سیاست داں اور سپریم کورٹ

ویسے تو یہ ٹرینڈ پتہ نہیں کب سے چلا آ رہا ہو گا لیکن زیر بحث وہ چیز یا وہ مسئلہ آتا ہے جو لمحہ موجود میں برپا یا سرگرم عمل ہو جیسے کہ آج کل سیاستداں اور سپریم کورٹ آمنے سامنے ہیں اور آئے دن جلسے جلوسوں، پریس کانفرنسز میں سپریم کورٹ کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ سپریم کورٹ کو ایسا کرنا چاہیے سپریم کورٹ کو ویسے کرنا چاہیے۔
بطور وکیل میرا تجربہ ہے کہ سب سے چھوٹی کورٹ یعنی جوڈیشل مجسٹریٹ یا سول جج کی عدالت کو بھی کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتا اور نہ کسی عدالت کو ڈکٹیٹ کیا جاتا ہے۔
آج اخبارات میں واضح شہ سرخیوں کے ساتھ فواد چودھری کا بیان شائع ہوا ہے جو انھوں نے اپنے خط میں صدر عارف علوی کو لکھا ہے جس میں واضح طور پر سپریم کورٹ کو ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگراں حکومتیں مدت پوری کر چکیں ہیں سپریم کورٹ ایڈمنسٹریٹر مقرر کریں، پریس ریلیز عدلیہ کا کام نہیں، قوم آپ کے فیصلوں کی منتظر ہیں۔
فواد چودھری چونکہ خود وکیل ہیں اور ان کو خود پتہ ہونا چاہیے کی پریس ریلیز اگر عدلیہ کا کام نہیں تو کیا ایک سیاستداں یا پھر کسی عام شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ بغیر کسی درخواست کے یا بغیر کسی تحریری استدعا کے کوئی عدالت کو مخاطب کر سکتا ہے بلکہ تحریری استدعا میں بھی پہلے دیکھا جاتا ہے کہ درخواست کنندہ کی یہ متذکرہ استدعا قابل سماعت ہے بھی کہ نہیں؟
کسی بھی عدلیہ کے ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کے تقاضوں کے مطابق کوئی بھی شخص زبانی طور پر کسی جلسے یا کسی مجمعے میں عدالت کو مخاطب ہو کر کوئی تجویز یا استدعا نہیں کر سکتا ہے۔
ایک پروفیشنل وکیل کو یہ بھی تجربہ ہوتا ہے کہ ایک التوا کی استدعا بھی زبانی نہیں ہوتی اس کے لئے ٹرائل کورٹ میں درخواست دی جاتی ہے۔ اور یہ بھی ایک پروفیشنل وکیل کے تجربے میں شامل ہوتا ہے کہ آرگومنٹ کے بعد جب ایک وکیل کیس لاز پیش کرتے ہیں تو باقاعدہ ایک سٹیٹمنٹ کے ساتھ عدالت میں جمع کراتے ہیں۔
اگر یہ وتیرہ بنایا جائے جو کہ آج کل بنایا گیا ہے تو پھر لوگ باہر سے خالی زبانی جمع خرچ کے تحت عدالت کو مخاطب کیا کریں گے اور تحریری استدعا نہ ہونے سے کوئی شنوائی نہ ہو سکے گی اور کسی بھی قسم کے ریلیف ملنے کے چانسز صفر بٹا صفر ہونے کی وجہ سے جلسے میں عوام کی تالیوں کی گونج کا ریلیف ان کے ساتھ البتہ ضرور جا سکے گا۔
اس کی دوسری مثال یہ بھی دی جا سکتی ہے کہ ایک لیڈر اگر جلسے جلوسوں میں کسی خاص قانون کے بنانے کے لئے قومی اسمبلی کے سپیکر اور سینٹ کے چیرمین کو آئے دن پکارتے رہیں اور سیشن کے دوران کوئی مسودہ قانون ٹیبل نہیں کرتا ہے تو کیا سپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین ان کے ان نعروں پر قانون بنا سکیں گے۔
میرے خیال سے یا پھر کسی کے بھی خیال سے ہرگز نہیں۔ کیونکہ قوانین بنانے کا اپنا طریقہ ہے جس کو اپنانا پڑتا ہے اور اس طریقے یا پروسیجر کے بغیر کوئی قانون بنانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
جیسے وکیل کا کام عدالت میں اپنا کیس پلیڈ کرنا ہوتا ہے اور بار روم میں تقریر کرنے سے کیسز پلیڈ نہیں کیے جا سکتے، بالکل اسی طرح ایک سیاست داں کی ذمہ داری بھی یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں جائے اور اپنا موقف پیش کریں۔ جلسے جلوسوں میں زبانی جمع خرچ چل جاتا ہے بلکہ چلایا جاتا ہے لیکن عدالت میں زبانی جمع خرچ نہیں چلتا کیونکہ ادھر صرف وٹ از دی لاء سے کام نہیں چلتا بلکہ وٹ از دیٹ لاء سے پروسیڈنگ کو مکمل کیا جاتا ہے۔
ویسے آج کل دونوں جانب سے جو ہو رہا ہے وہ کوئی خوش آئند پریکٹس نہیں ہے۔ حکومت عدلیہ سردمہری اور اپوزیشن اور عدلیہ سر زوری دونوں قابل ستائش یا قابل تحسین بالکل بھی نہیں ہیں لیکن یہ ہماری تاریخ رہی ہے اور اس وقت پھر شاید تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔

