زندگی میں رنگ نہ رہیں تو کیا ہو؟
وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں
کتنے شاندار رنگ ہیں جو ہماری دنیا کو سجاتے ہیں! وہ ایک مصور کا خواب، عکاس کا سپنا، سیاح کا تصور اور شاعر کا تخیل ہے۔ فطرت کا رنگین حسن واقعی دل موہ لینے والا ہے، جب نمود سحر، زمین کو سنہری روشنی سے نہلاتا دیتی ہے تو ہر رنگ اپنے وجود کو آشکار کر دیتا ہے، صبح کی نرم چمک ہو یا غروب آفتاب کی آگ سب عیاں ہو جاتے ہیں۔
دل فریب صبح کس نے نہیں دیکھی؟
جب درختوں پر زمرد کے پتے دن کی روشنی کے نرم لمس سے بیدار ہو کر آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے انگڑائی لے رہے ہوتے ہیں، جب زندگی کے عظیم ڈرامے میں اداکاری کے لیے اسٹیج روشن ہو رہا ہوتا ہے۔ جب دن کا پردہ گرتے ہی رات آبنوس کی چادر اوڑھ لیتی ہے، ضیائے قمر، ستاروں کی تابانی، سیاہی میں رخنہ ڈالے چاندی کا شہتیر تخلیق کر دیتی ہے کے آؤ نئے کرداروں آؤ اپنا کردار ادا کرو۔ دوسری طرف شجر کا آپس میں راز و نیاز ماحول میں سیل و حوادث کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔
کیا ہو اگر رنگ ہماری زندگی سے غائب ہو جائے؟
غروب آفتاب کی سرخی نہ رہے، سبز وادیاں، پھولوں کے باغ، نیلا سمندر، پیلا سورج، کالی رات کچھ نا رہے۔ بہار کے موسم کی خوشی ہو یا خزاں کے پتوں کا دکھ سب گم ہو جائے گا۔
کتنا اہم کردار ہے ان رنگوں کا ہماری زندگی میں؟
جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے
زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے
ہم اپنی زندگی پر ان کی تاثیر سے کیسے انکار کر سکتے ہیں؟
ان کے پاس ہمیں آسودہ کرنے کی قوت ہے جب ہم بے آرام، مضطرب، بے چین و بے قرار ہو، یہ ہمیں حوصلہ جرات و جسارت دیتے ہیں جب ہم نا امید، دلبرداشتہ، رنجیدہ و مغموم ہو۔
دوسری طرف نابینا افراد پتوں کی سرسراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ، سورج کی گرمی، ہوا کی ٹھنڈک، سب کا احساس رکھتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی رنگ نہیں دیکھ سکتے ہیں کتنا خوفناک ہیں ہمارے لئے یہ احساس اگر ہم قدرت کے رنگ دیکھنے سے محروم ہو۔
کیا آپ کسی ایسی دنیا کا تصور کر سکتے ہیں جہاں پیلا سورج مکھی، لال گلاب، سفید چنبیلی، نارنجی گیندہ، یا سرخ نرگس کے پھول سے ان کے متحرک رنگ چھین لیے جائے؟


