غزہ کی قیامت خیز صورتحال

بے کس فلسطینیوں کے اوپر ظلم و ستم کی شب کسی طور کم ہوتی نظر نہیں آتی۔ عرب ممالک کے بڑھتے سفارتی تعلقات کے بعد اسرائیل کے رویہ میں شاید کچھ مثبت تبدیلی کی جو موہوم سی امید تھی وہ بھی مدہم ہو رہی ہے۔ اول تو اسرائیلی سیاست میں اندرونی تغیر و تبدل کے بعد جو نئی حکومت سازی ہوئی اس میں پلڑا انتہائی دائیں بازو والی جماعتوں کے ہاتھ آ گیا جس وجہ سے مسلمانان فلسطین پر قہر و غضب کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ اب الٹا مورد الزام ٹھہرایا بھی غزہ کے فلسطینوں کو جا رہا ہے کہ پہلے انہوں نے راکٹ فائر کیے تو جوابی کارروائی کے طور پہ اسرائیلی افواج بیت المقدس میں چڑھ دوڑی ہیں جس کے نتیجے میں کئی افراد شہید اور دیگر بے شمار افراد زخمی ہیں۔ ٹینکوں، بندوقوں اور ہوائی جہازوں سے حملہ آور افواج کو کوئی روک ٹوک نہیں۔ عالمی ضمیر کی خاموشی بھی ناقابل فہم ہے۔
مغربی کنارے کے مسلمان ایسے مظالم کے خلاف سینہ سپر ہیں اور اپنی آواز حق بلند کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایک دس روزہ معرکہ کوئی دو برس قبل بھی ہوا تھا جب اسرائیل نے غزہ کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے تھے۔
اب مسجد اقصیٰ کے اندر گھس کر حملہ ظاہر ہے ایک حواس باختگی کا مظہر ہے وہاں نمازیوں کو دوران نماز نہ صرف روکا گیا بلکہ انہیں وحشیانہ طریقے سے شدید تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ زخمی افراد کے انخلاء کے لئے آنے والی ایمبولنسوں کو بھی روکا گیا۔ پولیس محض تماشائی بنی رہی بلکہ الٹا مظلوم فلسطینیوں کے اوپر آنسو گیس بھی برساتی رہی۔ پولیس نے لگ بھگ 350 نمازیوں کو گرفتار بھی کر لیا۔ اس مسجد میں عبادت کی اجازت مسلمانوں کو ہے دیگر مذاہب کے لوگ صرف اس کا دورہ کر سکتے ہیں۔
جبکہ کئی مرتبہ غیر مسلم اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی عبادات کا درود شروع کر دیتے ہیں جو صریحا ”قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اردن کا ایک ادارہ وقف ہے جو ان مقامات کی سپرداری کرتا ہے۔ اس نے بھی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ باہمی امن و سلامتی کی شدید خلاف ورزی ہے اور ان کی روک تھام کا عالمی برادری کو نوٹس لے کر دو ریاستی حل کی جانب کوئی قابل عمل لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا۔ ورنہ خون ریزی کے واقعات روز افزوں رہیں گے۔

