پاکستان کے سیاسی و معاشرتی مسائل کا حل


سیاست انسانی معاشرے کا ایک بہت اہم شعبہ ہے۔ قوم کی اجتماعی قیادت کرنا ان کے لیے نظام حکومت قائم کرنا اس نظام حکومت کا نظم اچھے طریقے سے چلانا اور اجتماعی معاملات میں قوم کی راہنمائی کرنا سیاست کہلاتا ہے۔ ہر قسم کے سیاسی نظام میں قیادت کا اہل اور ایماندار ہونا بنیادی شرط ہے۔ اگر سیاسی قیادت اہلیت اور دیانتداری کے معیار پر پورا نہیں اترتی تو نظام کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح سیاست و حکومت کا تسلسل ہی معاشی خوشحالی کا ضامن ہوتا ہے۔

دو تین سالہ حکومتیں اور ادھورے منصوبے صرف بدحالی لاتے ہیں نہ کہ خوشحالی۔ ایک اچھے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ معاشرتی اکائیوں کے مثبت رویے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ قانون، انصاف اور شعور معاشرے کے اہم ستون ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی بقا بہتر تعلیم، شعور، مثبت سوچ اور اچھائی و برائی کی تمیز میں پنہاں ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایسے معاشرے سے یکسر محروم ہیں جہاں روایات اور اقدار کا درس دیا جاتا ہو۔ جہاں عہد کی پاسداری کی جاتی ہو جہاں دوسروں کی رائے کا احترام کیا جاتا ہو۔

بلکہ یہاں معاملہ معاشرتی تقاضوں کے بالکل بر عکس ہے۔ یہاں خود غرضی، لالچ اور دھوکہ دہی عام ہیں۔ عدم رواداری اور عدم برداشت نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ عدم مساوات، عدم برداشت، بے انصافی، خود غرضی، قانون شکنی اور فرائض کی عدم ادائیگی بھی مسائل اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ رویوں کو درست کر کے ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ بد قسمتی سے قیادت کا فقدان ان مسائل کو اور گمبھیر بنا رہا ہے۔ جس معاشرے کی سیاسی قیادت میں علم و دانش، عقل و شعور اور سیاسی بلوغت کا فقدان ہو گا وہاں مہذب نسلیں پروان نہیں چڑھتیں۔

آج ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کی سوچ شخصیات اور جماعتوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ قرآن کی آیات اور شرعی اصولوں کو بھی اپنی جماعتوں کے حق یا مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ شرک اور نفاق سے بچائے۔ اگر ہم نے حالات سے سبق نہ سیکھا اور بطور معاشرہ اپنی اجتماعی اصلاح نہ کی تو کوئی بعید نہیں کہ ایک دن اسلامی ممالک بھی ہم سے لاتعلقی کا اظہار کر دیں اللہ تعالیٰ ہمیں انفرادی و اجتماعی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔

موجودہ ملکی مسائل میں تعلیمی پسماندگی اور لاعلمی سر فہرست ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کی کلیدی حیثیت ہے۔ جس قوم نے تعلیمی میدان میں قدم آگے بڑھایا اس نے ترقی کی منزلوں کو طے کیا ہے اور جو قوم جہالت کا شکار رہی ہے وہ ہمیشہ پس ماندہ رہی ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ علم و آگاہی کے تمام ذرائع سے آبادی، میونسپل سروسز، صحت، کھیل، تعلیم، نصاب، سائنس و ٹیکنالوجی، مہنگائی، داخلہ و خارجہ پالیسی، معیشت، معاشرت، توانائی، زراعت، پانی، کشمیر، افغانستان، ایران اور سی پیک جیسے موضوعات پر مثبت بحث و مباحثہ ہو تاکہ نوجوان نسل میں جدید اور ضروری علوم سیکھنے کا شوق پیدا ہو۔

نوجوانوں کو سیاسی عمل کا حصہ بننے سے پہلے سیاست سے متعلق علم و شعور حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جلسے جلوسوں میں جاکر تشدد کا حصہ بننے کی بجائے مثبت بحث و مباحثے کا کلچر فروغ دے سکیں۔ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے زیادہ تر نوجوان آئین، سیاست، معاشرت اور معیشت سے قطعی نا آشنا ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ خود تشدد کا شکار ہوتے ہیں یا تشدد کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آئینی اداروں، سیاسی جماعتوں اور صحافتی اکائیوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ علم و آگاہی کو عام کرنے اور معاشرے کو تشدد سے پاک کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

علم کے تمام شعبوں میں تحقیق پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جدید علوم سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اسی طرح معاشی، سیاسی و انتظامی معاملات میں درپیش حالات بھی فوری اصلاح کے متقاضی ہیں۔ معیشت دور حاضر کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی میں بہتری کے لیے مضبوط معیشت ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ معاشی استحکام کے لیے سیاسی قوتوں کا باہمی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے تمام معاشی اکائیوں اور سرگرمیوں کو رجسٹرڈ کیا جائے اور ٹیکس کا دائرہ کار مراعات یافتہ طبقے تک بڑھایا جائے تاکہ قرضوں کا بوجھ کم ہو اور ٹیکس پر انحصار زیادہ ہو۔

بد انتظامی، بدعنوانی اور کرپشن ملکی مسائل کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ دنیا بھر میں کرپشن پکڑنے سے زیادہ کرپشن روکنے پر توجہ دی جاتی ہے کیونکہ کرپشن ہونے کے بعد اس کو پکڑنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کرپشن ہونے سے پہلے اسے روکنا آسان ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ کرپشن روکنے کے لئے نظام میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح ملک کو سیکیورٹی پریشر سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک موثر بارڈر مینجمنٹ سسٹم متعارف کروایا جائے تاکہ سمگلنگ ناجائز اسلحہ اور منشیات پر قابو پایا جا سکے۔

اس سے ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ اسلحہ و منشیات کا کاروبار اور اس کے ساتھ ہر لحاظ سے منسلک افراد پاکستان میں بہت بڑا انسانی المیہ ہیں۔ یہاں نسلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ بڑے بڑے گبھرو جوان اس کاروبار کی بھینٹ چڑھ گئے۔ منشیات کا کاروبار کرنے والے سادہ اور عام لوگ نہیں ہیں۔ لیکن افسوس یہ موضوع ہمارے ہاں زیر بحث نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لیے مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک صحت من معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو نشے جیسی لعنت سے دور کیا جائے تاکہ وہ معاشرتی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکیں۔

ملک کو ہمہ قسم کے بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوامی رائے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح عوام کی ملکی منصوبہ بندی میں شمولیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو ملکی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں ایک موثر کردار دیا جائے جو مقامی حکومتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مقامی حکومتوں کا نظام کسی بھی ملک میں بقائے جمہوریت کا ضامن ہوتا ہے اس نظام میں عدم تسلسل متوسط طبقے کی سیاست میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے یہ سیاسی نظام کی واحد خرابی ہے جو سیاست میں ادارہ جاتی مداخلت کی راہ ہموار کرتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مقامی حکومتوں کا موثر نظام متعارف کروایا جائے تاکہ عوام الناس کا نظام پر اعتماد بحال اور مضبوط ہو اور وہ ملکی خوشحالی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Facebook Comments HS