قانون مفروضوں پر نہیں چلتا!


جس طرح ایڈمنسٹریشن آف جسٹس میں سنی سنائی شہادت کی کوئی وقعت نہیں ہوتی بالکل اسی طرح قانون مفروضوں یا فرض کی ہوئی باتوں پہ نہیں چلتا ہے اور نہ فیصلے کرتا ہے۔ جس کے لئے مشہور مقولہ ہے کہ دئیر از نو پریزمشن ان لاء۔

ضمانت قبل از گرفتاری یا حفاظتی ضمانت پاکستان کے کسی بھی شہری کا ضابطہ جاتی ریکوائرمنٹ ہے۔ لیکن کوئی بھی شہری اس وقت تک عدالت میں اس کی استدعا نہیں کر سکتا جب تک ان کے خلاف ایف آئی آر یا کسی ادارے کی جانب سے کال اپ نوٹس جاری نہ کیا گیا ہو جیسے نیب کا ادارہ حالیہ ترمیم سے پہلے کیا کرتا تھا اور ملزم جن کے خلاف کال اپ نوٹسز جاری ہو چکے ہوں وہ نیب میں پیش ہونے سے پہلے ضمانت قبل از گرفتاری یا حفاظتی ضمانت کا سہارا لیا کرتے تھے۔

پاکستان پینل کوڈ کے زیر دفعہ تین سو ننانوے اور چار سو دو میں ایف آئی آر کٹتی تھی بلکہ کٹتی بھی ہے اور اس میں پولیس لکھتی تھی یا لکھتی ہے کہ ملزمان فلاں قبرستان میں ڈکیتی کی نیت سے جمع ہو گئے تھے جن کو مخبر خاص کی موصولہ اطلاع پر گرفتار کیا گیا۔

لیکن، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کی ان دفعات سے متعلق متعدد نظائر موجود ہیں جس میں یہ ہیلڈ کیا گیا ہے کہ ارادے کا کوئی پیمانہ نہیں جو یہ طے کریں کہ فلاں شخص یا اشخاص آنے والے لمحے میں کیا کرنے والے ہیں۔ اور کینز پرنسیپلز آف کریمینالوجی میں سٹیفن لیکاک لکھتے ہیں کہ ”شیطان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے تو انسان کیسے پہلے یہ طے کر سکتا ہے کہ فلاں شخص کا ارادہ فلاں کام کے کرنے کے لئے یہ تھا“ ۔

جب الٹرا ساؤنڈ نہیں ہوا کرتا تھا تو یہ طے نہیں پاتا تھا کہ آنے والا تخلیق نر ہے یا مادہ اور نام تب اس پر رکھتے تھے جب ان کی تخلیقیت اسٹیبلشڈ ہو جاتی تھی۔

یہ اس لئے کہ مفروضہ ضروری نہیں کہ درست ہو غلط بھی ہو سکتا ہے اور اکثر غلط ہی نکلتا ہے۔ ہر فرض کی ہوئی بات کہ بنیاد ہی شک پر ہوتی ہے اور شک کا واحد فائدہ ہے جو ملزم کو پہنچتا ہے۔

یہ اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد اور مدعا یہ تھا کہ کسی نے پوچھا ہے کہ اگر کوئی قانون جو ابھی بنا ہی نہ ہو کیا اس کا راستہ روکنے کی لئے کوئی قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے؟ تو اس کا سادہ اور فی الفور جواب تو نفی میں ہے اور مزید یہ کہ قانون بننے یا بنانے کی پہلی رکاوٹ خود قانون کے اندر ہوتی ہے کہ ایسا قانون ہر گز نہیں بننا چاہیے یا نہیں بنانا چاہیے جو آئین سے متصادم ہو، جو معاشرتی اخلاقیات کے خلاف ہو اور جس کا استعمال قانون اور معاشرتی اقدار کو پائمال کرتے ہوں یا سرے سے قابل قبول ہی نہ ہو۔

معاشرتی طور پر جواز ہر بات اور ہر کام کا پیش کیا جاسکتا ہے لیکن جواب ہر کام یا ہر بات کا نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس لئے کہ جواز میں مثبت اور منفی دونوں پہلوں ہوتے ہیں جبکہ جواب میں ایک ہی پہلو ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہی مثبت ہے کیونکہ اگر وہ مثبت نہ ہو تو وہ جواب نہیں کہلائے گا البتہ جواز کے طور پر رکھا جاسکتا ہے۔

ویسے تو ہونے کو ہر کام ہو سکتا ہے۔ ایک بندہ باوضو ہو کر کچرے کے ڈھیر پر مصلا بچا کر نماز پڑھنے لگا کسی اللہ کے بندے نے ان کو روکنا چاہا کہ ڈھیران پر نماز نہیں ہوتی۔ وہ جواب میں بڑے غصے سے بولے دیکھ میں پڑھتا ہوں اور پڑھنے کے بعد روکنے والے شخص سے مخاطب ہوئے دیکھا! ڈھیران پر نماز ہوتی ہے کہ نہیں؟ اس لئے اہل عقل اور اہل دانش نے یہ طے کر رکھا ہے کہ جواز منفی ہو سکتا ہے لیکن جواب منفی نہیں ہو سکتا جواب ہمیشہ مثبت ہی ہوتا ہے۔

تو جن صاحبان نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر قانون ابھی بنا ہی نہ ہو یا کسی قانون کا کوئی تخلیقی وجود ہی نہ ہو اور ابھی تخلیقی پروسس میں ہو تو کیا اس کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی مفروضے کی بنیاد پر ہو سکتی ہے توان کو جواباً عرض ہے کہ وہ میرے اس تجزیے کو پڑھنے کے بعد خود کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہوں گے کہ کارروائی ہو سکتی ہے یا نہیں لیکن جواز اور جواب کے فرق کو ضرور مد نظر رکھیں۔

 

Facebook Comments HS