیر آمر کا حکم نامہ محسوس ہوتا ہے جو دو فریقین کے درمیان نہ تو توازن قائم کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور نہ ہی زیر غور مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر انہیں قانون و آئین کے مقررہ پیمانہ پر جانچنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ بلکہ ایک خاص رائے کو مسلط کرنے کے لیے چیف جسٹس کے عہدے اور اس کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ایک خاص طرح کا سیاسی ماحول پیدا کرنا ہی اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔

چیف جسٹس نے اگر آئین کو مقدم جانا ہوتا تو وہ اپنے تمام ساتھی ججوں کی رائے لینے سے گریز پر اصرار نہ کرتے۔ اگر وہ واقعی قانون و آئین کی بالادستی کو تہ دل سے تسلیم کرنا چاہتے تو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابات اور عدالت میں زیر غور معاملات کے بارے میں منظور شدہ متفقہ قرار داد کو نظر انداز نہ کرتے۔ کسی قانون پسند اور عدل کو مقدم جاننے والے چیف جسٹس کے لیے یہ پہلو بھی اہم ہونا چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ چیف جسٹس کے ان اختیارات کو محدود کرنے کا قانون منظور کرچکی ہے جن کے تحت کوئی چیف جسٹس اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی معاملہ کو بنیادی حقوق کا معاملہ بنا کر تن تنہا آئین کی شق 184 ( 3 ) کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔ نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد چیف جسٹس کو اپنی عقل پر بھروسا کرنے کی بجائے اپنے دو سینئر ترین ججوں کے ساتھ مل کر کسی معاملہ کے بارے میں اس اختیار کو استعمال کرنے کا حق استعمال کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال خوب جانتے ہیں کہ یہ قانون صرف اس لیے نافذالعمل نہیں ہوسکا کیوں کہ صدارت کے منصب پر ایک ایسا شخص براجمان ہے جو حکومت کے مشورہ و ہدایت کی بجائے، اپنی پارٹی کے سیاسی منشور کے مطابق کام کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔ چیف جسٹس کو صدر مملکت کے اس غیر آئینی طرز عمل سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے لیکن وہ کسی اسمبلی کے ٹوٹنے کے 90 روز کے اندر انتخابات کو ایسی ریڈ لائن قرار دے رہے ہیں جسے عبور کرنے والا ہر شخص یا ادارہ آئین شکنی کا مرتکب قرار پاتا ہے۔

چیف جسٹس کے زیر قیادت پسندیدہ ججوں کے سہ رکنی بنچ کا حکم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے اس حکم کو بھی نظر انداز کرنے کا موجب بنا ہے جس میں سوموٹو اختیار کے تحت قائم تمام مقدمات کو مؤخر کرنے اور اس معاملہ میں مناسب قواعد بنا کر آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے اس اکثریتی فیصلہ کو چیف جسٹس نے پہلے رجسٹرار کے جاری کردہ ایک سرکلر کے ذریعے مسترد کرنے کی کوشش کی اور اب سہ رکنی بنچ کے فیصلہ میں بتایا گیا ہے کہ اس حکم کا اطلاق اس بنچ پر نہیں ہوتا۔ اسی پر اکتفا نہیں آئین کی بالادستی اور اس کی حرف بہ حرف پابندی کے دعویدار چیف جسٹس نے خود اپنی ہی عدالت کے فاضل ججوں کے اٹھائے ہوئے نکات کو تسلیم کرنے کے باوجود ان پر مقدمہ کی سابقہ یا موجودہ سماعت کے دوران غور کرنا ضروری خیال نہیں کیا۔ فروری کے آخر میں جب سو موٹو اختیار کے تحت 9 رکنی بنچ بنایا گیا تھا تو اس وقت بنچ کے رکن جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا تھا کہ انتخابات سے پہلے اس پہلو پر غور ضروری ہو گا کہ کیا پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں آئینی طریقہ کار کے مطابق توڑی گئی ہیں۔ یا محض ایک لیڈر کی خواہش پوری کرنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔

اس وقت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس نکتہ کو نوٹ کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ دوران کارروائی اس پہلو پر بھی غور ہو گا۔ لیکن اس کے بعد بنچ سے ججوں کی علیحدگی اور یکے بعد دیگرے بنچ ٹوٹنے اور بننے کی الجھن میں کسی کو پوری تصویر دیکھنے کا ہوش ہی نہیں رہا۔ عجلت میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے بعد یکم مارچ کو الیکشن کمیشن کو صدر سے پنجاب اور گورنر خیبر پختون خوا سے کے پی کے میں انتخابات کی تاریخ لینے کا حکم دے دیا گیا۔ اور آج جاری ہونے والے حکم میں بھی اس اعتراض کا کوئی دو ٹوک جواب فراہم نہیں ہوسکا کہ جن صوبائی انتخابات کی دہائی دی جا رہی ہے، کیا وہ اسمبلیاں آئین کے مطابق ٹوٹی تھیں۔ دوسری طرف چیف جسٹس یہ سوال سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں کہ یکم مارچ کا فیصلہ تو اقلیتی رائے تھی لیکن فاضل چیف جسٹس اپنے بے پناہ اختیارات کی بنیاد پر اس اقلیت کو اکثریت قرار دینے پر مصر ہیں اور پوری قوم اس وقت حکومت اور عدلیہ کی لڑائی کے علاوہ سپریم کورٹ میں ہونے والی گروہ بندی اور ایک دوسرے کو واجب الاحترام کہتے ہوئے بے توقیر کرنے کے طریقہ کا مشاہدہ کر رہی ہے۔

اس کا مظاہرہ چیف جسٹس نے آج جسٹس اعجاز الاحسن کی قیادت میں ایک 6 رکنی بنچ بنا کر بھی کیا۔ اس بنچ کو اس معاملہ پر غور کرنا تھا جس پر تین رکنی بنچ کی قیادت کرتے ہوئے دو ایک کی اکثریت سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوموٹو اختیار کے تحت مقدمات کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا اور چیف جسٹس کے اسپیشل بنچ بنانے کے اختیار کو غلط قرار دیا تھا۔ بعد میں رجسٹرار کے سرکلر میں چیف جسٹس نے اس حکم کو عدالت کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک عدالتی فیصلے کے خلاف سرکلر جاری کرنے پر رجسٹرار کی سرزنش کی تھی۔ اب چیف جسٹس نے اپنے گروپ کے 6 ججوں پر مشتمل ایک بنچ بنا کر 29 مارچ کے فیصلہ کو غیر موثر قرار دیا ہے کیوں کہ یہ حکم کسی ’اختیار کے بغیر‘ جاری کیا گیا تھا۔ معاملہ کی قانونی پوزیشن سے قطع نظر چیف جسٹس نے جیسے اپنی ہی عدالت کے بعض ججوں کو سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کی ہے، اس سے سپریم کورٹ میں تصادم کی فضا شدید ہوگی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال قدرے ہوشمندی سے کام لیتے تو ملک میں سیاسی تصادم کی فضا کم کرنے کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا مقصد بھی حاصل کر سکتے تھے۔ تاہم ایک خاص سیاسی نوعیت کا حکم جاری کرنے کی جلدی میں وہ نہ تو ایک اچھے جج ثابت ہو سکے ہیں اور نہی ہی ایک بہتر منتظم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ حکومت سپریم کورٹ کا حکم مسترد کرچکی ہے اور نواز شریف نے یہ فیصلہ سنانے والے ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تجویز دی ہے۔ چیف جسٹس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف 6 ججوں سے اپنی مرضی کا فصلہ بھی لے لیا ہے لیکن وہ مسلسل تمام ججوں کا بنچ بنا کر متنازعہ امور کا فیصلہ کروانے پر نہیں ہیں۔ ذاتی اختیار کو مستحکم کرنے کی خواہش میں اس وقت چیف جسٹس ملک کے علاوہ عدالت عظمی میں ایک نیا بحران پیدا کرنے کا باعث بنے ہیں۔

سہ رکنی بنچ کے تازہ فیصلہ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات مؤخر کرنے کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی تمام آئینی حدود و قیود کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک آئینی ادارے کے تمام اختیارات خود استعمال کرتے ہوئے پنجاب میں 14 مئی کو انتخاب کروانے کا حکم بھی دیا ہے بلکہ انتخابی طریقہ کار کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ یعنی چیف جسٹس کی قیادت میں تین رکنی بنچ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو تو آئینی شقات کے مطابق پرکھ رہا ہے لیکن خود اپنے دائرہ کار کے بارے میں کسی حد یا پابندی کا احترام کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ججوں کا یہ رویہ قانون و آئین کی بالادستی کی مثال کی بجائے لاقانونیت اور من مانی کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ بنچ اسمبلی ٹوٹنے کے 90 دن میں انتخابات کو مقدس حد تو قرار دے رہا ہے لیکن اس کا اطلاق صرف پنجاب کی حد تک ضروری سمجھا گیا ہے۔ خیبر پختون خوا کے بارے میں ارشاد کیا گیا ہے کہ وہاں انتخابات کا فیصلہ مناسب فورم پر کر لیا جائے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے ملک میں آئینی اداروں کے اختیار کا اصول شدید طور سے متاثر ہو گا اور چیف جسٹس کے طرز عمل سے ایک نئی طرح کی جوڈیشل آمریت کا تصور راسخ ہو گا۔ یہ طریقہ بھی ماضی میں طاقت کے زور پر ملک میں فوجی آمریت مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ ملکی پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ اور خاص طور سے چیف جسٹس کے طرز عمل کی روشنی میں موثر قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ عدالتیں انصاف تو فراہم کریں لیکن قانون کے تحت ملنے والے اختیارات کو ذاتی مرضی مسلط کرنے کا طریقہ نہ بنا لیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے طرز عمل سے سپریم کورٹ کی شہرت اور اصول انصاف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اس کی تلافی کے لئے انہیں فوری طور سے اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تاکہ ایک تو وہ کسی انتقامی ریفرنس سے بچ جائیں، دوسرے سپریم کورٹ کا وقار بحال ہو سکے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali